کیا عمران خان آخری نامزد وزیر اعظم ہوں گے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 23 / اگست / 2020
- 8820
تحریک انصاف اور اس کی حکومت کے نمائیندے اپنی حکمرانی کے دو سال مکمل ہونے کے بعد یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ ان دو برسوں میں تمام مشکلات کے باوجود عمران خان کی قیادت میں ملک نے اہم معاشی، سماجی ، سفارتی اور سیاسی سنگ میل عبور کئے ہیں۔ البتہ اس قصیدہ گوئی کی تان اس فقرے پر ہی ٹوٹتی ہے کہ وزیر اعظم کسی کو ’این آر او ‘ نہیں دیں گے۔
یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے جس میں وزیروں اور خود وزیر اعظم کے پاس کارکردگی کے نام پر این آر او نہ دینے کا جواب نوک زبان رہتا ہے۔ اس ایک دلیل کے علاوہ ملکی معیشت میں ترقی، سفارتی شعبہ میں پیش رفت یا سیاسی طور سے ہم آہنگی نام کا کوئی اقدام پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے چئیر مین عمران خان دو برس تک اقتدار میں رہنے کے بعد بھی یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ ایک جمہوری سیٹ اپ کا حصہ ہوتے ہوئے اپوزیشن کی اہمیت و ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں بھی یہ ضروری ہوتا ہے کہ سیاسی اشتراک عمل کا کوئی فارمولا تیار کیا جائے۔ جب سب سیاسی پارٹیاں مل جل کر قومی منصوبوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد پر اتفاق رائے کرتی ہیں تب ہی ترقی کا ماحول پیدا ہوتا ہے ، بے یقینی ختم ہونے سے سرمایہ داروں کو اعتماد حاصل ہوتا ہے اور داخلی سکون و اطمینان سے دوست دشمن ملکوں کو یکساں طور سے یہ پیغام بھیجا جاتا ہے کہ ملک اندرونی طور سے مضبوط ہے اور بیرونی اندیشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔
پاکستان کے موجودہ بحران میں اسی ایک چیز کا فقدان حالات کو ملک کے لئے مشکل اور ناقابل برداشت بنارہا ہے۔ انتہا پسندی سے لے کر احتساب تک کے سوال پر حکومت اور اپوزیشن کا اختلاف عیاں ہے۔ طے شدہ امور کو دوبارہ چھیڑنے اور ملک کے متفقہ پارلیمانی آئینی نظام کو تہ و بالا کرنے کے نعرے اسے مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ دو سال تک حکومت کرنے کے بعد بھی جب کسی حکومت کو ’عذر‘ کی تلاش رہے اور وہ عذر اپوزیشن کو عاجز کرنے کے واحد ہتھکنڈے تک محدود ہو تو ایسی حکومت کی بدحواسی اور پریشانی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت اور تحریک انصاف کے حامیوں کے پاس ہر مسئلہ کا ایک ہی جواب ہے حالانکہ ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے پالیسی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس گزشتہ ایک ہفتہ سے عمران خان کی قیادت میں حکومت یہ واضح کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ اس کی سب سے بڑی کامیابی ’ایک پیج‘ کی سیاست ہے یعنی فوج ہر مرحلے اور فیصلے میں حکومت کے ساتھ ہے ۔ یا پھر سابقہ حکمرانوں کی لوٹ مار کے قصوں کو نئے الفاظ اور الزامات میں پیش کرنا حکومت اور عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کی ناکامی سے متعدد سوال سامنے آئے ہیں۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں عمران خان آخری ’نامزد‘ لیڈر ہوں گے اور کیا ملک کی مقتدرہ نے 2018 کے انتخابات میں کئے جانے والے تجربہ کے بعد یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ اگر جمہوری نظام سے ہی کام لینا ہے تو سیاسی پارٹیوں کی جوڑ توڑ سے گریز کرنا بے حد اہم ہوگا۔ پسندیدہ سیاسی لیڈر کے طور پر عمران خا ن کا بت تراشا گیا تھا۔ اور میڈیا کی بھرپور معاونت سے عمران خان کو مسیحا بنا کر پیش کیا گیا تھا لیکن دو سال کی مختصر مدت میں اس مسیحا کا بت پاش پاش ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی قابل عمل منصوبہ سامنے نہیں لاسکی۔ اس کا کوئی وزیر اپنی اہلیت اور اپنے شعبے میں استعداد کی دھاک بٹھانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ عمران خان اب تک نعروں کی سیاست کرتے ہوئے عوام کا جذباتی استحصال کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان کے یہ ہتھکنڈے دراصل ایک پیج پر موجود فریق ثانی کو یہ باور کروانے کی سعی ہے کہ وہ اب بھی مقبول سیاسی لیڈر ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے ملک میں سیاسی طوفان برپا ہوجائے گا۔
ملک کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث ’ٹاک آف دی ٹاؤن‘ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے کہ مقتدرہ عمران خان کے خلاف کوئی اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی کیوں کہ ایک تو ان کا کوئی متبادل نہیں ہے ۔ دوسرے اگر انہیں ’ذبردستی‘ نکالا گیا تو وہ اپنی عوامی مقبولیت کو شدید رد عمل کے طور پر استعمال کریں گے جس سے امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوگا اور ملک کی رہی سہی ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے گی۔ پہلی دلیل اس لحاظ سے کمزور ہے کہ ملک کی اپوزیشن پارٹیاں جن میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی شامل ہیں، کسی قسم کی ان ہاؤس تبدیلی کی حامی نہیں ہیں۔ یعنی وہ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لا کر کوئی نیا وزیر اعظم سامنے لایا جائے۔ اس طریقہ سے ایک تو جمہوریت کے بارے میں اپوزیشن پارٹیوں کی کمٹ منٹ پر سوال اٹھے گا، دوسرے ملک اس وقت جس شدید مالی وسفارتی بحران کا سامنا کررہا ہے ، کوئی بھی شخص اس کا بوجھ اٹھانے پر تیار نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے لیڈر چوہدری شجاعت حسین نے کچھ عرصہ قبل جس صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ملک میں ایسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں کہ کوئی بھی وزیر اعظم بننے پر آمادہ نہیں ہوگا‘۔ اس وقت اہل پاکستان اسی صورت حال کا سامنا کررہے ہیں۔
نئے انتخابات اپوزیشن کی خواہش بھی ہے اور شاید یہی ایک اقدام ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی ابہام اور عملی لاچاری کو ختم کر سکتا ہے۔ تاہم اس آپشن کو اختیار کرنے سے پہلے حکومت، عسکری قیادت اور اپوزیشن کو ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال کا از سر نو جائزہ لینے اور ایسا لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی جس کے بطن سے کوئی نیا بحران جنم نہ لے۔ کسی بحران میں انتخابات ان ملکوں میں مسئلہ حل کرنے اور سیاسی یگانگت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جہاں آئینی نظام مضبوط بنیاد پر استوار ہو اور انتخابی عمل کے سارے فریق مروج آئینی طریقوں کو مانتے ہوں۔ جیسے امریکہ میں نومبر کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ جیسے ناکام اور غیر جمہوری مزاج کا مظاہرہ کرنے والے صدر سے ’نجات‘ حاصل کرنے کی امید کی جارہی ہے۔ یا کچھ عرصہ پہلے برطانیہ میں یورپین یونین سے علیحدگی کے سوال پر پیدا ہونے والے بحران کو نئے انتخابات کے ذریعے حل کرلیا گیا تھا۔
پاکستان میں یہ صورت حال موجود نہیں ہے۔ اول تو بدقسمتی سے پاکستان کی انتخابی تاریخ کا بدترین المیہ یہ رہا ہے کہ ہارنے والی پارٹیوں نے ہمیشہ انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا جبکہ انتخاب کے نتیجہ میں برسر اقتدار آنے والے گروہ یا افراد نے کبھی ان الزامات کی تحقیقات کرواکے انتخابی دھاندلی کا معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ عمران خان 2013 کے انتخاب کے بعد سے مسلسل مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کو دھاندلی کا نتیجہ قرار دیتے رہے تھے لیکن انہوں نے خود 2018 کے انتخابات پر پیدا ہونے والے شبہات دور کرنے کی کوئی مؤثر کوشش نہیں کی۔ ایسے میں مڈ ٹرم انتخاب کے بعد بھی یہی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے کہ سیاسی پارٹیاں نتائج کے بعد ایک بار پھر دھاندلی دھاندلی کھیلنے لگیں۔ پاکستان کے سیاسی حالا ت میں یہ اہم ہے کہ کسی بھی منتخب حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے تاکہ نئے انتخابات مقررہ وقت پر ہوں ۔ اور ان انتخابات کے دوران دھاندلی کے امکانات کو محدود کرنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کسی ٹھوس لائحہ عمل پر متفق ہوسکے۔ تاہم اگر سیاست پالیسی، اصولوں اور منشور کی بجائے ذاتی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن جائے تو ایسی افہام و تفہیم کا امکان موجود نہیں رہتا۔
حکومت کے علاوہ اپوزیشن کے لئے یہ سوچنا اہم ہے کہ مڈ ٹرم انتخابات کا بنیادی مقصد کیا ہوگا؟ اگر انتخابات کا واحد اور ایک نکاتی ایجنڈا عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنا ہے تو یہ ناقص اور بے معنی طریقہ ہوگا۔ انتخابات کا مقصد کسی پالیسی کو تبدیل کرنے اور کسی بحران کا حل ہونا چاہئے۔ یہ ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو مل کر یا اپنے اپنے طور پر ایسا منشور، پالیسی یا لائحہ عمل سامنے لانا چاہئے جس میں صرف حکمران جماعت کی کمزوریاں ہی بتائی جائیں بلکہ یہ بھی واضح ہو کہ درپیش مسائل کو کیسے حل کیا جائے گا۔ اگر تمام اہم جماعتوں کے منشور کا سب سے پہلا یا واحدنکتہ یہ ہو کہ وہ ملکی عسکری اسٹبلشمنٹ کی ’ضروریات‘ زیادہ بہتر طریقے سے پورا کرسکتی ہے ، تو عوام کو چہروں کی تبدیلی سے کیا حاصل ہوگا؟ فی الوقت پاکستان کی اپوزیشن کی طرف سے یہی ایک واضح پیغام سامنے آرہا ہے۔ اس وقت حکمران اور اپوزیشن جماعتوں میں اصل مقابلہ ہی اس ایک بات پر ہے کہ کون فوج کی بہتر خدمت کرسکتا ہے۔ عوام ایسی ملی بھگت اور غیر سیاسی طریقہ سے عاجز آچکے ہیں ۔ بہت زیادہ دیر تک انہیں جھانسہ نہیں دیاجاسکتا۔
دریں حالات ملکی سیاست میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا اسٹبلشمنٹ نے سیاسی انتخاب میں من مانی کرنے اور پسند و ناپسند کے معیار مقرر کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کا فیصلہ کرلیا ہے؟ کیا آئیندہ انتخابات میں یقین سے یہ کہا جاسکے گا کہ کوئی بھی پارٹی صرف عوام کی تائد کی بنیاد پر انتخاب جیتے گی اور حکومت بنائے گی۔ انتخابات کے دوران، پہلے یا بعد میں دباؤ اور لالچ کے ہتھکنڈے اختیار نہیں کئے جائیں گے۔ اور حکومت سازی کے لئے کوئی لیڈر پسندیدہ اور کوئی معتوب قرار نہیں پائے گا۔
جب تک یہ یقین دہانی نہیں کروائی جاتی اور عملی طور سے اس کا مظاہرہ نہیں ہوتا ، انتخابات کے نتیجہ میں کوئی بھی شخص وزیر اعظم منتخب ہو، اسے نامزد ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔ ایسا کوئی بھی لیڈر سیاسی اصلاح کی بجائے ان علتوں کے تسلسل کا سبب بنے گا جن کی وجہ سے ملک موجودہ بحران کا سامنا کررہا ہے۔