پی آئی اے کا یورپی ممالک میں پروازوں کی معطلی کےخلاف اپیل نہیں کرے گی

  • منگل 01 / ستمبر / 2020
  • 4660

پی آئی اے کی انتظامیہ نے یورپیئن یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی  کی جانب سے یورپی ممالک میں پی آئی اے کی پروازوں کی آمدو رفت معطل کرنے کے اقدام کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن  کے آپریشنل سیفٹی آڈٹ کی ٹیم کی جانب سے پی آئی اے کے آپریشنل انتظامات اور کنٹرول سسٹم کا جائزہ لینے کے لیے 7 ستمبر کو متوقع دورے کے تناظر میں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آئی اے ٹی اے کی سیفٹی آڈٹ ٹیم یہاں 5 روز قیام کرے گی۔

پی آئی اے انتظامیہ کو یقین کے ہے کہ اس دورے کے دوران وہ ٹیم کو حفاظتی اقدامات اور قومی ایئر لائن سے متعلق بین الاقوامی ادارے کی رکھی گئی تمام شرائط پوری کرنے کے حوالے سے قائل کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔

یاد رہے کہ ای اے ایس اے نے پی آئی اے کو ایک تحریری خط ارسال کر کے آگاہ کیا تھا کہ مقررہ مدت میں ایئر لائن کے فلائٹ آپریشن میں سیفٹی منیجمنٹ ٹولز لاگو کرے۔ یکم جولائی سے یورپی یونین کے رکن ممالک میں پی آئی اے کی پروازوں کی آمدو رفت کو 6 ماہ کے لیے معطل کردیا گیا تھا۔

تاہم ای اے ایس اے نے کہا تھا کہ 2 ماہ میں پروازوں کی معطلی کے فیصلے کے خلاف اپیل کی جاسکتی تھی اور یہ 2 ماہ کی مدت 30 اگست کو اختتام پذیر ہوگئی تھی۔ آپریشنل سیفٹی آڈٹ ہر 2 سال بعد کیا جاتا ہے اس قسم کا آخری آڈٹ 2018 میں ہوا تھا۔ آئی اے ٹی اے نے 2003 میں یہ آڈٹ پروگرام تشکیل دیا تھا تا کہ ایئرلائنز کے آپریشنل منیجمنٹ اور کنٹرول سسٹم کا جائزہ لے سکے۔

ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے ای اے ایس اے میں اپیل نہ کرنے کے فیصلے کے حوالے سے محکمہ ہوا بازی کو آگاہ کردیا ہے کہ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی اور قانونی ماہرین سے رائے لی جنہون نے آئی اے ٹی اے کی سیفٹی آڈٹ ٹیم کے دورے کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پی آئی اے انتظامیہ آئی اے ٹی اے کو تمام حفاظتی اقدامات دکھانے کی بہتر پوزیشن میں ہوگی اور انہیں پی آئی اے کی پروازوں کی معطلی ختم کرنے کا فیصلہ واپس لینے پر قائل کرسکے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ ای اے ایس اے نے پاکستان حکام سے سیفٹی منیجمنٹ سسٹم (ایس ایم ایس) کے 11 پوائنٹس کی وضاحت کرنے کا کہا تھا۔

پی آئی اے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کا کہنا تھا کہ ہم برطانیہ اور یورپی یونین حکام سے مسلسل بات چیت کررہے ہیں تا کہ پروازوں پر پابندی ختم کی جاسکے۔ ایک بڑی ہوا باز کمنی بھی اس سلسلہ میں پی آئی اے کی مدد کررہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مارکیٹ میں اپنے قدم واپس جمانے کے لیے پی آئی اے نے بہتر مصنوعات کے ساتھ متبادل انتظامات کے تحت برطانیہ کے لیے پروازیں بحال کی ہیں جو براہ راست پروازوں کی اجازت ملنے تک جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو امید ہے کہ پروازوں کی معطلی جلد ختم ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ 24 جون کو قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 کے لائسنس جعلی ہیں۔ 30 جون کو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لئے معطل کردیا تھا۔