جبری گمشدگی کو قانونی طور پر جرم قرار دینے کا مطالبہ
- منگل 01 / ستمبر / 2020
- 4390
جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے عالمی دن کی مناسبت سے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر حکومت سے جبری گمشدگیوں کو قانوناﹰ جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار میں جبری طور پر گمشدہ افراد کی تعداد بہت کم بتائی جاتی ہے جس سے جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے مؤثر ہونے کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ ہر سال 30 اگست کو ان لاپتا افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے جنہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر غائب کر دیا گیا ہو۔
اس دن کو منانے کا مقصد اس جرم کی شدت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کے کرب اور ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ یہ دن عالمی سطح پر ماضی میں جبری طور پر لاپتا کیے گئے افراد کی بازیابی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس غیر قانونی عمل کی روک تھام کی عالمی کوششوں کو اجاگر کرتا ہے۔
اس دن کی مناسبت سے ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں حکومت پاکستان کو یاد دلایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2018 کے فیصلے کے مطابق جبری گمشدگی کو واضح جرم قرار دیا جائے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو معاوضہ بھی ادا کیا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا۔
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ یہ امر بھی شدید تشویش کا باعث ہے کہ بہت سے متاثرین اداروں یا جبری گمشدگیوں میں ملوث افراد کی انتقامی کارروائی کے خوف کےسبب کسی کی مدد حاصل کرنے یا کیسز کی تشہیر سے ڈرتے ہیں۔ ایچ آر سی پی کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے کہ سرکاری اعداد و شمارمیں جبری طور پر گمشدہ افراد کی تعداد بہت کم بتائی جاتی ہے جس سے جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے مؤثر ہونے کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں۔
ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر دین محمد جیسے متاثرین 11 سال کے طویل عرصے سے لاپتا ہیں۔ تاہم یہ رجحان بھی پریشان کن ہے کہ کئی افراد کو مختصر عرصے کے لیے جبری طور پر لاپتا کیا جاتا ہے اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ان کے بقول ایچ آر سی پی مطالبہ کرتا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے 2010 میں قائم کیے گئے عدالتی کمیشن کے مشاہدات منظرِ عام پر لائے جائیں اور جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کی آزادانہ طور پر تشکیل نو کی جائے جو محض تحقیقات نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنے کے بھی قابل ہو۔