حکمرانی کا بحران اور صوبائی حکومتیں
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 30 / اگست / 2020
- 5110
پاکستان کا بحران حکمرانی کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی یا فوجی حکومتوں کے ادوار بھی ہمیں ایک اچھی اور شفاف طرز حکمرانی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔سیاست او رجمہوریت یا قانون کی حکمرانی کے بطن سے اگر اچھی حکمرانی کا نظام پیدا نہ ہو یا لوگوں کا نظام پر عدم اعتمادہو تو سیاست او رجمہوریت کا مصنوعی عمل اپنی اہمیت کھودیتا ہے۔
اس لیے موجودہ صورتحال میں لوگوں کی سیاسی حکمرانی کے نظام پر بہت زیادہ عدم اعتماد یا بداعتمادی کی فضا پائی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اچھی حکمرانی سے ہماری مراد کیا ہے۔ عمومی طور پر اچھی حکمرانی کو لوگوں کا نظا م پر اعتماد، وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم، اداروں تک عام افراد کی رسائی، نگرانی او رجوابدہی کا موثر نظام، ادارہ جاتی عمل کا مضبوط ہونا، کمزور طبقات کے مفادات کو تقویت دینا، اختیارات کی تقسیم او رعدم مرکزیت کا نظام، شہریوں کی نظام امور میں موثر شمولیت یا ان کی فیصلہ سازی میں شراکت، انصاف کا موثر نظام جیسے امور شامل ہوتے ہیں۔
پاکستان میں عمومی طور پر ہم ایک سیاسی نعرہ مرکزیت کے نظام کے تناظر میں سنتے تھے کہ چھوٹے صوبوں کے مفادات پر مرکز کا قبضہ ہے۔ کہا جاتا تھا کہ مرکز صوبوں کو کمزور کرنے کی بجائے خود کو مضبوط کرکے وسائل پر اپنا قبضہ برقرار رکھتا ہے۔ اسی سوچ او رفکر کی بنیاد پر صوبائی سطح پر خود مختاری کے نعرے کو بہت زیادہ تقویت ملتی تھی۔اسی سوچ کی بنیاد پر مرکز کو حکمرانی کے شفاف نظام میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ لیکن 2010میں اٹھارویں ترمیم کے بعد ہمیں ماضی کے صوبوں کے مقابلے میں صوبوں کی ایک نئی حیثیت دیکھنے کو ملی اور یہ تمام صوبے زیادہ وسائل اور خود مختاری کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہماری حکمرانی کا نظام صوبائی سطح پر اپنی سیاسی، انتظامی اور معاشی افادیت قائم نہیں کرسکا ہے۔
یہ مسئلہ پاکستان کے کسی ایک صوبہ کا نہیں بلکہ چاروں صوبوں میں ہمیں عوام کے بنیادی مسائل کے تناظر میں ایک حکمرانی کا بحران دیکھنا پڑتا ہے۔ وفاق کو اس معاملے میں ایک زیادہ ذمہ دار بھی سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ عام آدمی جس کی مرکز میں حکومت ہوتی ہے اسے ہی کامیابی یا ناکامی کی وجہ سمجھتا ہے۔ اس وقت بھی جو حکمرانی کا بحران چل رہا ہے اس میں سب سے زیادہ تنقید وفاقی حکومت کو ہی سننی پڑتی ہے اور تاثر یہ بنتا ہے کہ مسئلہ صوبائی حکومتوں کا نہیں بلکہ وفاقی حکومت کا ہے۔18ویں ترمیم کے بعد حکمرانی کے بحران کے حل کی کنجی یا ذمہ داری اصولی طور پر صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے صوبوں میں ایک مضبوط، مستحکم اور مربوط مقامی حکومت کے نظام کی مدد سے حکمرانی کے بحران کو حل کرے۔ 1973کے آئین کی شق 140اے تمام صوبائی حکومتوں کو پابند بناتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے صوبوں میں مقامی نظام کی تشکیل کو لازمی بنائیں بلکہ ان کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کی مدد سے
مسائل سے نمٹنے کی کوشش کریں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ محض وفاق پر الزامات لگا کر صوبائی حکومتیں حکمرانی کے بحران سے خود کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں، جو درست عمل نہیں۔ ماضی میں ہم یہ منطق دیتے تھے کہ وفاق صوبوں کو اختیارات دینے کی بجائے اسے سلب کررہا ہے۔لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ صوبائی سطح پر موجود حکومتیں اپنے اپنے صوبوں میں ”مرکزیت کے نظام“ کی بنیاد پر کھڑی ہیں۔ یہ صوبائی حکومتیں کسی بھی سطح پر مقامی حکومتوں کے نظام کی نہ توتشکیل کی حامی ہیں او رنہ ہی انہیں اختیارات دینے میں کوئی دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں نہ تو مقامی نظام موجود ہے اور عملًا یہ نظام مفلوج اور سیاسی استحصال کا شکار ہے۔صاف پانی، سیوریج، صفائی، ناجائز تجاوزات، مقامی عدل وانصاف، بے ہنگم ٹریفک، بے جا گندگی کے ڈھیر، کمیونٹی کی سطح پر تعلیم اور صحت کی سہولتوں، مقامی امن و آمان، پولیس اور مقامی ادارے یعنی، پانی، صفائی سمیت دیگر ادارے، مقامی وسائل کی منصفانہ تقسیم ایسے معاملات ہیں جو اول صوبائی حکومت اور دوئم مقامی حکومت کے نظام کی باہمی کاوش سے جڑا ہوتا ہے۔
حکمرانی کے موجودہ بحران کا سیاسی، سماجی، انتظامی، قانونی او رمعاشی جائزہ لیاجائے تو بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔مسئلہ یہ ہے کہ یہ صوبائی حکومتیں وسائل او راختیارات تو لینا چاہتی ہیں او راس پر شور بھی بہت مچاتی ہیں،لیکن اپنی حکمرانی کے نظام میں شفافیت پیدا کرنے او رخود کو جوابدہ بنانے کے لیے تیار نہیں۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے حالیہ حکمرانی کے بحران پر درست تجزیہ کیا ہے۔ ان کے بقول جب تک کمزور سیاسی قیادت، کمزور سیاسی فیصلے او رکمزور سیاسی حکمت عملی یا منصوبہ بندی کی بنیاد پر صوبوں کے نظام کو چلایا جائے گا، حکمرانی کا بحران حل ہونے کی بجائے او رزیادہ پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔فواد چوہدری تو خود اپنی وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہیں کہ ان کی اپنی پالیسی بھی پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے حوالے سے مثبت نہیں۔ فواد چوہدری ایک مضبوط مقامی نظام کے حامی ہیں او راسی کو حکمرانی کے نظام کی بہتری کی کنجی سمجھتے ہیں۔
تحریک انصاف او رعمران خان کی سیاست کہ اہم نکات میں بنیادی نکتہ مقامی حکومتوں کے نظام سے بھی جڑ ا ہوا ہے۔ لیکن افسوس کے ان دو برسوں میں پنجاب او رخیبر پختونخواہ بھی مضبوط مقامی نظام حکومت سے محروم ہے۔ حالانکہ چند پہلے عمران خان نے اعتراف کیا کہ ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، پنڈی، فیصل آبادکا نظام روائتی طریقے سے نہیں چلے گا۔ ان کے بقول ان کا نظام بھی باقی شہروں کے نظام سے مختلف ہونا چاہیے او رمقامی نظام کی مضبوطی اس کی بنیاد ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں کہ عمران خان اپنی خواہش یا اپنی سیاسی کمٹمنٹ کے باوجود بھی اس نظام میں کچھ بڑا نہیں کرسکے۔ہمارے میڈیا او راہل دانش کی سطح پر بھی حکمرانی کے بحران کی ذمہ داری مکمل طور پر صوبائی حکومتوں پر ڈالنے سے گریز کرتی ہیں اور یہاں بھی سیاسی جماعتوں یا سیاسی قیادت کا طرح سیاست کا کلچر عام ہے۔حالانکہ میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکمرانی کے بحران میں زیادہ جوابدہ بنائیں او ران کی زیادہ باز پرس کی جائے کہ وہ کیونکر ایک اچھی حکمرانی پیدا نہیں کرسکے۔
صوبوں میں گندگی، سیلاب یا بارشوں کے مسائل کی بنیادی وجہ ان مسائل پر عدم توجہ ہوتی ہے۔ ہماری صوبائی حکومتیں عوامی نمائندوں کے مقابلے میں سرکاری افسران یا بیوروکریسی پر انحصار کرکے نظام حکومت کو چلانا چاہتی ہیں۔ یہ تجربہ ماضی میں بھی ناکام ہوا او راب بھی ہمیں ناکامی کے سوا کچھ نہیں دے رہا۔ اصل مسئلہ صوبائی حکومتوں کی یا تو صلاحیت کے فقدان سے جڑا ہوا ہے یا ان کی کمٹمنٹ اور نیتوں کا فتور ہے۔ ان صوبائی حکومتوں کے پاس نہ تو پورے صوبے کی ترقی کا ماسٹر پلان ہے او رنہ ہی بڑے شہروں کے حوالے سے ان کے پاس کوئی منصوبہ بندی یا حکمت عملی ہے۔ صوبائی حکومتیں روائتی، فرسودہ اور پرانی سیاسی سوچ کے ساتھ خود حکمرانی کا نظام چلارہی ہیں جو بڑی رکاوٹ ہے۔وفاق کو یقینی طور پر خود بھی اپنے سیاسی رویوں میں تبدیلی لانی ہے تو دوسری طرف وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ چاروں صوبوں کو بھی ذمہ دار بھی بنائیں او ران کی جوابدہی کا نظام بھی چلائیں۔سوال یہ بھی ہے صوبائی حکومت جس میں وزیروں او رمشیروں کی فوج ہوتی ہے، ایک بڑی پھیلی ہوئی بیوروکریسی او رحکومتی انتظامی ڈھانچہ، مقامی حکومتوں کا نظام او ران کے منتخب نمائندے او راس کے بعد بھی صوبائی نظام اچھی حکمرانی نہیں دے سکا تو پھر اس سارے بھاری بھرکم حکمرانی کے نظام کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔
مسئلہ کسی ایک حکومت پر الزام تراشی کا نہیں۔ حکمرانی کا نظام وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے نظام کے درمیان باہمی رابطہ کاری، اعتماد سازی، تعاون یا سہولت کار کے عمل سے جڑا ہوتا ہے۔لیکن جب حکمرانی کے نظام میں یہ ادارے خود ذمہ داری لینے کی بجائے ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوجائیں خاص طو رپر صوبائی و مقامی حکومتیں تو پھر حکمرانی کے نظام کو درست کرنا سیاسی نعرہ بن جاتا ہے۔