ہم تلخ حقائق کا ادراک کب کریں گے؟

ہماری دیہی زندگی میں ایک محاورہ مستعمل ہے کہ ’گیارھویں کا پتہ بارھویں کو چلتا ہے‘۔ دہشت گردوں کے خلاف جن دنوں سرگرمی سے آپریشن کیا جا رہا تھا، تب بیرون ملک دورے پر گئے ہوئے ہمارے عسکری سربراہ نے میڈیا کے سامنے اقبال کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم نے اپنی غلط پالیسیوں کے ذریعے چالیس برس قبل جو بری فصل بوئی تھی، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔

اتنی دہائیوں بعد جب برائی کی فصلیں پک کر تیار ہو جاتی ہیں تو وہ سب کو نظر آ رہی ہوتی ہیں۔ زندہ و مہذب اقوام وہ ہوتی ہیں جو ہرگزرتے لمحے اپنی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لیتی رہتی ہیں کہ جو کچھ وہ آج بیجنے جا رہے ہیں اس کے نتائج کل کو افیون کی کاشت جیسے تباہ کن تو نہیں نکلیں گے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اقوام کی اجتماعی زندگی میں کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ابدی دشمن۔ دراصل یہ اقوام کے مفادات ہوتے ہیں جن سے ٹکراﺅ کرنے والے آپ کے دشمن اور ہم آہنگی و اشتراک رکھنے والے آپ کے دوست قرار پاتے ہیں۔ طے کرنے والی اصل چیز یہ ہوتی ہے کہ ہمارا حقیقی قومی مفاد ہے کیا؟

یہ ایک ایسا حساس ایشو ہے کہ اگر ہم نے یہاں ٹھوکر کھائی تو پھر چالیس برسوں بعد سوائے پچھتاوے اور مایوسی کے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ کئی غلط فیصلوں کے نقصانات اتنے بھیانک ہوتے ہیں کہ چالیس برس چھوڑیں چالیس مہینوں سے بھی پہلے خمیازہ بھگتنا پڑ جاتا ہے اور سوائے مرگ مفاجات کے قدرت بھی  دستگیری نہیں کر سکتی۔

ہم جب سے پیدا ہوئے ہیں یہ سنتے چلے آ رہے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ اب ظاہر ہے اگر ہماری شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہو تو ہم زندہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ پچھلے طویل 73 سالوں میں ہم کشمیر حاصل کرنے کے لئے چار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ بدقسمتی سے کشمیر تو ہم حاصل نہیں کر پائے البتہ اسی تگ و دو میں اپنا آدھا ملک ضرور گنوا چکے ہیں۔ پاکستان تو پہلے ہی ہمیں ہماری توقعات کے برعکس قائد کے الفاظ میں کٹا پھٹا ملا تھا لیکن جو ملا تھا اسے بھی سنبھال کر نہیں رکھ پائے۔

ہماری یہ بھی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں سچ بولنے اور لکھنے کی کبھی اجازت حاصل نہیں رہی ہے، جس کی وجہ سے ہم نہ تو اپنی قوم کو آنے والے حالات کی سنگینی و مشکلات سے بروقت آگاہ کر سکے ہیں تاکہ وہ اپنی قیادت سے سچائی منوا سکے یا بہتر قیادت سامنے لا سکے اور نہ ہی بروقت زمینی حقائق کی مطابقت میں بہتر پالیسیاں بنا اور منوا سکے ہیں۔ اس بات کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ جب مشرقی پاکستان بالفعل بنگلہ دیش بن رہا تھا، یہاں قوم کو طفل تسلیوں کا لولی پاپ دیتے ہوئے تقاریر کی جا رہی تھیں کہ ہم نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا ہے، بغاوت کو کچل دیا ہے اور یہ کہ مشرقی پاکستان میں محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔

مملکت پاکستان کو اتنے دھکے کھانے کے بعد کم از کم اب اس فیصلے تک پہنچ جانا چاہیے کہ ہمارا نیشنل انٹرسٹ مخصوص خطوں کا حصول ہے یا عوامی فلاح و بہبود؟ پہلے ہم نے سوچا تھا کہ ہمیں دہلی تک پورا پنجاب اور کلکتہ تک پورا بنگال ملے گا لیکن نہیں ملا۔ پھر جب ہماری قیادت کو واضح طور پر کہا گیا کہ آپ ریاست حیدر آباد دکن جیسی سونے کی چڑیا کو للچائی نظروں سے نہ دیکھیں، اس کا خیال چھوڑ دیں، کسی بھی حوالے سے وہ آپ کی رسائی میں نہ ہو گی۔ اس کی بجائے آپ کشمیر کی بات کریں، تب ہمارا جواب تھا کہ اتنے وسیع و عریض اور ذرخیز و شاداب خطے کو چھوڑ کر بھلا ہم نے بنجر پہاڑوں کا کیا کرنا ہے۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے جو افراد یا اقوام بروقت درست فیصلے نہیں کر پاتے، مابعد وقت ان کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ آپ بڑی کی لالچ میں چھوٹی چیز بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ آج ہم سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کیا کوئی قوم 70 برس تک اپنی شہ رگ کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے؟ ہم کیوں دوسروں کو بے وقوف سمجھتے ہیں یا خود کو ایسا بناتے ہیں؟ بالفرض مان لیتے ہیں کہ انڈیا ہماری ایمانی قوت کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہے، ہم اسے دبوچ کر کشمیر حاصل کر لیتے ہیں۔ تو کیا اس کے بعد ہماری قومی عظمت آسمانوں پر پہنچ جائے گی یا ہمیں سرخاب کے پر لگ جائیں گے جس سے ہم دنیا کی ترقی یافتہ بڑی قوم بن جائیں گے کہ یو این سکیورٹی کونسل کی ممبر شپ ہمیں طشتری میں رکھ کر پیش کی جائے گی۔ ہماری قومی معیشت امریکا و یورپ یا چائنہ کے ہم پلہ ہو جائے گی۔ ہر چیز کو اعداد و شمار اور منطق و استدلال کے ساتھ پرکھنا چاہیے اور شیخ چلی صاحب کے خوابوں سے نکل آنا چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہمارا جو لیڈر بلند بانگ دعوے کرتا تھا شملہ معاہدے کے تحت جب وہ اپنے 93 ہزار قیدی اور ساڑھے پانچ ہزار مربع میل رقبہ چھڑا کر لا رہا تھا تو بدلے میں انڈیا کو کیا دے کر آ رہا تھا؟ مفت میں کوئی لنچ نہیں کرواتا کے مصداق مذاکرات میں کچھ لو اور کچھ دو کا اصول اپنانا پڑتا ہے۔ ہم جھوٹی کہانیوں اور جعلی خوابوں کے پیچھے کب تک بھاگتے رہیں گے؟ ہم تلخ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے کیوں قابل عمل حل پر نہیں آ جاتے جس سے ہمارے کشمیری بھائیوں کے دکھ بھی دور ہو جائیں اور ہمارے لئے باوقار طریقے سے پانیوں اور دریاﺅں کا مسئلہ بھی عالمی گارنٹیوں کے ساتھ حل ہو جائے۔

اس کے بعد ہم نہ اپنے سعودی عرب جیسے محسن دوستوں کو طعنے دیں گے اور نہ نام نہاد دشمنیوں کو پالتے ہوئے منافرتوں میں اپنے قیمتی وسائل برباد کریں گے بلکہ اس کے بعد اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی ہمارا اصل ایجنڈا ہو گا۔