شدید بارشوں کے باعث کراچی سمیت سندھ بھر میں سیلابی صورتحال
- بدھ 26 / اگست / 2020
- 5310
کراچی میں ریکارڈ بارشوں علاوہ سندھ کے دیگر حصوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ بارش کے باعث شہر کے نالے اور ندیاں ابل پڑے ہیں۔
کراچی شہر کی صورتحال خاصی خراب ہے جس کا اعتراف وزیراعلیٰ سندھ نے بھی کیا تھا اور آج انہوں نے سندھ کے مختلف اضلاع میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دورہ بھی کیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ میں گزشتہ روز ایمرجنسی نافذ کی جاچکی ہے۔ سول انتظامیہ کے علاوہ پاک فوج اور دیگر فلاحی تنظیمیں بھرپور انداز میں شہریوں کی امداد کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایت پر پاک فوج نے رات گئے ندی پر بند کی مرمت کرنے اور متاثرہ علاقوں سے عوام کو نکالنے کے علاوہ انہیں کھانا، پانی وغیرہ فراہم کرنے کا آغاز کردیا تھا۔ سیلابی ریلے کے باعث قائد آباد کے نزدیک سکھن ندی کے بند میں شگاف پڑ گیا جس سے اطراف کی کچی آبادیوں، گوٹھوں اور دیگر علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا۔
سیلابی ریلے سے سب سے زیادہ تباہی رزاق ٹاؤن اور مدینہ کالونی میں ہوئی جہاں 6 سے 8 فٹ تک پانی بھر جانے کے علاوہ درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے جس کے بعد علاقہ مکینوں نے رات پکے گھروں کی چھتوں پر بیٹھ کر گزاری۔ علاقہ مکینوں کے مطابق صبح سویرے پاک فوج نے آکر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
محمود آباد اور پی ای ایس ایچ کے سنگم پر موجود ملیر ندی کے دادا بھائی بند کا ایک گیٹ کھل جانے سے آس پاس کی آبادی زیر آب آگئی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پورے سندھ میں سب سے بارش زیادہ کراچی کے علاقے پی ایف بیس فیصل میں 134 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
ملک میں جاری بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہؤا ہے اور دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جبکہ سکھر بیراج پر بھی 24 گھنٹوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ پانی کی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی سکھر اور گڈو بیراجوں کے درمیان واقع کچے کے دیہات زیر آب آنا شروع ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ حکام نے شہریوں کو بلوچستان کے کسی بھی علاقے کی طرف بلا ضرورت سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
قلات میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، کئی گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں، ہرنائی کا زمینی رابطہ بھی دیگر علاقوں سے منقطع ہوگیا اور سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔ کوئٹہ میں 3 روز قبل مرمت ہونے والا مچھ پل ایک مرتبہ پھر ٹوٹ گیا جس کے باعث مچھ کا کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ موسلادھار بارشوں کے باعث اوتھل میں ندی بھپر گئی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی بارش کے بعد کراچی میں کسی ایک مقام پر اگست کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش ہونے کا 36 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔ حکومت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 6 جولائی کو مون سون سیزن کے آغاز سے 25 اگست بارش کے باعث مختلف حادثات میں 30 افراد لقمہ اجل بنے۔