دہشتگردوں کی مالی معاونت کے کیس میں جماعت الدعوۃ کے 3 رہنماؤں کو سزا

  • جمعہ 28 / اگست / 2020
  • 4510

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعت الدعوۃ کے 3 مرکزی رہنماؤں کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق ایک اور کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 2 رہنماؤں کو مجموعی طور پر ساڑھے 16 سال جبکہ ایک کو ڈیڑھ سال کی سزا سنادی۔

عدالت نے جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ عبدالسلام اور پروفیسر ظفر اقبال کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی سیکشن 11 ایف (6) کے تحت ڈیڑھ سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ انہیں اے ٹی سی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 آئی (2) (بی) کے تحت 5 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔

اس کے علاوہ ان دونوں رہنماؤں کو اے ٹی سی ایکٹ 1997 کی سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 ایچ کے تحت 5 سال کی سزا دی گئی اور 50 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا۔ اے ٹی سی عدالت نے ان دونوں رہنماؤں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 11 این کے ساتھ سیکشن 11 جے کے تحت مزید 5 سال کی سزا اور 5 ہزار جرمانہ عائد کیا۔

اس طرح ان دونوں رہنماؤں کو مختلف سیکشن کے تحت مجموعی طور پر ساڑھے 16 سال قید اور ایک لاکھ 70 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔

عدالت نے جماعت الدعوۃ کے تیسرے رہنما عبدالرحمٰن مکی کو اے ٹی سی ایکٹ کے سیکشن 11 ایف (6) کے تحت ڈیڑھ سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔  کیس کی سماعت کے دوران محکمہ انسداد دہشت گردی نے 10 سے زائد گواہوں کو پیش کیا گیا۔

یاد رہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے سال 2019 کے دوران لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد، ساہیوال اور سردگودھا کے تھانوں میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور دیگر رہنماؤں کے خلاف 23 ایف آئی آرز درج کی تھیں۔  سی ڈی ٹی کی جانب سے ان پر مدارس اور مساجد کی زمینوں کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔

فروری کے مہینے میں عدالت نے ایسے ہی 2 مقدمات میں حافظ سعید اور ملک ظفر اقبال کو ہر کیس میں ساڑھے 5 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔