کورونا بحران کے سبب دنیا کے ایک ارب طلبہ کی اسکولوں میں واپسی غیر یقینی ہوگئی

  • بدھ 02 / ستمبر / 2020
  • 4050

کورونا وائرس کے بحران نے دنیا کے کئی ترقی پذیر خطوں میں نوجوان نسل کے لیے تعلیمی مواقعوں کو محدود کر دیا ہے اور ان کے لیے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے امکانات بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔

انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے اور اسکولوں کی بندش کے باعث تقریباً تمام سطحوں پر طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں عالمی ہنگامی صورتِ حال قرار دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے تعلیمی اور ثقافتی امور سے متعلق ادارے یونیسکو کے مطابق دنیا کے ایک ارب یعنی دو تہائی طالب علموں کو اسکولوں کی بندش کے بعد اپنی تعلیم جاری رکھنے میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس برس اگست اور اکتوبر کے درمیان تقریباً 90 کروڑ پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے طلبہ و طالبات کو کلاسوں میں واپس جانا تھا۔ لیکن کورونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال میں دنیا کے 155 ممالک میں صرف 43 کروڑ طالب علم ہی اسکول واپس جاسکیں گے۔

دنیا کے تقریباً 45 کروڑ نوجوان اپنے نئے تعلیمی سال کا آغاز انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کریں گے۔ ان میں سے کچھ طلبا و طالبات جزوی طور پر آن لائن اور کلاس میں حاضر ہو کر تعلیم حاصل کریں گے۔ دنیا کے تین طالب علموں میں سے ایک کے لیے ہی اپنی کلاسیں جاری رکھنا ممکن ہو گا۔ یوں دنیا کے تقریباً ایک ارب یا دو تہائی طالب علموں کو تدریسی ادارے بند ہونے کی وجہ سے غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔

یونیسکو کے سربراہ آڈری آزولے کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والا یہ تعلیمی بحران، بہت ہی تشوہش ناک اور عالمی تعلیمی ماحول کے تناظر میں ایک ہنگامی صورت حال ہے۔ کئی ملکوں اور علاقوں میں جاری لاک ڈاؤن لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے خاص طور پر ایک مشکل وقت ہے۔ کیونکہ تعلیمی سلسلہ رکنے کا نتیجہ طالبات کے لیے منفی سماجی اور اقتصادی مسائل کی شکل میں برآمد ہو سکتا ہے، جس کے اثرات ان علاقوں کے لیے زیادہ سخت ہوں گے جہاں لوگوں کو پہلے سے ہی عدم مساوات اور عدم استحکام کا سامنا ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق ایسے حالات میں نہ صرف تعلیم کا معیار گرے گا بلکہ بہت سے نوجوان تعلیم ترک کردیں گے۔