عرب امارات اور اسرائیل میں ابراہیمی امن معاہدہ؟

آج کل میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا میں ایک شور ہے کہ اسرائیل نہ جانے کیا لوٹ کر لے گیا ہے، ہر دوست پوچھ رہا ہے کیا ہوا ہے؟ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے کیا  معاہدہ کیا ہے؟ اتنا ظلم کیوں ہوا ہے؟

وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں  روٹ لیول پر اسرائیل ایک قابل نفرت نام ہے یہودی تو جیسے ایک گالی ہے کیونکہ ہر نماز یا جمعہ کے بعد دعا میں مولوی صاحب اور کچھ مانگیں نہ مانگیں اسرائیل اور یہودیوں کی بربادی کیلئے دعائیں ضرور مانگتے ہیں اور بچپن سے ہم ہر ایسی بددعا پر آمین کہتے چلے آ رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی زیادہ سیانا اسرائیل کا جواز یا اس کی خوبیاں بیان کرے گا تو راسخ العقیدہ ذہن اس کا منہ توڑ دینا چاہے گا کیونکہ اس بیچارے نے صرف ایک تصویر دیکھ رکھی ہے جو پروپیگنڈہ ہتھیار کے طور پر ستر سالوں سے ذہنی سکرینوں پر دکھائی یا بٹھائی جا رہی ہے کہ اسرائیلی فوجی، درندوں کی طرح معصوم فلسطینی عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ آئے روز ان کے بلکتے بچوں کو خون میں نہلاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ جب اس نے اپنے میڈیا کے ذریعے ہمیشہ یہی پڑھا سنا ہو گا کہ اسرائیل کا وجود عالم اسلام کے وجود پر بدترین ناسور ہے۔ امریکا اور یورپ نے گہری سازش کے تحت ہمارے سینے میں یہ خنجر گھونپا ہے تو ہ تصویر کا دوسرا رخ کیسے دیکھ پائے گا۔ درویش نے آج سے کوئی دو دہائیاں قبل تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کے لئے ایک مفصل و مدلل آرٹیکل بعنوان ”امریکا کی اسرائیل سے محبت کا راز“ تحریر کیا تو بہت سے نوجوانوں نے رابطہ کرتے ہوئے مزید تفصیلات طلب کیں اور کہا کہ ہم نے تو زندگی میں پہلی بار یہ باتیں پڑھی ہیں۔

ابھی 13 اگست کو امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر کے ذریعے اسرائیل اور عرب امارات میں جو تاریخی ابراہیمی امن معاہدہ کروایا ہے اس کے تحت دونوں ممالک نہ صرف یہ کہ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کریں گے بلکہ توانائی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی و سیاحتی حوالوں سے معاہدے کرتے ہوئے سٹریٹجک پارٹنر بنیں گے، باہمی پروازیں بھی شروع ہوں گی اور عرب مسلمان مسجد اقصیٰ میں نماز بھی پڑھ سکیں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سوڈان، عمان اور بحرین بھی جلد اس نوعیت کے  معاہدوں میں شامل ہو جائیں گے اور سعودی عرب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کروانے کیلئے کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔ سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے کی بات تو ہو چکی ہے۔ مڈل ایسٹ میں قیام امن کا راگ الاپتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مشیر کو خصوصی طور پر اس امر کی وضاحت کرنے کیلئے کہا کہ ہم اسے سیدنا ابراہیم ؑ کے ساتھ کیوں منسوب کر رہے ہیں؟ بتایا گیا کہ سیدنا ابراہیم ؑ یہودیوں اور عربوں دونوں کیلئے باپ کی حیثیت رکھتے ہیں اور تینوں بڑے مذاہب، مسیحیت، یہودیت اور اسلام انہی کی پیروی کے دعویدار ہیں، اس لئے خطے میں قیام امن کے اس تاریخی معاہدے کو ان سے منسوب کیا جاتا ہے۔

ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے دراصل ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ صدارتی انتخابات میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور خود کو امن کے لئے کاوشیں کرنے والے صدر کے طور پر پیش کیا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپنے خلاف  عوام کا غم و غصہ کم کرنے کے لئے اس معاہدے کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا ہے۔ ایک طرف یہ کہا گیا ہے کہ ویسٹ بینک کے جن علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا سیاسی نعرہ لگایا گیا تھا یورپی یونین کی مخالفت کے بعد ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا گیا کہ فی الحال اس پر عمل کو روک دیا گیا ہے۔ساتھ ہی اگلے روز کہا گیا کہ ہم نے وقتی طور پر یہ عندیہ ظاہر کیا ہے مکمل دستبرداری نہیں کی ہے، جو بھی ہے اس میں قیام امن سے زیادہ سیاسی مفاد کے حصو ل کی خواہش بہرحال کارفرما ہے۔

ابھی یہ جو کچھ ہوا ہے قطعی غیر متوقع نہیں تھا۔ متحدہ عرب امارات نے اس سے پہلے 28 جنوری کو جیرڈکشنر کی سنچری ڈیل کی تقریب جو وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی تھی، شرکت کی تھی جس میں امریکی صدر نے ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا تھا۔ اس کے بعد 20 جون کو امریکی یہودیوں کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے کھلے بندوں یہ کہا تھا کہ ہم عربوں نے کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بائیکاٹ کر کے دیکھ لیا ہے مگر مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اس لئے اب ہم تعلقات کی بحالی کرنے جا رہے ہیں اگر فلسطین کے  ایشو پر اختلافات رہ بھی گئے تو انہیں ایک طرف رکھتے ہوئے ہم دیگر تمام شعبہ جات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے۔

ایک زمانہ تھا جب اسرائیل کے ساتھ بھرپور جنگیں لڑنے اور ذلتیں اٹھانے کے بعد 1979 میں عرب جمہوریہ مصر کے صدر انور سادات نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے مقبوضہ علاقے واگزار کروائے تھے تو خود عرب لیگ اور  او آئی سی  میں ایسا طوفان اٹھا تھا کہ مصر کا حقہ پانی بند کر دیا گیا حتیٰ کہ مسلم انتہا پسندوں نے اس جرم کی پاداش میں اولوالعزممصری رہنما انور سادات کو گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ مگر آج وقت کس قدر بدل چکا ہے۔ پوری عرب دنیا میں کہیں کوئی قابل ذکر مخالفت نہیں ہوئی ہے، ماقبل 1994 میں اردن نے بھی اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے باہمی تعلقات کا آغاز کیا تو تب بھی اس کی مخالفت نہیں ہوئی، خود فلسطینیوں کے ہردلعزیز لیڈر یاسر عرفات نے بھی  اسرائیل کے وجود کو ایک معاہدے کے تحت تسلیم کیا۔ مراکش اور تیونس کے بھی اچھے تعلقات ہیں، اندر خانے بشمول سعودی عرب بہت سے عرب اور افریقی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

مسلم ورلڈ میں اس وقت صرف دو ممالک ہیں جنہوں نے اس معاہدے کی  صریح مخالفت کی ہے ترکی اور ایران۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ترکی خود 1949 سے نہ صرف اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ہوئے ہے بلکہ پیہم اس کے ساتھ اچھے خاصے تجارتی تعلقات بھی چلے آ رہے ہیں۔ ترک صدر رجب اردوان نہ صرف خود اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں بلکہ اسرائیلی صدر بھی ان کی دعوت پر ترکی آئے اور ترک پارلیمنٹ سے انہوں نے خطاب بھی کیا جو کسی بھی ملک کیلئے ایک اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ 1911 کے بعد کچھ سیاسی مصلحتوں کے تحت پیدا ہونے والے گلے شکوؤں کے باوجود اس وقت بھی ترکی کا  اسرائیل کے ساتھ تجارتی حجم 6 ارب ڈالر سے زائد ہے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت بھی زوروں پر ہے۔

رہ گیا ایران تو اس پر بحث کی کالم میں گنجائش نہیں بچی ہے۔ یہ درویش کی دلچسپی کا موضوع ہے اس پر اپنے کسی اگلے کالم میں مزید دلچسپ نکات اٹھائیں گے اور پاکستان کو کیا کرنا چاہیے اس پر بھی بحث کی جائے گی۔ بلکہ درحقیقت اب وقت آ گیا ہے کہ  او آئی سی  اس ایشو پر سعودی عرب کی قیادت میں ٹھوس فیصلہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حوالے سے کچھ قابل عمل  مطالبات منوالے۔