چھوٹی اپوزیشن جماعتوں کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر عدم اعتماد
- اتوار 30 / اگست / 2020
- 5120
اپوزیشن میں شامل چھوٹی جماعتوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اے پی سی بلانے سے قبل اپوزیشن اتحاد کو باضابطہ شکل دینے کے لیے میثاق جمہوریت کی طرز پر معاہدہ کریں۔
یہ مطالبہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق قانون سازی کی منظوری کے دوران پارلیمنٹ میں حکومت کی حمایت کرنے کے حالیہ اقدام پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے ناراض متعدد چھوٹی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مطالبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی قوم پرست جماعتوں کے علاوہ دیگر چھوٹی پارٹیوں کی جانب سے جمعرات کw اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر حزب اختلاف کی 9 جماعتوں کے ایک اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے نمائیندے موجود نہیں تھے۔ تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ رہبر کمیٹی کے حوالے کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں رہبر کمیٹی اس وقت تشکیل دی گئی تھی جب جے یو آئی (ایف) نے حکومت مخالف لانگ مارچ کیا تھا اور اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دیا تھا۔ کمیٹی کا بنیادی مقصد دھرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا اور تنازع کے حل کے لیے حکومت سے مذاکرات کرنا تھا۔
تاہم رہبر کمیٹی غیر مؤثر رہی کیوں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے صرف علامتی طور پر اس دھرنے میں حصہ لیا اور صرف مولانا فضل الرحمن نے سرکاری ٹیم کے ساتھ بات چیت کی اور 13 دن بعد دھرنا اچانک منسوخ کردیا تھا۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے صدر آفتاب شیرپاؤ، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی اور نیشنل پارٹی (این پی) کے ایوب ملک کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایک دھڑے بلوچستان نیشنل پارٹی (ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کے گھر پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کی۔
روزنامہ ڈان کے مطابق اجلاس میں شریک ہونے والے ایک رہنما نے بتایا کہ اجلاس میں متعدد رہنماؤں نے اپوزیشن کے اتحاد کو نقصان پہنچانے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ملک کے سیاسی امور پرتفصیلی بحث کی ہے اور انتخابات اور دیگر اہم امور میں اداروں کی مداخلت کو روکنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت چند سینئر رہنماؤں نے ناراض رہنماؤں کو منانے کی کوشش کی اور ان کو بتایا کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ ان دو بڑی جماعتوں پر اعتماد کریں اور حکومت کے خلاف مہم میں انہیں ساتھ لے کر چلیں۔
اجلاس کے بعد ایک مختصر نیوز کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے کوئی تحریری وعدہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے صرف اتنا کہا کہ اس طرح کی تجویز پر رہبر کمیٹی ہی فیصلہ کرسکتی ہے۔
تاہم مولانا فضل الرحمٰن نے یہ تاثر ختم کرنے کی کوشش کی کہ حزب اختلاف کی صفوں میں کوئی دراڑ پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس مطالبے پر متحد ہے کہ ملک کو بیرونی مداخلت کے بغیر تازہ اور شفاف عام انتخابات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل نو کی جائے اور ایک ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی دوسرا ادارہ انتخابی عمل میں مداخلت نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے کے دوران بعد پارٹیوں کے بیشتر تحفظات دور کردیے تھے۔