نواز شریف کی واپسی کے لئے حکومت کا برطانیہ سے رابطہ
- اتوار 23 / اگست / 2020
- 4820
وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا ہے کہ پاکستانی حکومت نے برطانوی حکومت کو نواز شریف کی واپسی کے لئے خط لکھا ہے۔ ضمانت ختم ہونے کے بعد حکومت نواز شریف کو مفرور سمجھتی ہے۔
شہزاد اکبر نے یہ نہیں بتایا کہ مارچ میں نواز شریف کی واہسی کے لئے لکھے گئے خط کا برطانوی حکام نے کیا جواب دیا ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف عدالتی ضمانت پر گئے تھے لیکن اس کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ وہ سزا یافتہ مجرم ہیں جنہیں پاکستانی جیل میں ہونا چاہئے۔
ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی اپیلیں یکم ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی کازلسٹ کے مطابق سماعت کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔
بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی شامل ہوں گے جو یکم ستمبر کو معاملے کی سماعت کریں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اپیل کو بھی یکم ستمبر کے لیے مقرر کیا تھا۔
العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر بھی جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ اسی بینچ نے 29 اکتوبر 2019 کو نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
خیال رہے کہ 6 جولائی 2018 کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال جبکہ کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔