مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں 10 کشمیری، دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک
- اتوار 30 / اگست / 2020
- 7070
مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی فورسز اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ جمعے اور ہفتے کو ہونے والی جھڑپوں میں سات حرییت پسند اور ایک بھارتی فوجی ہلاک ہو گیا۔
سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان پہلی جھڑپ ضلع شوپیاں کے گاؤں کلورا میں جمعے کی شام کو ہوئی۔ مقامی پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) نے بھارتی فوج کی '44 راشٹریہ رائفلز' اور وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ساتھ مل کر گاؤں کا محاصرہ کیا۔
پولیس چیف کے مطابق گاؤں میں چھپے حریت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے دوران ’البدر مجاہدین’ کا ضلعی کمانڈر شکور پرے اور اس کے تین قریبی ساتھی سہیل بٹ، زبیر نینگرو اور شاکر الجبار جاں بحق ہو گئے جب کہ ان کے پانچویں ساتھی شعیب احمد بٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس چیف کے بقول شکور پرے دہشت گردی کے کئی واقعات میں ملوث تھا۔ اس پر ایک مقامی فوجی اور ایک پنچایتی عہدیدار کو اغوا کر کے ہلاک کرنے کا بھی الزام تھا۔
سرینگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کا کہنا ہے کہ کلورا گاؤں میں کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران محصور عسکریت پسندوں میں سے ایک شعیب بٹ نے ہتھیار ڈال کر خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا۔ سرکاری عہدیداروں کے مطابق جمعے کو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے زاڈورہ میں عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپ ہفتے کی صبح ختم ہوئی۔ جس میں تین مشتبہ عسکریت پسند اور ایک بھارتی فوجی ہلاک ہوا۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار کا واقعے سے متعلق کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق کارروائی میں ہلاک ہونے والے والے مقامی عسکریت پسند عادل حافظ، رؤف احمد میر اور ارشد احمد ڈار کا تعلق علیحدگی پسند تنظیم حزب المجاہدین سے تھا۔
ہفتے کو رات گئے سرینگر کے پانتہ چھوک علاقے میں بھی ایک جھڑپ ہوئی جس میں تین مشتبہ عسکریت پسند اور پولیس کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہلاک ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوجی آپریشنز کے دوران رواں سال اب تک 173 عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 45 سیکیورٹی اہل کار بھی عسکریت پسندوں کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق پچھلے سال پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی آئینی نیم خود مختاری کو ختم کیے جانے کے بعد سے عسکری تنظیموں کی صفوں میں شامل ہونے والے مقامی نوجوانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کے اتحاد کُل جماعتی حریت کانفرنس (میر واعظ گروپ) نے الزام لگایا ہے کہ کشمیری مسلمانوں، بالخصوص نوجوانوں کو پولیس اور سیکیورٹی فورسز بلاوجہ گرفتار کرتی ہیں اور عقوبت خانوں میں ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔