سانحہ کرائسٹ چرچ کا فیصلہ اور سزائے موت کی ضرورت

ستائیس اگست کے دن کرائسٹ چرچ میں مسلمان نمازیوں کا قتلِ عام کرنے والے اور سفید فام بالا دستی پر یقین رکھنے والے دہشت گرد   برنٹن ٹیرنٹ کو عمر قید کی سزا سنا  ئی گئی جس میں پیرول کی گنجائش نہیں ہے۔یعنی تادم مرگ مجرم کی رہائی کے امکانات نہیں ہیں۔

یہ نیوزی لینڈ کی حالیہ تاریخ کی سخت ترین سزا ہے جس کی پہلے مثال نہیں ہے۔ یہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی سزا کا بھی پہلا واقعہ ہے۔   انتیس سالہ دہشت گرد آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں پیدا ہوا۔ اس کی ماں سکول ٹیچر اور باپ کچرا ڈھونے والے ٹرک کا ڈرائیور تھا۔2010 میں باپ کے انتقال کے بعد اس دہشت گرد نے ملازمت چھوڑ دی اور کئی ملکوں کا سفر کرنے نکل گیا۔ اس کی دادی کے مطابق اس کے اندر تبدیلیاں اس  سفر کے دوران آئیں۔2017 میں یہ نیوزی لینڈ چلا گیا جہاں یہ اس حملے کی منصوبہ بندی کرتا رہا اور مختلف قسم کا اسلحہ جمع کرتا رہا۔بالآخر پندرہ مارچ 2019 کے دن اس ظالم نے اپنے منصوبے پرعمل در آمد کیا اور جمعہ کی نماز کے وقت کا انتخاب کیا جس میں بڑی تعداد میں نمازی مسجد میں جمع ہوتے ہیں۔

اس نے پہلے مسجد النور میں نہتے نمازیوں پر اچانک فائرنگ کھول دی۔ اس دوران وہ  اپنے سر پر نصب کیمرے کے ذریعے فیس بک پر لائیو یہ کارروائی نشر کرتا رہا۔ اس کے بعد وہ گاڑی چلا کر قریبی علاقے میں موجود   لن وڈ اسلامک گیا اور وہاں مسجد  کے باہرکھڑے دو نمازیوں پر فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔ ایک نمازی عبدلعزیز نے قاتل کی گن پکڑ لی اور جب وہ فرار ہونے کی کوشش کرہاتھا تو اسی گن سے قاتل کی گاڑی کا شیشہ توڑ دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پولیس نے اس دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔اس نے  51افراد شہید کیے اور درجنوں زخمی کیے۔ اس کا ارادہ مسجد کو آگ لگانے کا تھا جس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

اس اندوہناک واقعے کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت خصوصاً اس کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈن  نے جس دلیرانہ اور ہمدردانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا  پوری دنیا نے اس کی تعریف کی۔ ایک برس اور پانچ  ماہ کے بعد مجرم کو سزا بھی سنا دی گئی۔یوں حکومت نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی کسر روا نہیں رکھی۔ستائیس اگست جس دن فیصلہ سنایا گیا بیشتر مقتولین کے لواحقین عدالت میں موجود تھے۔ ان میں سے بعض مختلف ملکوں سے آئے تھے۔جس کے لیے نیوزی لینڈ حکومت نے خصوصی انتظام کیا تھا۔اُنہوں نے قاتل کو قریب سے دیکھا اور اس سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔انہوں نے قاتل کو بزدل،  چوہا قرار دیا جسے پھانسی ہونی چاہیے تھی۔عدالت میں موجود ایک شخص ناتھن سمتھ  نے کہا ” میں بھی ایک سفید فام ہوں۔ ایک مسلمان بھی ہوں جس پر مجھے فخر ہے۔ تم نے اپنے عمل سے پوری سفید فام نسل کا سر شرم سے جھکا دیا ہے

عدالت میں موجوداحد نبی نے کہا”تم ایک انتہائی گھٹیا قاتل ہو۔نہتے افراد پر فائرنگ کرنا کون سی بہادری ہے۔ تم نے میرے جس اکہتر سالہ باپ کو مارا ہے اس سے دو بدو لڑتے تو وہ تو اپنے ہاتھوں سے تمہارے دو ٹکڑے کر دیتا۔“ عبدلعزیز جس نے قاتل پر اسی کی گن سے حملہ کیا تھا،نے کہا:”تمہیں خدا کا شکر اد اکرنا چائیے کہ اس دن میرے ہتھے نہیں چڑھے ورنہ اس کہانی کا انجام مختلف ہوتا۔“ دیگر متاثرین نے بھی اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

جج کیمرون منڈر  نے فیصلہ سناتے ہوئے مجرم سے کہا ” تمہارا عمل اتنا گھناؤنا ہے کہ مرتے دم تک جیل میں رہو تو بھی یہ سزا کم ہے۔“  جج کے یہ ریمارکس اشارہ کرتے ہیں نیوزی لینڈ کے قانون میں تبدیلی کی گنجائش ہے۔ قانونی بحث یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس فیصلے کے بعد نیوزی لینڈ میں عوامی بحث کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے جس میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا دونوں ملکوں کے عوامی نمائندے بھی شامل ہو گئے ہیں۔نیوزی لینڈ کے عوام جو پہلے اپنے پر امن ملک میں اس گھناؤنے واقعہ کے بعدصدمے کی کیفیت میں تھے اب اس بات پر ناخوش ہیں کہ آسٹریلیا سے آئے ہوئے اس مجرم سے نہ صرف ان کے ملک کو اتنا نقصان پہنچا ہے بلکہ اس دہشت گرد کی سیکورٹی کے لیے ٹیکس دہندگان کے لاکھوں ڈالر لگ رہے ہیں۔ اس کی عمر قید پر جو زرِکثیر خرچ ہو گا وہ اس پر خوش نہیں ہیں۔وہ مجرم کو آسٹریلیا بھجوانا چاہتے ہیں تاکہ اس سزا پر عمل درآمد اس کے اپنے ملک میں ہو۔نیوزی لینڈ کے نائب وزیر اعظم ونٹسن پیٹر  نے بھی کہا کہ سزا ہو جانے کے بعد مجرم کو آسٹریلیا منتقل کر دینا چائیے۔لیکن ماہرین قانون کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

  قانون کے پروفیسر الیگزینڈر گیلیس پائی  کہتے  ہیں  کہ  نیوزی لینڈ اس دہشت گرد کی سیکورٹی پر روزانہ  4500  ڈالر خرچ کر رہا ہے کیونکہ ایسے دہشت گردوں کے سیکورٹی اخراجات عام مجرموں سے پندرہ گنا زیادہ ہو تے ہیں۔ یہ مجرم کبھی آزاد نہیں ہو گا تو جب تک یہ زندہ رہے گا اس پر اتنے اخراجات اٹھتے رہیں گے جو نیوزی لینڈ کے ٹیکس دہندگان ادا کریں گے۔ یہ سر ا سر زیادتی ہے۔ اسے آسٹریلیا کی جیل میں ہونا چائیے جہاں سے یہ آیا ہے۔

اس مسئلے کا سب سے آسان حل تو یہ ہے کہ ایسے خطرناک مجرم کو اتنے بہیمانہ جرم کی پاداش میں پھانسی ہونی چائیے۔ اس سے نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے ہوتے  بلکہ اس سفید ہاتھی کو پالنے  پر زرِ کثیر خرچ کرنے کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔خس کم جہاں پاک۔ لیکن یورپ سمیت دنیا کے بہت سے ممالک موت کی سزا  کے خلاف ہیں۔ جس کی وجہ سے مجرم  چند سال میں آزاد ہو کر دندناتے پھرتے ہیں  یا پھر جیل میں عیاشی کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی جیلیں بھی ہوٹلوں کی طرح تمام سہولتوں سے آراستہ ہوتی ہیں۔ ایسے میں مظلوم کے ساتھ انصاف ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ لوگ اسلامی سزاؤں کو وحشیانہ قرار دیتے ہیں۔یہاں بہرحال اسلامی سزاؤں کا سوال نہیں ہے کیونکہ یہ اسلامی ملک نہیں ہے۔ لیکن اس واقعہ اور اس فیصلے کے نتیجے میں جو تحفظات درپیش ہیں اس سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ سزائے موت کو غلط نہیں قرار دیا جا سکتا۔بلکہ یہ انصاف کے عین مطابق ہے۔