وزیراعظم نے معاون خصوصی اطلاعات عاصم باجوہ کا استعفیٰ منظور رنے سے انکار کردیا
- جمعہ 04 / ستمبر / 2020
- 5430
معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے آج وزیر اعظم عمران خان کو اپنا استعفی پیش کیا جو وزیر اعظم نے منظور نہیں کیا۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے خاندانی اثاثوں کے بارے میں جو ثبوت اور وضاحت پیش کی گئی ہے وہ اس سے مطمئن ہیں۔ لہذا وزیر اعظم نے انہیں بطور معاون خصوصی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ انہوں نے اپنے اہلخانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی میں نے اس حوالے سے فیصلہ کیا ہے اور صبح وزیر اعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کروں گا اور درخواست دوں گا کہ مجھے اس عہدے سے ریلیف دے دیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ سی پیک وزیر اعظم کی بہت بڑی ترجیح ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مستقبل ہے اور سی پیک اتھارٹی میں 10 ماہ گزارنے کے بعد میرا اپنا بھی یہی ماننا ہے۔ لہٰذا مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم مجھے سی پیک پر زیادہ توجہ سے کام کی اجازت دے دیں گے۔
اس سے قبل اپنے اثاثوں کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 70 ملین ڈالر کے اثاثے ہیں جن میں60 ملین ڈالر بینک کا قرض ہے۔ 50 سرمایہ کار ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے 73 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام 2002 میں شروع کیا گیا ۔ 2002 میں جب کاروبار شروع کیا گیا تو صرف ایک اسٹور کھلا تھا، اس کے بعد ہر سال یہ اسٹورز بڑھتے گئے۔ کاروبار بڑھتا گیا جبکہ اس کے بعد وہ ریئل اسٹیٹ میں بھی گئے اور ترقی ساتھ ساتھ ہوتی رہی اور سرمایہ کاری کے لیے بنیادی رقم بھی ساتھ ساتھ بڑھتی رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ یہ میرے بھائیوں کا کاروبار ہے اور وہی اسے چلا رہے تھے۔ ان کے 50 سرمایہ کار تھے۔ 60 ملین ڈالرز تو بینکوں کے ہیں، اس کے علاوہ پیسہ سرمایہ کاروں کا ہے جنہوں نے مختلف رقم کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کون سے پیسے کہاں گئے اس میں ہر چیز کا دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ ان چار پانچ دنوں میں ریکارڈز دیکھ کر تسلی کی، امریکا سے دستاویزات منگوائیں اور بھائیوں سے انٹرویو کرکے تفصیلات لیں جبکہ یہاں ٹیکس مشیر کو دکھایا اور قانونی رائے لینے کے بعد جواب دیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی اہلیہ کے نام پر 31 لاکھ روپے کے اثاثے پاکستان میں ڈکلیئر کیے ہوئے ہیں۔ امریکا والی سرمایہ کاری کے 19ہزار 492 ڈالر امریکہ میں ہمارے بچوں کو چلی گئی۔ ان میں سے کوئی بھی پیسہ پاکستان نہیں آیا۔ اگر آیا ہوتا تو کہیں ناں کہیں دستاویزات میں موجود ہوتا۔
عاصم سلیم باجوہ نے واضح کیا کہ ان کی اور ان کی اہلیہ کی ان میں سے کسی بھی کمپنی میں شیئرہولڈنگ نہیں البتہ ہمارے دونوں بچے اپنے چچا کے ساتھ رہتے ہیں، ان کے ساتھ انہی کی کمپنیوں میں کام کرتے ہیں۔ نہ میرے نام پر کچھ ہے نہ اہلیہ کے نام پر کچھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری یہ وضاحت وزیر اعظم بھی دیکھ چکے ہیں اور کوئی بھی دستاویز یا تفصیل چاہیے ہو تو میں سب اکٹھی کر چکا ہوں اور مزید کچھ چاہیے تو میں وہ بھی اکٹھی کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کا شہری ہوں اور پاکستان کے قانون کے مطابق مجھے جہاں بھی منی ٹریل یا دستاویز دینی پڑے گی تو میں دینے کے لیے تیار ہوں۔
رواں سال 28 اپریل کو سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو وزیر اعظم کا نیا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کردیا گیا تھا۔
اس سے قبل وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے اخبار میں ان کے حوالے سے شائع خبر کی تردید کرتے ہوئے ٹوئٹر پر چار صفحات پر مشتمل تفصیلی جواب جاری کیا تھا۔ انہوں نے خود پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں کی وضاحت کی تھی۔
انہوں نے احمد نورانی نے 27 اگست 2020 کو ایک ویب سائٹ پر خبر کوغلط اور جھوٹی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 22 جون 2020 کو اہلیہ کے اثاثے اپنے ڈکلیئریشن میں چھپانے کا الزام بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ اس وقت میری اہلیہ بیرون ملک کسی کاروبار میں سرمایہ کار یا شیئرہولڈر نہیں رہی تھیں۔ میری بیوی نے یکم جون 2020 کو بیرون ملک کی تمام کمپنیوں سے سرمایہ نکال لیا تھا اور امریکا کی سرکاری دستاویز میں اس کا ریکارڈ موجود ہے۔