عاصم باجوہ کو اثاثوں کے بارے میں سوالوں کا جواب دینا چاہئے: مریم نواز

  • منگل 01 / ستمبر / 2020
  • 4980

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے کہا ہے کہ وہ ان اثاثوں کے بارے میں جواب دیں۔ وہ ان کے خاندان کے مبینہ اثاثوں کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پر بات کررہی تھیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اٹھائے گئے سوالات کو سازش نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو کوئی نقصان پہنچے گا۔ اس معاملہ میں ریاست کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک فرد کا معاملہ ہے۔

 مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف سی پیک کے لئے  60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں لے کر آئے۔  انہیں اگر ایک اقامے پر نکالنے پر سی پیک کو کچھ نہیں ہوا تو ایک فرد کے آنے جانے سے یا احتساب کا سامنا کرنے سے بھی سی پیک کو کچھ نہیں ہوگا۔ صحافی نے سوال کیا کہ عاصم باجوہ پر جو الزامات لگے ہیں یہ اس دور کے الزامات ہیں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی تو کیا وجہ تھی کہ ان کی پارٹی اپنے ماتحتوں کی نگرانی نہیں کرسکی۔

مریم نواز نے کہا کہ عاصم باجوہ کے خلاف جو 'ثبوت' سامنے آئے وہ بہت بڑے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنا دفاع کریں اس پر اپنی پوزیشن کو قوم کے سامنے واضح کریں۔ اگر آپ ٹیکس دہندگان کے پیسے پر سرکاری عہدے پر ہیں اور کوئی الزام لگتا ہے  تو آپ کو جوابدہی سے بچنا نہیں چاہئے۔

نواز شریف کی وطن واپسی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جس دن ان کی حالت خطرے سے باہر ہوگی وہ اسی دن واپس آجائیں گے۔

جج ارشد ملک کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ان کا اعتراف انصاف کے چہرے پر دھبہ ہے، جسے دھونے کی کوشش کی گئی ہے۔ جو بہت اچھا ہے۔  اب نواز شریف کا وہ فیصلہ بھی ختم کردیں جو اس جج نے دیا تھا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف باہر جانے سے میرا احتساب کا بیانیہ کمزور ہوگیا ہے۔ پھر کہا فلاں فلاں کو ضمانت مل گئی اس لیے میرا احتساب کا بیانیہ کمزور ہوگیا۔ مریم نواز نے کہا کہ میں عمران خان اور ان کی حکومت سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ آج جب عاصم سلیم باجوہ پر ثبوتوں کے ساتھ الزام لگے ہیں تو احتساب کا بیانیہ کہاں سو رہا ہے۔ کیا آج احتساب کے بیانیے کو کوئی چیلنج نہیں ہے۔ آگے بڑھیں اور عوام کو بتائیں کہ وہ ہمہ قسم احتساب پر یقین رکھتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا وہ نواز شریف ہو، مریم نواز، شہباز شریف، عمران خان، عاصم سلیم باجوہ، میر شکیل الرحمٰن، قاضی فائز عیسیٰ یا سرینا عیسیٰ  کوئی بھی ہو، قانون سب کے لئے برابر ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے موجودہ جج ہوتے ہوئے، نواز شریف 3 مرتبہ کے وزیراعظم ہوتے ہوئے، ان کی بیٹی مریم نواز کے علاوہ سرینا عیسیٰ کوئی عہدہ نہ رکھتے ہوئے قانون کے آگے پیش ہوسکتے ہیں تو پھر کسی کو استثنٰی نہیں ہے۔ قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور برابر ہونا چاہیے۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ اس کیس کے بعد عمران خان کو چاہیے کہ احتساب کا بیانیہ جو ارشد ملک کیس میں ایکسپوز ہوچکا ہے اس کے کفن دفن کا انتطام کرلیں۔

صحافیوں کو دھمکیاں دینے کے سوال پر مریم نواز  نے کہا کہ احمد نورانی کو دھمکیاں نہیں دینی چاہیئں، انہیں جواب دینا چاہیے۔ خیال رہے کہ افواج پاکستان کے سابق ترجمان لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے متعلق صحافی احمد نورانی نے ایک ویب سائٹ پر رپورٹ شائع کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ عاصم سلیم باجوہ کی فوج میں اہم عہدوں پر تعیناتی کے دوران اُن کی اہلیہ اور بچوں نے بیرون ملک اثاثے بنائے۔

اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے 10 ستمبر تک پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست پنجاب حکومت نے مسترد کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں میں تقریباً 22 ماہ بعد منگل کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور نیب کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث، سینیٹر پرویز رشید، احسن اقبال، مصدق ملک اور راجہ ظفرالحق سمیت دیگر پارٹی رہنما  کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ آئندہ سماعت سے قبل سرنڈر کریں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف ہر صورت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ اگر اُنہیں ایئر پورٹ پر گرفتاری کا خدشہ ہے تو بتا دیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز کو آئندہ سماعت پر عدالت آنے سے بھی روک دیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مریم نواز کے آنے سے سڑکیں بلاک ہو جاتی ہیں، لہذا ابھی انہیں آنے کی ضرورت نہیں۔ سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی میرٹ پر ضمانت منظور ہوئی۔ نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک گئے۔ واپس نہ آنے کی وجوہات درخواست میں لکھی ہیں۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا اس وقت نواز شریف ضمانت پر ہیں یا نہیں؟ جس خواجہ حارث نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا ضمانت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کو عدالت میں سرنڈر نہیں کرنا چاہیے تھا؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کا کیس منفرد ہے۔ عدالت کو سرنڈر نہ کرنے پر تفصیلی آگاہ کروں گا۔

خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ نواز شریف کو جو بیماریاں تھیں، اس کا علاج پاکستان میں نہیں ہے۔ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ پنجاب حکومت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، جس نے نواز شریف کی بیماری کا جائزہ لیا۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں نے صحت یابی پر وطن واپسی کی ضمانت دی تھی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ نے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تو کیا العزیزیہ کی سزا ختم ہو گئی؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ کی سزا مختصر مدت کے لیے معطل کی۔ کیا لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کو سپرسیڈ کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا حکم صرف ای سی ایل سے نام نکالنے کا تھا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کو وفاقی حکومت نے ہائی کمشن کے ذریعے چیک کرنا تھا۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ مجھے اس بارے میں کوئی ہدایات نہیں ملیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کیا پاکستانی ہائی کمشن نے نوازشریف کے حوالے سے رپورٹ لی۔ پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت مسترد کر دی۔ اگر وفاقی حکومت کا بھی یہی موقف ہو تو پھر نواز شریف کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ نواز شریف کے پاس اس وقت کوئی ضمانت نہیں۔ نواز شریف کا علاج جاری ہے۔ جب علاج مکمل ہو گا، وہ واپس آئیں گے۔ جسٹس محسن نے کہا کہ نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے یا نہیں، ریکارڈ پر ایسی کوئی دستاویز نہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر مفرور ہیں یا نہیں، اس کا جائزہ وفاقی حکومت لے سکتی ہے۔ وفاقی حکومت نے نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ عدالت کو مطمئن کریں کہ نواز شریف عدالت سے فرار نہیں ہوئے۔ نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا تب اپیل آگے چلے گی۔ عدالت نے 10 ستمبر کو وفاقی حکومت سے بھی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بتائے کہ شہباز شریف کے بیان حلفی کی روشنی میں اب تک کیا کارروائی کی گئی؟ کیا وفاقی حکومت نے نواز شریف کی صحت سے متعلق اپنے طور پر تصدیق کی؟