کراچی میں مسلسل کئی گھنٹوں سے طوفانی بارش، متعدد علاقے زیر آب
- جمعرات 27 / اگست / 2020
- 4910
صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع میں رواں سال مون سون سیزن اپنے جوبن پر ہے، بارشوں کے نئے سلسلہ میں کراچی سمیت دیگر اضلاع میں صبح سے بارش ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے ہر طرف سیلاب کا سماں ہے۔
کراچی میں صبح سے ہی صدر، ملیر، ڈیفنس، بلدیہ ٹاؤن، پی ای ایس ایچ، اسکیم 33، کلفٹن، شارع فیصل، لانڈھی، گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، ماڈل کالونی، گارڈن، کورنگی سمیت دیگر علاقوں میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بارش کے باعث شہر کی مرکزی شاہراہیں، علاقے، کاروباری مراکز زیر آب آگئے ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے۔
کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے عوام پر زور دیا کہ وہ گھروں سے نہ نکلیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق صبح 8 سے دوپہر 2 بجے تک شہر میں سب سے زیادہ بارش پی اے ایف بیس فیصل پر 130 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ کے الیکٹرک نے ٹوئٹ اکاونٹ پر شہریوں کو کسی بھی ناخوشگوار یا جان لیوا حادثے سے بچنے کے لیے تاروں، بجلی کے کھمبوں اور پی ایم ٹیز سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تیز بارش کے باعث کراچی میں تباہ کن صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ایک بیان میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بارش کے باعث ملیر اور سکھن ندی میں طغیانی آنے سے وہاں کے رہائشی پھنس گئے ہیں لہٰذا ان کا انخلا ضروری ہے۔
انہوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت دی کہ مذکورہ علاقوں کے رہائشیوں کو سرکاری اسکولوں میں رکھا جائے۔ سید مراد علی شاہ نے صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کو اسکول میں کھانا، پانی اور دیگر سامان کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
خیال رہے کہ 21 اگست سے جاری بارشوں کے نئے سلسلے کے باعث شہر کو پہلے ہی سیلابی صورتحال کا سامنا تھا۔ 24 اگست سے موسلا دھار بارشوں نے شہر کی صورتحال مزید ابتر کردی تھی۔ مون سون کے حالیہ سیزن نے صفائی ستھرائی اور سیوریج کے ناقص نظام میں تباہی مچا رکھی ہے جس سے شہر کے کئی علاقوں میں معمولات زندگی معطل ہیں۔ کئی شاہراہوں پر پانی جمع ہونے کے علاوہ وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
آج ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد سوشل میڈیا پر شہریوں نے سڑکوں اور علاقوں میں پانی کی صورتحال کی ویڈیوز شیئر کیں جبکہ کچھ ویڈیوز میں پانی لوگوں کے گھروں میں بھی دیکھا گیا۔
سندھ رینجرز کی جانب سے ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس کے علاوہ رینجرز متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی کے لیے این جی اوز کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
لاڑکانہ میں ماہی مکول تھانہ کی حدود گاؤں مہرو چانڈیو میں آسمانی بجلی سے 3 نوجوان جاں بحق اور 6 افراد زخمی ہوگئے۔ منگل کے روز بارشوں کے مختلف واقعات میں 4 افراد جاں بحق جبکہ متعدد لاپتہ ہوگئے تھے۔ بدھ کے روز 5 افراد کی لاشیں ملیں اور مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے۔