پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کو بلوچستان سے بے دخل کر دیا گیا

  • ہفتہ 05 / ستمبر / 2020
  • 8460

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو حکام نے بلوچستان بدر کر کے واپس اسلام آباد بھیج دیا ہے۔ ہفتہ کے روز محسن داوڑ کو کوئٹہ ایئرپورٹ سے دس بجے کی پرواز سے اسلام آباد بھیجا گیا۔

محسن داوڑ جمعے کی شام بلوچستان کے مختلف علاقوں کے دورے پر اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچے تھے لیکن انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کوئٹہ ایئرپورٹ سے باہر نہیں آنے دیا تھا۔ جس کے بعد حکام نے انھیں ’حفاظتی تحویل‘ میں لے کر شہر کے ایک سرکاری ریسٹ ہاﺅس میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر محسن داوڑ کو ان کے تحفظ کے پیش نظر حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ تاہم پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر سیاسی جماعتوں نے محسن داوڑ کو حراست میں لینے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا۔

محکمہ داخلہ بلوچستان نے 29 جولائی کو صوبے میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محسن داوڑ نے اپنے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کو افسوسناک، غیر جمہوری اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماﺅں کے ساتھ بلوچستان میں یہ پہلاواقعہ نہیں بلکہ ارمان لونی کے قتل کے بعد  ڈیڑھ سال سے مستقل طور پر انہیں بلوچستان نہیں آنے دیا جا رہا ہے۔

محسن داوڑ نے کہا کہ وہ ایف سی کی فائرنگ سے مارے جانے والے حیات بلوچ کے خاندان سے اظہار ہمدردی اور کوئٹہ میں برمش کمیٹی کے لوگوں سے ملاقات کے علاوہ چمن میں ان لوگوں کے خاندانوں سے ملنا چاہتے تھے جو کہ مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جب کوئٹہ ایئر پورٹ پہنچے تو ان کو ایک نوٹیفیکیشن دکھا کر یہ بتایا گیا کہ ان کے بلوچستان میں داخلے پر پابندی ہے۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’خدشہ ہے کہ مجھے روکنے کے لیے کسی پرانی تاریخ میں اس نوٹیفیکشن کو بنایا گیا ہو گا۔‘  یہاں جمہوریت کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت صورتحال مارشل لا سے بھی بدتر ہے۔

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے محسن داوڑ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم بولتے تھے کہ بلوچستان میں لوگوں کی آزادانہ نقل و حمل پر پابندی ہے تو لوگ ہماری بات کو نہیں مانتے تھے۔ لیکن آج لوگوں نے خود دیکھ لیا کہ ایک رکن قومی اسمبلی بھی بلوچستان نہیں آسکتے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ محسن داوڑ کے خلاف بلوچستان میں کوئی کیس نہیں ہے تاہم سیکورٹی خدشات کے باعث ان کے تحفظ کے پیش نظرانہیں حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمعے کو بھی کوئٹہ میں بم دھماکے کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ایسے واقعات کے پیش نظر ان کو ایئرپورٹ سے ضلعی انتظامیہ کے حکام نے ایک ریسٹ ہاﺅس منتقل کیا ہے۔  انہیں ان کے تحفظ کے پیش نظر بلوچستان سے واپس بھیجا گیا۔ انہیں عزت و احترام کے ساتھ رکھا گیا، اس لیے لوگ منفی اور بے بنیاد پروپیگینڈہ پر کان نہ دھریں ۔