نواز شریف کو باہر بھیج کر ہم سے غلطی ہوگئی: وزیراعظم
- جمعہ 28 / اگست / 2020
- 6430
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے کر ہم سے غلطی ہوگئی۔ تاہم اس وقت ایسے حالات تھے کہ یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
اے آر وائی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ جب نواز شریف کا معاملہ سامنے آیا تو ماحول ایسا بن گیا کہ پہلے ڈاکٹروں کی رائے آئی کہ وہ بچیں گے نہیں، ان کی جان خطرے میں ہے۔ کابینہ میں 6 گھنٹے بحث ہوئی کہ کیا کیا جائے۔ دوسری جانب عدالت نے کہہ دیا کہ انہیں کچھ ہوا تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔ اس کے بعد ہم نے 7 ارب روپے کے ضمانتی بانڈ کی شرط رکھی۔ شہباز شریف نے عدالت کو ضمانت دی اور وہ باہر چلے گئے۔
ایک نواز شریف یہاں تھے اور ایک وہ ہیں جیسا انہیں باہر دیکھا گیا۔ اب ہم پشیمانی محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے وہاں سیاست سے شروع کردی ہے اوربظاہر دیکھنے میں بیمار بھی نہیں لگتے۔ انہوں نے نواز شریف کو این آر او دینے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کوشش کی جو ہم کرسکتے تھے۔ لیکن جو ہمارے سامنے پیش کیا گیا کہ وہ مرسکتے ہیں شاید لندن پہنچ بھی نہ سکیں اور اس صورت میں ہم پر ذمہ داری آتی تھی اس لیے ہم نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھیجا۔
اب جب وہ سیاست دانوں سے رابطے کررہے ہیں، ہم سب پچھتا رہے ہیں اور لگتا ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی۔ نواز شریف کی رپورٹ کی تحقیقات کروانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر میں ڈاکٹر یاسمین راشد سے مسلسل رابطے میں تھا اور ڈاکٹر فیصل سے بھی مشورہ کیا۔ جنہوں نے کہا تھا کہ پلیٹلیٹس کا اتنا مسئلہ نہیں لیکن انہیں لاحق دیگر بیماریوں کے باعث ان کی جان خطرے میں ہے۔
کسی بادشاہ کی جانب سے نواز شریف کے لیے سفارش کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ان کے رابطے باہر ہیں لیکن وہ میرے لیے مسئلہ نہیں تھا۔ اگر طبی رپورٹ میں یہ بات نہ کہی جاتی کہ ان کی جان خطرے میں ہے تو میں کبھی باہر جانے کی اجازت نہ دیتا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر اسمبلی میں ڈراما ہوا۔ اپوزیشن نے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہؤا۔ اپوزیشن نے حکومت کو صرف اس لیے بلیک میل کیا کہ وہ چاہتے تھے کہ انہیں این آر او دیا جائے۔
ایف اے ٹی ایف پر اپوزیشن کے این آر او مانگنے کی بات پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ 2 کام کردو ایک منی لانڈرنگ کا قانون اس میں سے نکال دو، دوسرا نیب کی قبر کھود کر اسے دفنا دیا جائے تاکہ ہم احتساب اور منی لانڈرنگ سے بچ جائیں۔ ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز سینیٹ سے منظور کروانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے ہم پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا رہے ہیں جس میں انہوں نے اگر ہمیں شکست دی تو ملک کے بلیک لسٹ میں جانے کے ذمہ دار یہ لوگ ہوں گے۔
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ میں کبھی بھی طاقتور کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش نہیں کی گئی اور ہمیشہ 2 قانون رہے ایک طاقتور دوسرا کمزوروں کے لیے۔ 1985 کے بعد جنرل ضیاالحق نے پاکستان پیپلز پارٹی کو باہر کرنے کے لیے غیر جماعتی انتخابات کروائے جس کے نتیجے میں لوگ منتخب ہو کر آگئے اور انہیں پارٹی میں پیسے دے کر شامل کروانا تھا، اس وقت سے پاکستان میں رشوت شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ کسی طرح ان کے کرپشن کیسز کو چھوڑ دیا جائے لیکن دنیا ادھر ادھر ہوجائے، میری حکومت چلی جائے وہ مجھے منظور ہے لیکن ان کو اگر میں نے کرپشن کیسز سے نکال دیا میں ملک سے غداری کروں گا۔ مجھے اللہ کو جواب دینا ہے، اپنی آخرت کا سوچنا ہے۔
جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک پر سب سے بڑا ظلم کیا کہ نواز شریف کو حدیبیہ پیپر ملز میں استثنیٰ دینے کے بعد باہر بھجوا دیا۔ آصف زرداری کے 6 کروڑ ڈالر سوئٹزر لینڈ میں تھے، ان کیسز پر اربوں روپے خرچ ہوئے جب کیسز کانتیجہ آنے لگا تو جنرل مشرف نے اپنی کرسی بچانے کے لیے این آر او دے دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جب اپوزیشن میں آئی اس نے مک مکا کرلیا۔ اس مک مکا اور جنرل مشرف کے این آر او کی وجہ سے پاکستان پر 4 گنا زیادہ قرضہ چڑھایا جس کی آج ہم قیمت ادا کررہے ہیں۔
عمران خان نے ایک بار پھر دہرایا کہ جو مرضی ہوجائے یہ جتنی مرضی بلیک میل کریں، ان سب کا جب تک احتساب نہیں ہوگا یہ ملک آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔