عاصم باجوہ اور خاندان کے اثاثوں کی حقیقت جلد منظرعام پر آجائے گی: شاہ محمود قریشی
- ہفتہ 29 / اگست / 2020
- 8900
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ اور ان کے اہل خانہ کی مبینہ طور پر غیر ملکی جائیدادوں اور کاروبار سے متعلق حقائق جلد ہی سامنے آجائیں گے۔
ملتان کے دورہ کے دوران صحافیوں کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ عام رواج ہے کہ خبریں بغیر تصدیق کے چلائی جاتی ہیں جبکہ کسی خبر کی تصدیق ہونے کے بعد اسے نشر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں حقیقت جلد ہی منظرعام پر آجائے گی۔
واضح رہے اسلام آباد کے ایک صحافی احمد نورانی نے ایک ویب سائیٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کیرئر اور ان کے خاندان کی دولت میں ایک ہی رفتار سے اضافہ ہؤا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین اور اطلاعات پر زیر اعظم کے عہدے پر فائز عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی بیرون ملک جائیدادیں چار ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ احمد نورانی نے ایک نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم میں باقاعدہ 'نہیں ہے‘ لکھا ہے۔
مضمون کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر عاصم باجوہ نے دو ٹوک انداز میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ 'ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔'
احمد نوران کا کہنا ہے کہ میں صرف یہ کہوں گا مناسب طریقے سے جواب دینے کے لیے انہیں واضح کرنا ہوگا کہ میرے مضمون میں کون سے حقائق غلط ہیں اور انہیں اس کے لیے شواہد فراہم کرنے ہوں گے۔ احمد نورانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کا 2002 سے قبل مکمل ملکیت کا کوئی ذاتی کاروبار نہیں تھا اور اسی سال وہ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں لیفٹنٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہوئے اور پرویز مشرف کے سٹاف میں تعینات ہوئے۔