افغان طالبان کا وفد پاکستانی حکام سے ملاقات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا
- منگل 25 / اگست / 2020
- 5680
افغان طالبان کا ایک چار رکنی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے جہاں وہ افغانستان میں امن عمل سے متعلق سینئر پاکستانی عہدیداروں سے ملاقات کرے گا۔
طالبان کے دورہ اسلام آباد پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ وہ منگل کو طالبان کے وفد سے ملاقات کریں گے۔ افغان طالبان کے وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کا وفد پاکستان میں افغان مہاجرین کو درپیش مسائل پر بھی بات چیت کرے گا۔
دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کے مطابق طالبان وفد پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی دعوت پر یہ دورہ کر رہا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کابل انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں رکاوٹیں درپیش ہیں اور امن معاہدے کے تحت ان کے تمام قیدی رہا نہیں کیے جا رہے جس کے باعث نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان رواں برس فروری کے آخر میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت کو طالبان کے 5000 قیدی رہا کرنا تھے جب کہ طالبان کو بھی اپنی تحویل میں موجود ایک ہزار افغان حکومت کے قیدی رہا کرنا تھے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان ایک ہزار قیدی رہا کر چکے ہیں جب کہ افغان حکومت نے اب تک تقریباً چار ہزار 780 قیدی رہا کیے ہیں۔
طالبان ترجمان سہیل شاہین کے مطابق ان کے تمام قیدی رہا ہونے کے ایک ہفتے کے اندر بین الافغان امن مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔ سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق افغان طالبان کا یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ملا عبدالغنی برادر اس وفد کی قیادت کر رہے ہیں جو قطر میں قائم سیاسی دفتر کے سربراہ ہیں اور طالبان تحریک کے نائب امیر بھی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بھی کوشش ہو گی کہ وہ افغان طالبان کو تشدد میں کمی پر راضی کرسکیں تاکہ کابل حکومت جلد از جلد قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنائے۔ پاکستان طالبان سے یہ بھی کہے گا کہ وہ اپنے حملوں میں کمی کریں تاکہ تشدد میں کمی آئے، حالات بہتر ہوں اور بین الافغان امن مذاکرات شروع ہو سکیں۔
اسلام اباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ حالیہ دورۂ چین کے دوران انہوں نے چینی ہم منصب سے درخواست کی تھی کہ وہ بھی چین کی جانب سے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی کو پاکستان بھیجیں۔ ان کے مطابق وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔
دوسری جانب افغان حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت نے طالبان کے باقی ماندہ 400 قیدیوں میں سے 80 کو رہا کر دیا ہے۔ اب طالبان بھی اپنی تحویل میں موجود افغان کمانڈوز اور ہوا بازوں کو رہا کریں۔ یاد رہے کہ کچھ مغربی ممالک نے افغان حکومت سے کہا ہے کہ ان کے شہریوں کے قتل میں ملوث طالبان قیدیوں کو رہا نہ کیا جائے۔ افغان لویہ جرگہ نے حال ہی میں تمام طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی تھی۔