شوگرمافیا اور بیانئے کی گرد

  • تحریر
  • ہفتہ 29 / اگست / 2020
  • 7530

یہ ایک مافیا ہے، یہ طاقت ور لوگ ہیں، پیسے دے کر اپنا کام نکلوا لیتے ہیں، عدالتوں میں جا کر سٹے لے آتے ہیں۔ اب ہم شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ان کا  فارنزک آڈٹ کروائیں گے۔ میرا  آپ سے وعدہ ہے کہ ہم  اس مافیا کو نہیں چھوڑیں گے‘۔  وزیر اعظم عمران خان نے ایک ہی سانس میں کئی نکات اٹھا ئے  اور اگلا  انتظامی قدم  بھی واضح کر دیا۔

حکومت کا فرض ہے کہ مارکیٹ میں طلب اور رسد کی قوتوں کو  لگام ڈالے اور ایسے اقدام اٹھائے کہ وہ  حدود نہ توڑیں۔ شوگر اندسٹری کا موجودہ ڈھانچہ تین چار دِہائیوں سے ترتیب پایا ہے۔ اقتدار کے  ایوانوں میں اس کی رسائی بلکہ اس کے کارپردازان کی فیصلہ سازی میں بلا واسطہ یا بالواسطہ شرکت  اور اثر اندازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ شوگر ملز لگانے سے لے کر  گنے کی کرشنگ، چینی کی برآمد یا درآمد اور برآمد پر سبسڈی تک کے فیصلے، قوانین اور انتظامی قواعد و ضوابط سرا سر شوگر ملز کے حق میں یونہی تو نہیں ہو تے  رہے۔  اکنامکس اور تجارت کی زبان میں اسے  مونوپلی کہتے ہیں۔کسی بھی پبلک سروس یا اشیا کی پیداوار، ترسیل  اور تقسیم میں مونوپلی آزاد تجارت کے خلاف ہے جس کا لامحالہ نقصان صارفین کو ہوتا ہے۔ شوگر انڈسٹری ایک کارٹل  یعنی  تجارتی مفادات سے بندھا  ایک گروہ ہے۔

ہمارے ہاں  صرف شوگر انڈسٹری ہی واحد کارٹل نہیں، ایک ڈھو نڈو  ہزار ملتے  ہیں کا  سا معاملہ ہے۔ چینی  کے بحران کا آغاز ہوا تو ساتھ  ہی آٹے کا بھی بحران شروع ہوگیا، جو وقتی طور پر کچھ کنٹرول کے بعد اب پھر سر اٹھا چکا۔ وفاقی حکومت مصر ہے کہ گندم کی کوئی قلت نہیں اگر سندھ حکومت اپنے حصے کا کوٹہ جاری کرکے مارکیٹ میں ریلیز کر دے۔  وزیر فوڈ سیکیورٹی نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے یہ  نتیجہ نکالا ہے کہ  ٌ یہ  تو ذخیرہ اندوزوں کا کام لگتا ہے ٌ۔

 سیمنٹ، بنک، آٹو موبائل، انرجی سمیت  اور بہت سی انڈسٹریز  کے کارٹل بھی بڑے مضبوط ہیں۔ چند سال قبل  آزادانہ مارکیٹ مقابلہ بازی  ہوئی تو سیمنٹ کی قیمتیں کافی گر گئیں۔ پھر اس انڈسٹری کے  لیڈر  سر جوڑ کر بیٹھے اور  اسکول میں پڑھی  اتفاق میں برکت ہے والی کہانی کا سبق پھر سے یاد کیا۔ اس کہانی میں دم آخریں بزرگ نے اپنے بچوں کو سمجھایا کہ  اکیلے رہو گے تو اکیلی لکڑی کی طرح توڑ دیے جاؤ گے، اکٹھے رہو گے تو لکڑی کے گٹھے کی سی مضبوطی کی وجہ  اپنے آپ کو بچا پاؤ گے۔  وہ دن اور آج کا دن، مارکیٹ میں ڈیمانڈ کم ہوئی تو انہوں نے مل کر پروڈکشن کم کردی  لیکن قیمت کم نہیں ہونے دی۔ 

ان کارٹلز  کی ملی بھگت   اور بے جا کاروباری فوائد  حاصل  کرنے  کے عمل کی حوصلہ  شکنی کے لئے حکومت نے  2007  میں ایک مسابقتی کمیشن بنایا یعنی

 Competition Commision of Pakistan۔

 یہ ایک بر وقت اور عمدہ اقدام تھا۔ اس کا بنیادی چارٹر اور اس کو حاصل عدالتی اختیارات سے امید بندھی کہ مارکیٹ میں  کارٹلز کی  جتھہ بندی یا  طلب اور رسد  پر  مخصوص انداز میں اثر انداز ہو کر صارفین کے ساتھ زیادتی کے سامنے  بند باندھا جا سکے گا۔  اس کے پہلے چئیرمین عالمی تجربے اور بے لاگ پروفیشنل صلاحیت کے   حامل تھے۔  انہوں نے  اپنے اصل کام یعنی کارٹلز کے خلاف  تحقیقات شروع کیں اور فیصلے دینے شروع کئے تو ان کارٹلز کو ایک جھٹکا سا لگا۔

 بنکوں سے لے کر شوگر اور  سیمنٹ اندسٹری تک سبھی  نے اقتدار کے ایوانوں میں اپنے اپنے رسوخ کی  رسیاں ہلائیں، عدالتوں کا رخ کیا۔ اس کے بعد کی کہانی سب کو معلوم ہے کہ کس طرح اس  کمیشن کے چئیرمین اور کمشنرز کی  تعیناتی  میں حکومت یا تو بہت زیادہ  ٌ دلچسپی  ٌ لینے لگی  یا بالکل اغماض کہ مہینوں  اس کا  ڈھانچہ ہی نا مکمل رہا۔ اس کے  عدالتی اختیارات کا بھی اسی طرح تیا پانچہ کیا گیا۔ پچھلے دو چئیرپرسن عدالتی سٹے پر نوکریاں بچا کو رخصت ہوئے۔

 اس حکومت نے بھی  آتے ہی چینی اور آٹے کی قیمتوں میں عدم استحکام کا ذمہ دار چیر پرسن مسابقی کمیشن کو ہی قرار دیا۔  حالانکہ وہ اگر 2009 کی مرتب کردہ اسی کمیشن کی رپورٹ  سے رجوع کر لیتے تو انہیں اندازہ ہو جاتا کہ کمیشن نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کو  مخصوص مفادات کے لئے   ملی بھگت کا  ایک فورم قرار دیا۔  رپورٹ کے مطابق بادی النظر میں شوگر ملز گنے کی قیمتوں کے تعین، خریداری کے لئے علاقوں کی حد بندی، ٹریڈنگ کارپوریشن کے ٹینڈرز  میں ملی بھگت، نو وارد سرمایہ کاروں کی  راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے،  تخمینوں کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین اور باہمی گٹھ جوڑ سے  مطلوبہ قیمتوں کے حصول  میں مسلسل ملوث رہے۔ اس سے زیادہ  صاف اور واضح رپورٹ اور کیا ہو گی مگر   حکومت اب اپنی نئی رپورٹ کی روشنی میں فارنزک  آڈٹ کروا رہی ہے۔  

جی بسم اللہ، ضرور کیجئے، مت چھورئیے کسی کو بھی چاہے  وہ پی ٹی آئی میں ہو یا کسی اور پارٹی میں لیکن یہ کیا کہ اتنی تنقید، تحقیقات، میڈیا ٹرائل اور  ٌ نہیں چھوریں گے ٌ  کا خوف بھی کسی کام نہ آیا، چینی  65/70 روپے سے ہوتی ہوئی اب ایک سو روپے فی کلو سے زائد ہو چکی ہے۔  ان دھمکیوں کا کوئی کیا کرے اگر بیٹھے بٹھائے  صارفین کو تیس پینتیس روپے سے زائد کا ہرجانہ چار پانچ مہینوں میں دینا پڑ گیا لیکن حکومت ان کا بال بھی بیکا نہ کر سکی۔  چینی کی برآمد پر  جن  چند ارب کی سبسڈی  پر میڈیا میں سینہ کوبی ہوئی، بڑھی ہوئی ان قیمتوں کی  صورت میں   صارفین کی جیب سے اس سے کئی گنا زیادہ  نکل چکا ہے۔

مافیا کا لقب  اٹلی سے جنم لینے والے جرائم پیشہ گروہوں کے لئے استعمال ہوا اور بعد ازاں  ایسے ہی سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لئے مستعمل ہے۔  مافیا کے لقب سے سیاسی سنسنی خیزی کا بیانیہ تو خوب بنتا ہے مگر  یہ بنیادی طور پر اصل مسئلے سے پہلو تہی کا باعث بن رہا ہے۔ مارکیٹ کے نظم کو آزادانہ  کام  کرنے کا ماحول اور   قانونی  چھتر چھاؤں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔  شوگر انڈسٹری ہو یا دیگر  انڈسٹریز، یہ کام سنجیدگی  سے  مناپلی ایسوسی ایشنوں اور ان کے ممبران کے  حکومتی صفوں اور پالیسی سازی میں گڑے مضبوط پنجے  اکھاڑنے سے ہی ہو گا۔ اس کے لئے تحمل،  تدبر اور ایک  دور رس اسٹر ٹیجی بنانے اور اس پر عمل کرنے  کی ضرورت ہے۔ صرف بیانئے کی گرد اڑانے سے  کچھ ہوگا  اور نہ صرف خالی  دھمکیوں سے