کرائسٹ چرچ حملہ کے ملزم کو سزا دینے کے لیے سماعت کا آغاز
- سوموار 24 / اگست / 2020
- 4100
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گزشتہ برس دو مساجد پر حملوں کے ملزم برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے تعین کے لیے عدالتی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔
پیر کو چار روزہ سماعت کے آغاز کے پہلے روز حملے میں بچ جانے والے افراد اور متاثرہ افراد کے لواحقین نے شرکت کی۔ اس موقع پر ٹیرنٹ کو بھی کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ سخت سیکیورٹی میں ہونے والی سماعت کے موقع پر پراسیکیوٹر برنیبی ہاس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ٹیرنٹ نے جتنے افراد کو قتل کیا تھا وہ ان سے زیادہ افراد کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
پراسیکیوٹر عدالت کو اس روز پیش آنے والے واقعات سے آگاہ کرتے رہے۔ اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود ملزم ٹیرنٹ خاموش کھڑا رہا یا ادھر اُدھر دیکھتا رہا۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم دو مساجد پر حملے کے بعد تیسری مسجد کی جانب بڑھ رہا تھا لیکن اس سے قبل ہی اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ٹیرنٹ نے گزشتہ برس مارچ میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملہ کر کے 51 افراد کو قتل کیا تھا جب کہ ملزم پر مزید 40 افراد کو قتل کا ارادہ کرنے کے علاوہ دہشت گردی کے الزام کا بھی عائد ہے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ ٹیرنٹ نے ایک تین سالہ بچے کو والد کی ٹانگوں سے لپٹا دیکھا تو اسے بھی دو گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ملزم کے پاس لوڈڈ بندوقیں اور آگ لگانے کے لیے پیٹرول کا ذخیرہ بھی تھا جس سے وہ مساجد کو آگ لگانے کا بھی ارادہ رکھتا تھا۔
ماہرینِ قانون امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ 29 سالہ ٹیرنٹ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلا شخص ہو گا جسے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق جج کیمرون مینڈر نے سماعت کی کوریج پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ کمرہ عدالت دہشت گردی کے خیالات کے پھیلاؤ کا سبب نہ بن سکے۔
جج کیمرون مینڈر کی جانب سے جمعرات کو ٹیرنٹ کو سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔