عمران خان حکمرانی کے دو برس

وزیر اعظم عمران خان کی حکمرانی کے دو برس مکمل ہوگئے۔ وہ  بڑے سیاسی دعوے اور انقلابی تبدیلی سے  ایک نئے پاکستان کی تشکیل کی بنیادپر اقتدار کا حصہ بنے تھے۔ حکومت کے پاس پانچ برس کا مینڈیٹ ہوتا ہے او راس کی اچھی یا بری حکمرانی کا تجزیہ دو برسوں کی بنیاد پر قبل ازوقت ہوگا۔

لیکن ان دو برسوں کو بنیاد بنا کر ہم حکومت کی سمت، حکمت عملی وپالیسیوں اور طرز حکمرانی کے معاملات کو دیکھ کر کچھ بنیادی نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔اگرچہ حکومت کو دو برس بیت گئے، لیکن اس میں سے چھ ماہ کا عرصہ تو کرونا جیسے سنگین بحران میں ہی گزرگئے۔ یہ بحران قومی نہیں بلکہ عالمی  بحران  ہے۔ اس بحران نے ہر ملک کی سیاست، سماجیات، معیشت سمیت ترقی سے جڑے تمام امور کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

عمران خان کی حکومت  چند بنیادی نعروں کی بنیاد پر اقتدار میں آئی تھی۔ اول سخت او رکڑا احتساب او رکرپشن کا خاتمہ جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔دوئم ادارہ جاتی اصلاحات جس میں پولیس، انتظامیہ، بیوروکریسی، ایف بی آر، سوئم معاشی صورتحال میں بہتری پیدا کرنا اور عام آدمی کی زندگی میں معاشی ترقی کے نئے امکانات کو پیدا کرنا، چہارم خارجہ پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں جس میں پاکستانی مفاد کو اہمیت دی جائے گی، پنجم مضبوط او رمربوط مقامی حکومتوں کی سیاسی و جمہوری نظام، ششم حکمرانی کے انداز میں سادگی اور کفایت شعاری کو اپنا احجنڈا بنانا تھا ۔عمران خان کی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ وہ اپنے اقتدار کے پہلے سو دنوں میں ان تمام منصوبوں کی ابتدائی ترقی کی شکل بھی پیش کردیں گے۔ان کے بقول ان کے پاس اچھی حکمرانی کے لیے نہ صرف دو سو لوگوں کی ماہر ٹیم موجود ہے بلکہ ملکی ترقی کا ایک مکمل اور جاندار روڈ میپ بھی موجود ہے۔

ایک بات تسلیم کرنا ہوگی کہ عمران خان کی حکومت اپنی اتحادی جماعتوں کی بے ساکھی کی بنیاد پر بنی تھی جس میں مرکزاور پنجاب دونوں شامل ہیں۔ اتحادی جماعتوں کے ساتھ انقلابی سیاست کرنا عمومی طور پر مکمل نہیں ہوتا۔ اسی طرح عمران خان کے اردگرد بھی روائتی سیاست سے جڑے افراد کا ایک  ہجوم ہے۔ ایسے ہجوم سے بہت زیادہ انقلابی او رکڑوی تبدیلیاں کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ان دو برسوں میں بھی ان کی اہم اتحادی جماعتیں وقتاً فوقتاً عمران خان کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتے رہے ہیں او رکئی بار ان کے اختلافات کی نوعیت بھی سنگین دیکھنے کو ملتی ہے جو یقینی طور پر حکومت کو بچانے میں سمجھوتے کی سیاست کو تقویت دیتا ہے۔

ایک اہم بات عمران خان نے ان دو برسوں کے اقتدار میں پاپولر سیاست کرنے کی بجائے مشکل اور کڑے انداز میں حکمرانی کی کوشش کی ہے۔یعنی پہلے ہی برس میں ان کے اتحادی جماعتوں، بیوروکریسی، حزب اختلاف، میڈیا، کاروباری طبقہ او رسرمایہ دار طبقہ سے کھل کر انھیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حزب اختلاف سے وہ کسی بھی طرح کی مفاہمت کے لیے تیار نظر نہیں آئے او رلگتا ہے کہ وہ حزب اختلاف کے تعاون کے بغیر ہی حکومت چلانا چاہتے ہیں۔ ایک بات تسلیم کرنا ہوگی کہ انہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود خود کو  نڈر سیاستدان کے طور پرپیش کیا۔

 کرونا بحران میں ان پر شدید تنقید ہوئی لیکن جو حکمت عملی انہوں نے اختیار کی اس کے نہ صرف مثبت نتائج ہم سب کو دیکھنے کو ملے ہیں بلکہ کسی نہ کسی شکل میں انہوں نے معاشی پہیہ چلا کر بڑے بحران سے بھی ملک کو بچایا۔اسی طرح کرونا بحران میں ان کی حکومت کا ”احساس پروگرام“ بہت کامیاب رہا او راس سے عام آدمی کو بہت زیادہ معاشی ریلیف ملا۔ اس پروگرام کی تعریف ہمیں  دنیا کے میڈیا میں بھی سننے کو ملی ہے۔

خارجہ پالیسی میں اہم بات حکومت اور فوج کا ایک پیچ پر ہونا تھا۔ ماضی میں دنیا میں ہم خارجہ پالیسی کو سیاسی اور فوجی بیانیہ کی بنیاد پر مختلف انداز میں پیش کرتے تھے جو ٹکراؤ کی کیفیت کو نمایاں کرتا تھا۔ لیکن ان دوبرسوں میں ہمیں نہ تو ٹکراؤ نظر آیا او رنہ ہی دونوں فریقین میں بداعتمادی دیکھنے کو ملی۔ اس کا نتیجہ عالمی سطح پر ایک ریاستی بیانیہ کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔ افغانستان کے بحران کے حل کی طرف مثبت پیش قدمی، مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کی عالمی حیثیت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنا، چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مضبوط تعلقات، سی پیک کی طرف بڑی پیش رفت، بنگلہ دیش سے بگڑے تعلقات میں بہتری کے لیے نئے امکانات کا پیدا ہونا، ایران کے ساتھ تعلقات، ایران او رسعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں توازن پر مبنی پالیسی اچھی حکمت عملی ہے۔ اہم بات امریکہ اور چین دونوں محاذ پر پاکستان کی اہمیت و افادیت کا قائم رہنا اچھے پہلو ہیں۔

معیشت اگرچہ ایک بڑا بحران ہے او رخاص طو رپر عام افراد کے تناظر میں لوگوں کو کوئی معاشی ریلیف نہیں ملا،بلکہ  لوگوں کو ے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب حالیہ دنوں میں تعمیرات کے کاروبار میں دی جانے والی سہولتوں  سے  تعمیراتی شعبو ں کو  ریلیف ملا ہے۔ اسی طرح سیاحت کے کاروبار کا احیا اچھے پہلو ہیں۔ حالیہ دنوں میں جس بڑے پیمانے پر تارکین وطن نے پیسہ بھیجا ہے ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارا کم ہوا ہے وہ بھی امید کا پہلو ہے۔ اسی طرح سے ہم نے ماضی کے مقابلے میں قرضہ اور سود کی ادائیگی کی ہے۔اسی طرح کمزور طبقات کے لیے احساس پروگرام، کفالت پروگرام، کامیاب جوان پروگرام،گھروں کی تعمیر جیسے اہم منصوبے شروع کیے گئے ہیں، لیکن کامیاب جوان پروگرام اور گھروں کی تعمیر جیسے پروگرام کی رفتار بہت سست ہے جس سے حکومتی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔البتہ لاہور میں ایک نیالاہور منصوبہ اہم ہے او راس سے یقینی طور پر کاروبار اور معاشی ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں جو عام آدمی کو بھی ریلیف دے سکتا ہے۔

 حکومت کی ناکامیوں  کی فہرست بھی طویل ہے۔ اول ملک میں مقامی حکومتوں کا نظام عملی طور پر مفلوج ہے او رعمران خان اپنی تمام تر سیاسی کمٹمنٹ کے باوجود صوبو ں یا ضلعی سطح پر مقامی حکومتوں کا نظام کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں حکمرانی کا بحران سنگین ہے اور مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی حکمرانی کے بحران کو اور زیادہ سنگین کررہی ہے۔ اسی طرح نئے روزگار کی فراہمی بھی کہیں دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ بے روزگاری او ربالخصوص نوجوان طبقہ اپنے مستقبل کے بارے میں خاصہ مایوس نظر آتا ہے۔ وزیر اعظم کا دعوی تھا کہ ان کے پاس دوسو اہل افراد موجو دہیں وہ بھی غلط ثابت ہوا۔ با ر بار یہ کہنا کہ ہم تجربہ کار نہیں اس لیے ہم سے  غلطیاں ہوئی ہیں، کوئی بڑی دانش مندی نہیں۔مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں صوبائی حکومتوں کی ناکامی بھی اہم ہے اور اس عمل نے وفاقی حکومت کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

پولیس اور ادارہ جاری سمیت ایف بی آر کی اصلاحات میں بھی حکومت ابھی تک کوئی بڑا کام نہیں کرسکی ہے بلکہ اس میں ا سمجھوتوں کی سیاست غالب نظر آتی ہے۔ احتساب جو عمران خان کی حکومت کا اہم نکتہ تھا،لیکن ان دوبرسوں میں احتساب کا عمل کوئی بڑے مثبت نتائج نہیں دے سکا،بلکہ حکومت میں شامل افراد جو نیب کی زد میں آتے ہیں وہ حکومتی چھتری میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ چینی اور آٹا کمیشن تو بن گیا لیکن احتساب اس میں بھی دیکھنے کو نہیں مل سکا۔عمران خان کی سیاسی ٹیم میں بھی کافی مسائل دیکھنے کو ملے ہیں او ران کی ٹیم کے بیشتر افراد اپنی جماعت یا حکومت کے مقابلے میں اپنی ذاتی تشہیر کرتے ہیں یا خود اپنی حکومت کے لیے مسائل پیدا کرنے کاسبب بنتے ہیں۔کہا جاسکتا ہے کہ میرٹ پر تقرریوں کے بھی مسائل دیکھنے کو ملے ہیں۔

اب عمران خان کی حکومت کا دعوی ہے کہ 2021میں ہم زیادہ بہتر ترقی کے اہداف حاصل کرسکیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کے پاس اب وقت زیادہ نہیں کیونکہ اگر وہ اس نئے برس میں کچھ زیادہ نہ کرسکے او ران کی حکومت کی کامیابی کی ساکھ بحال نہ ہوسکی تو ان کے لیے اپنی کامیابی کے دعوؤں سے عوام متاثر نہیں ہوں گے۔ اس لیے عمران خان کا چیلنج بہت بڑا ہے او راس کے لیے ان کو روائتی طرزکی سیاست کے مقابلے میں کچھ بڑے سیاسی، انتظامی اور معاشی فیصلے کرنے ہوں گے۔   بحران  کی کیفیت کینسر جیسے مرض کی ہے،اس کا علاج ڈسپرین کی گولی سے ممکن نہیں ہوگا۔