نواز شریف سرجری کے باعث 10 ستمبر تک کی وطن واپس نہیں آ سکتے
- جمعہ 04 / ستمبر / 2020
- 5810
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف کا 10 ستمبر تک پاکستان واپس آنے کا امکان نہیں کیونکہ رواں ماہ لندن میں ان کی سرجری ہونے والی ہے۔
شریف خاندان نے بھی نواز شریف کا علاج مکمل ہونے تک ان کے قیام میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ اس حوالے سے شریف خاندان کے ذرائع نے بتایا کہ لندن میں نواز شریف کا علاج آئندہ کچھ ہفتوں میں ہونا ہے۔ وہ اپنا علاج ادھورا چھوڑ کر کیسے واپس آسکتے ہیں؟ شریف خاندان اور ان کی جماعت نواز شریف کی صحت پر سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہے اور چاہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم علاج مکمل ہونے کے بعد واپس آئیں۔
ذرائع نے کہا کہ شریف خاندان اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کررہا ہے اور عدالت کے (10 ستمبر کو پیش ہونے ) فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے یا کیس کی اگلی سماعت پر حالیہ میڈکل رپورٹس اور طے شدہ علاج کی تفصیلات جمع کرانے کے آپشنز پر غور کررہا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کے اہم رہنماؤں نے نواز شریف سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے وطن واپس آنے اور سیاست میں حصہ لینے کے لیے اپنا ذہن اپنانے سے پہلے صحت یاب ہوجائیں۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی نواز شریف کی فوری واپسی کا عندیہ نہیں دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نواز شریف 10 ستمبر تک عدالتوں میں پیش ہونے کے لیے واپس آجائیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ عدالتوں اور قانون کا احترام کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگر ڈاکٹرز نے اجازت دی تو نواز شریف وطن واپس آجائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت کا معاملہ سنگین ہے اور ایک بار صحتیاب ہوجانے پر وہ یہاں عدالتوں میں پیش ہوں گے۔ کراچی سے واپسی پر شہباز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف اور انہوں نے خود قید کاٹی ہے۔ میری بھتیجی مریم نواز گرفتار ہوئیں اور انہیں جیل بھیجا گیا اور میرا بیٹا حمزہ شہباز تاحال جیل میں ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے یکم ستمبر کو نواز شریف کو 10 ستمبر کو اگلی سماعت سے قبل سرنڈر کرنے حکم دیا تھا بصورت دیگر کے ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔