اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوموار تک ساجد گوندل کو بازیاب کروانے کا حکم دے دیا

  • ہفتہ 05 / ستمبر / 2020
  • 5270

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) کے سینئر عہدیدار کو پیر تک بازیاب کروانے کا حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ساجد گوندل کی والدہ عصمت بی بی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر ساجد گوندل کی والدہ، اہلیہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت میں ساجد گوندل کی والدہ نے بیان دیا کہ میرے بیٹے کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ پارک روڈ سے بیٹے کو اغوا کیا گیا اور اغوا کار گاڑی وہیں چھوڑ گئے۔  چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد سے شہری کو اس طرح اغوا کیا جانا انتہائی تشویشناک ہے۔

بعدازاں عدالت نے ایس ای سی پی کے لاپتا افسر ساجد گوندل کو پیر تک بازیاب کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پیر کے دن 2 بجے تک ساجد گوندل بازیاب نہ ہوئے تو سیکرٹری داخلہ خود پیش ہوں۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ شہری کی عدم بازیابی کی صورت میں چیف کمشنر بھی عدالت پیش ہوں۔

علاوہ ازیں عدالت نے ساجد گوندل کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ساجد گوندل بازیاب نہ ہوں تو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں یہ معاملہ رکھا جائے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے آج کے عدالتی حکم نامے کی نقل سیکریٹری کابینہ ڈویژن کو بھیجنے کا حکم بھی دیا۔

خیال رہے کہ ساجد گوندل کی والدہ نے گزشتہ روز ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ شام ساڑھے 7 بجے وہ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں واقع اپنے گھر سے اپنی سرکاری گاڑی میں روانہ ہوئے۔ ان کی کار اسلام آباد کے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز کے نزدیک سڑک پر ملی۔

درخواست گزار نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ شاید ان کے بیٹے کو ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہو کیوں کہ ابھی تک ان کا کوئی اتا پتا نہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ پٹیشن کے مطابق ساجد گوندل ایک سرکاری ملازم ہیں اور امکان ہے کہ انہیں ان کے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ فریقین کو طلب کیا جائے جس میں وزارت دفاع اور داخلہ کے سیکریٹریز، انسپکٹر جنرل پولیس اور شہزاد ٹاؤن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر شامل ہیں۔ اور انہیں ساجد گوندل کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔

ساجد گوندل کی والدہ نے سیکریٹری داخلہ سے استدعا کی کہ وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیں جو شہریوں کی زندگی اور عزت کا تحفظ کرنے میں ناکام ہیں۔