سعودی عرب نے پاکستان سے پیسے واپس نہیں مانگے : شاہ محمود قریشی
- سوموار 24 / اگست / 2020
- 9470
شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کی قراردادوں میں کوئی ابہام نہیں ہے اور سعودی عرب کا مؤقف بھی او آئی سی کے مؤقف سے ہم آہنگ ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مستحکم ہیں اور رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا سعودی عرب نے پاکستان کو دیے گئے پیسے واپس طلب کیے ہیں، شاہ محمود قریشی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ ’مفروضہ‘ اور ’قیاس آرائی‘ ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر اپنا مؤقف پوری دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے اور وزیر اعظم عمران نے کہا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ سعودی عرب کے کشمیر پر مؤقف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس بارے میں سوشل میڈیا پر منفی تاثر دیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب کا اس حوالے سے مؤقف بہت واضح ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اسے آگے کیسے لے کر چلنا ہے۔
وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف اور پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری بھی پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ کے ساتھ موجود تھے۔ پاکستانی وزیرِ خارجہ کی آج کی پریس کانفرنس کافی اہم قرار دی جا رہی تھی کیونکہ وہ حال ہی میں چین کا دورہ کرکے آئے ہیں۔ سعودی عرب کے کشمیر پر مؤقف کے حوالے سے اہم بیان دے چکے ہیں، جبکہ افغان طالبان کا وفد بھی پاکستان کے دورے پر موجود ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ چین کا حالیہ دورہ نہایت ضروری تھا۔ چین کا کشمیر کے مسئلے پر مؤقف واضح ہے۔ پاکستان کے دورے پر موجود افغان طالبان کے وفد سے کل ملاقات طے ہے۔ افغان امن عمل کے حوالے سے ان کی چین کے ساتھ بھی گفتگو ہوئی ہے۔ ایک سال میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر تین اجلاس ہوئے ہیں جو چین کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے واضح انداز میں کہا ہے کہ پانچ اگست 2019 کے انڈیا کے اقدامات یک طرفہ ہیں جنہیں چین مسترد کرتا ہے۔ پاکستان نے انڈیا کے اس اقدام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کے مطابق چین نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین باہمی سٹریٹجک مفادات کا تحفظ کریں گے تاکہ خطے کے امن اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے، جو کہ اُن کے مطابق سی پیک پر اٹھنے والے اعتراضات کا جواب ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے چین اور پاکستان کے مشترکہ اعلامیے پر دیا جانے والا ردِ عمل بلاجواز ہے۔ چین نے یہ بھی کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کی روشنی میں چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے گزشتہ ایک سال میں کشمیریوں کے عزم کو توڑنے کی بارہا کوشش کی گئی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں چھ جماعتوں کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے سے وادی کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد کو ایک نئی جہت ملی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر کی چار اگست 2019 کی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یاد رہے کہ سنیچر کو پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر جماعتوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کے مطالبے کو سرِفہرست رکھا تھا۔
افغان امن عمل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان امن عمل کا منطقی نتیجہ بین الافغان مذاکرات ہیں جس کے لیے قیدیوں کی رہائی شرط تھی۔ طالبان کی جانب سے بھی قیدی رہا کیے گئے ہیں اور ان کے قیدی بھی رہا ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کے وفد کے ساتھ ان کی نشست کل ہوگی۔ اس کی تفصیلات بعد میں سامنے رکھی جائیں گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دورہ چین میں ان کی افغانستان کے معاملے پر بات چیت ہوئی ہے اور چین اس پورے عمل کی حمایت کر رہا ہے۔
افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق وفد پاکستانی حکام کے ساتھ افغان امن عمل، پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی مشکلات اور دونوں ممالک کے تعلقات سمیت کئی دیگر موضوعات پر ملاقاتیں کریں گے۔