کانگریس پارٹی میں اندرونی اختلافات، قیادت کے معاملہ پر کھینچا تانی
- بدھ 26 / اگست / 2020
- 6390
بھارت میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس میں قیادت کی تبدیلی کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے آپس میں ایک دوسرے پر الزامات اور اعتماد کے فقدان نے پارٹی کو منقسم کر دیا ہے۔
کانگریس کے 23 رہنماؤں پر مشتمل ایک گروپ نے حال ہی میں پارٹی صدر سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا تھا جس میں پارٹی کو متحرک رکھنے کے لیے کل وقتی صدر کے علاوہ تنظیمِ نو کا مطالبہ کیا تھا۔ جن رہنماؤں نے یہ خط لکھا تھا ان میں پارٹی کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد اور ششی تھرور بھی شامل تھے۔
پیر کو کانگریس کی اعلٰی فیصلہ ساز باڈی 'کانگریس ورکنگ کمیٹی' کا ایک ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جو سات گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس کے دوران سونیا گاندھی نے پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے اور ایک نئے صدر کے انتخاب کی پیش کش کی جسے تسلیم کر لیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کانگریس عبوری دور سے گزر رہی ہے، لہذٰا اسے ملکی سیاست میں متحرک رہنے کے لیے بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔ اجلاس کے دوران سابق وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور سابق وزیرِ دفاع اے کے انتھونی نے سونیا گاندھی سے صدر برقرار رہنے کی اپیل کی تھی۔
اجلاس کے اختتام پر طے پایا کہ پارٹی کے تنظیمی جنرل سیکرٹری کے سی وینو گوپال نئے صدر کے انتخاب کے لیے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا اجلاس طلب کریں گے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی میں ملک بھر سے 8000 سے زائد مندوبین ہیں۔ یہ بھی طے ہوا کہ کرونا کی وبا کے پیشِ نظر فوری طور پر اجلاس بلانا ناممکن ہے لیکن چھ ماہ کے اندر اجلاس طلب کر لیا جائے اور ایک نئے صدر کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔ اس وقت تک سونیا گاندھی عبوری صدر برقرار رہیں گی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔
اجلاس کے دوران گاندھی نہرو خاندان کے وفاداروں اور باغی کیمپ کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کی گئی۔ اجلاس کے دوران ہی ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں یہ خبر آئی کہ راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشارے پر مذکورہ خط لکھا گیا اور ایسے وقت لکھا گیا جب سونیا گاندھی اسپتال میں تھیں اور پارٹی کو راجستھان میں سیاسی بحران کا سامنا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ خط سات اگست کو لکھا گیا البتہ یہ میڈیا کے ذریعے 23 اگست کو منظرِ عام پر آیا۔
بھارتی اخبار 'انڈین ایکسپریس' نے اس خط کی تفصیلات بھی شائع کر دی تھی۔ لہٰذا اس پر بھی چہ موگوئیاں ہوئیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اس خط کو میڈیا میں لیک کیا۔ راہول گاندھی کے الزام پر غلام نبی آزاد نے کہا کہ اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو وہ فوری طور پر پارٹی چھوڑ دیں گے۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد کانگریس رہنما کپل سبل نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اُن کی راہول گاندھی سے بات ہوئی ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں راجستھان میں بھی مدھیہ پردیش کی تاریخ دہرانے کی کوشش کی گئی۔ جہاں کانگریس کی حکومت ختم کر کے بی جے پی نے حکومت قائم کر لی تھی۔ راجستھان میں نوجوان لیڈر سچن پائلٹ نے وزیرِ اعلیٰ اشوک گہلوت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بی جے پی وہاں بھی کانگریس سے حکومت چھین لے گی۔ لیکن آخر میں راہول گاندھی کی مداخلت سے معاملہ سلجھ گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کا گلہ ہے کہ سونیا گاندھی سمیت پارٹی قیادت اُنہیں ملاقات کا وقت نہیں دیتی۔ تقریباً ہر ریاست میں اور مرکزی سطح پر بھی پرانے قائدین نئی نسل کو آگے نہیں آنے دیتے۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے مذکورہ خط لکھا تھا اس میں بھی ان کے ذاتی مفادات کا دخل تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر ریاست میں کانگریس میں گروپ بازی ہے۔ پرانے رہنما نئے لوگوں کو آگے نہیں بڑھنے دیتے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کے سینئر لیڈر جیوترا دتیہ سندھیا نے اس رویے کے خلاف بغاوت کی اور انہوں نے اپنے حامی ایک درجن سے زائد ارکانِ اسمبلی کے ساتھ بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔