کابل حکومت سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے پاس تمام اختیارات ہیں: طالبان

  • جمعہ 28 / اگست / 2020
  • 6180

افغان طالبان نے کہا ہے کہ بین الافغان امن مذاکرات کے لیے فیصلہ سازی کا کلی اختیار 21 رکنی مذاکراتی ٹیم کو دیا گیا ہے جب کہ کابل حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے پاس یہ اختیار نہیں ہے۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے شیر محمد عباس استنکزئی کی سربراہی میں 21 رکنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی تھی جس میں افغان طالبان کی رہبر شوریٰ کے 13 ارکان بھی شامل ہیں۔ افغان طالبان کے مطابق مرکزی رہبر شوریٰ سے 65 فی صد اراکین کو اس مذاکراتی ٹیم کا حصہ بنانے کا مقصد ایسا با اختیار بنانا ہے کہ امن مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ سکیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس استنکزئی نے بتایا کہ طالبان قیادت نے اس مذاکراتی ٹیم کو تمام معاملات کو اپنے طور پر حل کرنے کا اختیار دیا ہے تاکہ امن کی راہ میں کسی قسم کی کوئی تاخیر نہ ہو۔  یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی طالبان وفد کی سربراہی شیر عباس استنکزئی نے کی تھی۔

اُن کے مطابق امن مذاکرات کا عمل مکمل ہونے کے بعد وہ پیشرفت سے طالبان چیف ملا ہیبت اللہ کو آگاہ کریں گے۔ طالبان کی ٹیم ملا ہیبت اللہ کے علاوہ کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کے برعکس کابل کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی بات چیت کے بعد اپنی تمام سفارشات حکومت کے سامنے رکھے گی۔ تاہم طالبان کی ٹیم مذاکرات کی میز پر ہی تمام فیصلہ سازی کا اختیار رکھتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹیم کا اختیار بین الافغان امن مذاکرات، امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر عمل درآمد، قیدیوں کی رہائی اور تمام امور پر بات چیت ہے۔ عباس استنکزئی نے بتایا کہ مذاکراتی ٹیم کے نمائندوں میں شیخ عبدالحکیم بھی شامل ہیں جو اس وقت طالبان تحریک میں بطور چیف جسٹس کام کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس فروری میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت طالبان اور کابل حکومت کے درمیان بین الافغان مذاکرات مارچ میں شروع ہونا تھے لیکن قیدیوں کے تبادلے پر ڈیڈلاک کے باعث اب تک یہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکے ہیں۔