کراچی کے متعدد علاقے بدستور زیر آب، 90 گھنٹے سے بجلی غائب

  • سوموار 31 / اگست / 2020
  • 4620

کراچی میں ریکارڈ بارشوں کے 5 روز بعد بھی سینکڑوں رہائشیوں کی پریشانی ختم نہیں ہوئی۔ شہر کے کئی حصوں میں اب تک پانی بھرا ہؤا ہے اور بجلی کی فراہم نہیں ہوسکی۔

ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے باشندے تکلیف دہ صورت حال کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ متعدد لوگوں نے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور سڑکیں دوبارہ تعمیر کی جائیں۔ سیلاب سے نجات کے نام پر جمع شدہ فنڈز کے آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا اور بورڈ سے صفائی کے کام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

بہت سے افراد نے کراچی کے چند علاقوں میں 90 گھنٹوں سے زائد عرصے سے بجلی کی بندش کے بارے میں غصے کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی کیا ہے۔ حکومت سندھ کے ترجمان مرتضی وہاب نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے بخاری کمرشل سے بارش کا پانی نکالنے کے لیے مشینیں خیابان محافظ اور خیابانِ شجاعت میں لگائی ہیں۔  ڈی ایچ اے کے نالوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم ہم اپنے طور پر کوشش کررہے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث شہر  کے عوام ایک امتحان سے گزررہے ہیں۔ پوری قوم کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ وفاقی حکومت اور اس سے منسلک اداروں کی جانب سے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔ بلا سیاسی تفریق ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

کے الیکٹرک کی پریس ریلیز کے مطابق کراچی کے چند علاقوں میں بارشوں کے بعد جہاں نکاسی کا عمل اب تک جاری ہے وہیں 5 روز سے غائب بجلی کی بحالی کے لیے کے الیکٹرک کی فیلڈ ٹیمیں اور آپریشنل عملے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادارے کے مطابق بحالی کے کام میں رکاوٹوں اور ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے متعدد حصوں میں بارش کا پانی اب تک کھڑے ہونے کے باوجود کے ای شہر کے 95 فیصد سے زائد حصے میں دوبارہ بجلی فراہم کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔