پی ٹی آئی کی انتقامی پالیسی کے پیچھے فوج نہیں ہے: احسن اقبال
- جمعرات 27 / اگست / 2020
- 5520
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ حکومت کی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی پالیسی کے پیچھے فوج نہیں ہے۔
انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر قومی اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کا الزام عائد کیا۔ نارووال اسپورٹس سٹی پروجیکٹ سے متعلق کیس میں احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری فوجی قیادت کا انتقام لینے کے اقدام سے کوئی لینا دینا نہیں کیوں کہ فوج اور قومی ادارے غیر سیاسی ہیں اور وہ سیاست سے دور رہتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ قومی ادارے اس کی انتقامی پالیسی میں شریک ہیں جو قومی سلامتی کے لیے اچھا نہیں اور میں اس کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔ پی ٹی آئی حکومت بارہا دعویٰ کرتی ہے وہ اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہے۔ اور یہ تاثر دے رہی ہے کہ ہمارے قومی ادارے حکومت کہ انتقامی پالیسی کے ساتھ ہیں۔ احسن اقبال نے امید ظاہر کی کہ فوجی قیادت حکومت کی جانب سے انہیں اپنے ظالمانہ اقدامات میں ملوث کرنے کا نوٹس لے گی۔
سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر لانے کے لیے اپوزیشن نے خلوص نیت کے ساتھ ایف اے ٹی ایف سے متعلق تمام بلز منظور کروانے کے لیے تعاون کیا لیکن وہ حکومت کو ایف اے ٹی ایف کا نام استعمال کر کے ملک پر کالا قانون نافذ کرنے کی اجازت نہہیں دی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایف اے ٹی ایف کے نام پر پاکستان کو فاشسٹ ریاست نہیں بننے دیں گے۔ ہم عمران خان کو ایف اے ٹی ایف کا نام استعمال کر کے پاکستان کا ہٹلر نہیں بننے دیں گے۔ اپوزیشن نے سینیٹ میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز کو شکست نہیں دی بلکہ حکومت کی سوچ کو ہرایا ہے
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے فوجی آمر پرویز مشرف کا سامنا کیا تھا اور وہ عمران خان کی مبینہ انتقامی پالیسی سے متاثر نہیں ہوگی۔
احسن اقبال کے بیان کے جواب میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی نے کہا کہ کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والا شخص کس طرح ایسے بات کرسکتا ہے اور دوسروں پر الزامات لگا سکتا ہے۔ ایک بیان میں عامر محمود کیانی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے نیب قوانین میں غیر حقیقی تبدیلیوں کی تجویز دے کر تحریی طور پر این آر او مانگا ہے۔