امریکی بلاگر سنتھیا رچی کو 15 روز میں پاکستان چھوڑنے کا حکم
- جمعرات 03 / ستمبر / 2020
- 4110
پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے امریکی بلاگر اور سیاح سنتھیا ڈی رچی کی ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اُنہیں 15 روز میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ سنتھیا ڈی رچی کی ویزے میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ بیان میں درخواست مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے ویزے کی مدت مارچ میں ختم ہو گئی تھی۔ تاہم کرونا وائرس کی صورتِ حال کے باعث پاکستان میں موجود تمام غیرملکیوں کے ویزوں میں 31 اگست تک توسیع کر دی گئی تھی۔
سنتھیا ڈی رچی کے ویزے کی مدت بھی 31 اگست کو ختم ہو چکی تھی اور انہوں نے ویزے میں توسیع کے لیے درخواست دے رکھی تھی جسے وزارتِ داخلہ نے مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزارت داخلہ نے سنتھیا رچی کو 15 دن کے اندر پاکستان چھوڑنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سنتھیا ڈی رچی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ وزارتِ داخلہ جانتی ہے کہ وہ کس کے دباؤ میں ہے۔ اُن کے بقول پاکستان میں قیام کے دس سال کے دوران پہلی مرتبہ اُن کی ویزے کی درخواست مسترد کی گئی ہے۔
سنتھیا کا کہنا تھا کہ ویزا مسترد کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ ہمارے پاس اپیل دائر کرنے کا حق ہے اور ہم اپیل دائر کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ اعلیٰ فورم اس بارے میں ہماری درخواست کو سنے گا اور میرٹ پر ویزا دیا جائے گا۔
سنتھیا ڈی رچی کے وکیل عمران فیروز ملک نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنتھیا کا ویزا مسترد ہونا افسوسناک ہے. گزشتہ کئی سالوں سے انہیں توسیع دی جارہی تھی لیکن اس مرتبہ سیاسی وجوہات کی وجہ سے ان کی درخواست مسترد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ایک سے دو روز میں وہ سیکرٹری داخلہ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔ ہمیں عدالتوں پر مکمل یقین ہے اور اُمید ہے کہ سنتھیا رچی کو ویزا میں توسیع دے دی جائے گی۔
سنتھیا پہلی بار نومبر 2009 میں پاکستان آئی تھیں۔ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ریکارڈ کے مطابق ان کے پاس تین دن کا وزٹ ویزا تھا۔ سنتھیا رچی گزشتہ 10 برسوں میں تقریباً 50 مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں۔
سنتھیا رچی اگرچہ کئی برسوں سے پاکستان میں ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصہ میں ان کا نام اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے حوالے سے متنازع ٹوئٹ کی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک فیس بک لائیو میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سابق وزیر یوسف رضا گیلانی، سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک اور مخدوم شہاب الدین پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے تھے۔ یوسف رضا گیلانی، مخدوم شہاب الدین اور رحمان ملک ان الزامات کی مکمل طور پر تردید کر چکے ہیں۔
سنتھیا رچی کے الزامات کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سنتھیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پیپلز پارٹی نے ان کے خلاف ایف آئی اے اور پولیس کو درخواستیں بھی دے رکھی ہے۔ سنتھیا رچی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر لگائے گئے اپنے ان الزامات کو پولیس اور عدالت کے سامنے ثابت کرنے میں ناکام رہی تھیں۔