اسلام آباد میں طالبان وفد کی حکام سے ملاقات، افغان امن پر بات چیت ہوئی
- بدھ 26 / اگست / 2020
- 4920
پاکستان کے دورے پر آئے افغان طالبان کے وفد نے اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت اعلٰی حکام سے ملاقات کی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ملاقات میں افغانستان کی سیاسی صورتِ حال اور بین الافغان مذاکرات پر تبادلہ خیال ہوا۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کو پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہونے والی اس ملاقات میں افغان طالبان کے وفد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جینس کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بین الافغان امن مذاکرات کے جلد انعقاد کا خواہاں ہے۔ خیال رہے کہ افغان طالبان کا وفد ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں پیر کو پاکستان پہنچا تھا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کا شروع ہی سے یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا دیرپا حل بین الافغان مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اس عمل میں اپنا مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ افغان قیادت افغانستان میں قیامِ امن کے لیے اس نادر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی۔
دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر خارجہ نے امن عمل کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے بارے میں بھی طالبان کو آگاہ کیا۔ طالبان کا یہ وفد ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے بین الافغان مذاکرات میں تاخیر ہو رہی ہے۔
دوسری طرف افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ حنیف اتمر نے ایک انٹرویو میں طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ لچک کا مظاہرہ کریں۔ حنیف اتمر کے بقول افغان حکومت نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کر رہا کر دیا ہے جن کا طالبان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ان کے بقول افغان حکومت طالبان کے مزید قیدی رہا کرنے پر تیار ہے اگر طالبان بھی اپنی تحویل میں موجود افغان حکومت کے قیدیوں کو رہا کریں۔
اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے افغان قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کی خوشحالی، سلامتی اور پائیدار امن کے لیے مذاکرات کے تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق عمران خان نے افغانستان کی اعلیٰ سطح کی کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت پر زور دیا جو مشترکہ عقیدے اور ثقافت، تاریخ اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی روابط پر مبنی ہے۔ وزیر اعظم نے اس برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات کو دہرایا کہ افغانستان میں تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس کا واحد حل سیاسی مذاکرات ہیں۔