کراچی میں موسلادھار بارشوں سے نظام زندگی درہم برہم، 23 افراد جاں بحق
- جمعہ 28 / اگست / 2020
- 5280
کراچی میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس کے مطابق جمعرات کو شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات میں کم از کم 23 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
کراچی میں موسلادھار بارش کا تازہ سلسلہ جمعرات کی صبح شروع ہوا اور حکام کے مطابق شام تک 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو چکی ہے جبکہ بارش کا یہ سلسلہ جمعے تک جاری رہ سکتا ہے۔ کراچی شہر کے متعدد علاقوں میں منگل کو ہونے والی شدید بارش کے بعد اب تک بحالی کا کام نہیں ہو سکا تھا اور جمعرات کو ہونے والی شدید بارش نے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
شدید بارش کے سبب شہر میں سیلابی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔ سندھ حکومت نے جمعے کو شہر میں عام تعطیل کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ شہر کی بیشتر بڑی مارکیٹس اور کاروباری مراکز بند ہیں جب کہ سرکاری اور نجی اداروں اور فیکٹریوں میں بھی حاضری کم رہی۔ موسلا دھار بارشوں کے باعث ملیر ندی میں شدید طغیانی ہے۔ شہر کی اہم سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔
بارش سے زیادہ متاثر ہونے والی شاہراہوں میں شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ، راشد منہاس روڈ، یونیورسٹی روڈ، شارع پاکستان، کورنگی روڈ، ایم آر کیانی روڈ، شاہ ولی اللہ روڈ، شہید ملت روڈ سمیت کئی دوسری سڑکیں شامل ہیں۔ کلفٹن میں سن سیٹ بلیوارڈ پر سب میرین چورنگی انڈر پاس اور کے پی انڈر پاس میں پانی بھر گیا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے گھروں میں پانی بھر جانے کے باعث چھتوں پر رات گزاری۔
متاثر ہونے والے علاقوں میں سرجانی، اورنگی، ملیر، محمود آباد، عیسیٰ نگری، لیاقت آباد، ناظم آباد، ڈیفنس، منظور کالونی، اختر کالونی، اولڈ سٹی ایریا، ریلوے کالونی، ہجرت کالونی اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ بعض علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پرپہنچایا جارہا ہے۔ شہر میں کئی علاقوں میں 10 گھنٹے سے بجلی کی سپلائی معطل ہے۔
بارش سے فضائی آپریشن میں بھی تعطل پیدا ہوا جس کے باعث ملک کے سب سے بڑے شہر سے آنے اور جانے والی تقریباً ایک درجن پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ کئی گھنٹوں بعد طیاروں کی آمد و رفت جزوی طور پر بحال کی گئی۔ سول ایوی ایشن حکام کے مطابق تیز بارش کے سبب جمعرات کی صبح کراچی سے دبئی، تہران، شارجہ، ریاض، مسقط کی بین الاقوامی پروازیں اور فیصل آباد، لاہور، بہاول پور اور رحیم یارخان جانے والی مقامی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ اسلام آباد، پشاور، رحیم یارخان، کوئٹہ اور تربت سے آنے والی پروازیں بھی منسوخ کرنا پڑیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کراچی کو شدید بارشوں کے باعث تباہی کی سی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ کراچی میں ہونے والی بارش سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث ہے۔ جہاں صارفین سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بارش سے ہونے والی تباہ کاریوں کی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں۔
وزیر اعلٰی سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ ملیر میں اسکولوں کی عمارتیں خالی کروا کر وہاں متاثرہ لوگوں کو پناہ دی جائے اور ملیر اور سکھن کے علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت کراچی میں شدید بارش کی تباہ کاریوں سے کراچی کے شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات سے پوری طرح باخبر ہے۔ وہ خود ریلیف اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں، اور اس بارے میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں مسلسل اور موسلادھار بارش غیر معمولی نوعیت کی ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ سندھ میں 90 سال کے دوران یہ مون سون بارشوں کا یہ سب سے بڑا سلسلہ ہے۔
دوسری طرف خیبرپختونخوا کے ایک دور افتادہ اور پسماندہ ضلع چترال میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ ضلع اپر چترال کو جانے والی واحد سڑک پر ریشن کے مقام پر واقع ایک پختہ پل کو سیلاب سے شدید نقصان پہنچا، جس سے ضلع اپر چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔