کراچی میں بارشوں سے نظام زندگی درہم برہم، 3 شہری جاں بحق
- منگل 25 / اگست / 2020
- 6570
کراچی میں موسلا دھار بارش نے نظام زندگی درہم برہم کردیا ہے۔ سڑکیں مکمل ڈوب چکی ہیں اور پانی گھروں میں بھی داخل ہوگیا ہے۔ بارشوں کی وجہ سے تین افرد جاں بحق ہوئے ہیں۔
شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ پاکستان اور یونیورسٹی روڈ سمیت شہر کی اہم شاہراہیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ سڑکیں تالاب بننے کے بعد لوگوں کی آمد و رفت تقریباً بند ہوچکی ہے اور گھروں سے باہر نکلے ہوئے شہری پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
نیا ناظم آباد میں بھی سیلابی صورت حال ہے جبکہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے۔ ان علاقہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ پانی ان کے گھروں میں داخل ہوچکا ہے اور گھر کا سامان خراب ہونے کی صورت میں انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔
ادھر محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے رات آٹھ بجے تک جاری رہ سکتا ہے۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں سب سے زیادہ بارش پی اے ايف فيصل بيس پر 118 ملی ميٹر اور سب سے کم پی اے ايف مسرور بيس پر 50 ملی ميٹر ہوئی۔
محکمہ موسميات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صبح 8 سے دوپہر 2 بجے تک پی اے ايف فيصل بيس پر سب سے زیادہ 118 ملی ميٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صدر میں 77 ملی ميٹر بارش ہوئی، ناظم آباد میں 76.6 ملی ميٹر بارش ريکارڈ کی گئی۔ گلشن حديد میں 72، موسميات پر 71.2 اور لانڈھی میں 69.5 ملی ميٹر بارش ہوئی۔ اسی طرح يونيورسٹی روڈ پر 68.8، جناح ٹرمینل پر 57.2 اور پی اے ايف مسرور بيس پر 50 ملی ميٹر بارش ہوئی۔
شہر میں ہونے والی شدید بارش نے اربن فلڈ کی صورتحال پیدا کردی ہے اور مختلف علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ شہر کے متعدد علاقوں میں پانی گھروں میں بھی داخل ہوگیا ہے۔