سرحدی کشیدگی کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے: چینی وزیر دفاع
- ہفتہ 05 / ستمبر / 2020
- 5280
چین کے وزیر دفاع وی فینگی نے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ سے ماسکو میں ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے حالیہ تناؤ کا باعث بھارت کو قرار دیا۔
چین کے سرکاری ذرائع کے مطابق چینی وزیر دفاع نے دو گھنٹے سے طویل ملاقات میں راج ناتھ سنگھ کو پیغام دیا کہ 'سرحد پر جاری حالات اور تناؤ کی وجہ اور حقیقت بہت واضح ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری انڈیا پر عائد ہوتی ہے'۔ جمعے کی شب ہونے والی ملاقات کے کئی گھنٹوں بعد بھی بھارتی حکومت کی جانب سے اس ملاقات کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم بھارتی وزیر دفاع نے اس ملاقات کی تصویر ٹویٹ کی ہے۔
دونوں وزراِ دفاع شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو میں موجود ہیں اور ان کی ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب گزشتہ کچھ مہینوں سے بھارت اور چین کے مابین سرحد پر تناؤ اور پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اس سے قبل بھارتی آرمی چیف نے کہا تھا کہ 'لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر صورتحال واقعتاً نازک اور کشیدہ ہے۔' انڈین اخبار دی ہندو کے مطابق لداخ کے دو روزہ دورے پر گئے ہوئے جنرل منوج مکنڈ ناروان نے کہا کہ 'ایل اے سی پر صورتحال کافی سنگین ہے لیکن ہم کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔' انہوں نے کہا کہ ایل اے سی پر پہلے سے موجود پوزیشن حاصل کرنے کے لیے فوجی اور سفارتی سطح پر مسلسل بات چیت جاری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بات چیت کے ذریعے اس کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
چینی حکومت کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق چین کے وزیر دفاع وی فینگی نے کہا کہ دونوں مالکوں کے درمیان واضح طور پر بات چیت ہونی چاہیے تاکہ اس تناؤ کی کیفیت کو کم کیا جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ چین کسی بھی صورت اپنی ایک انچ جگہ بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ چینی فوج پوری طرح تیار ہے اور انہیں اس بات کا اعتماد ہے کہ وہ اپنی قومی اور سرحدی سالمیت کا بھرپور طریقے سے دفاع کر سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق وی فینگی نے راج ناتھ سنگھ کو پیغام دیا کہ دونوں ملکوں کو ساتھ بیٹھ کر بات کرنا ہوگی تاکہ سرحدی علاقے میں امن قائم رہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق ایس سی او کے رکن ممالک کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت عالمی سلامتی کے لیے پرعزم ہے جو آزاد ، شفاف ، جامع اور بین الاقوامی قانون سے منسلک ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دنیا میں ایک دوسرے پر اعتماد اور تعاون ، بین الاقوامی قوانین کا احترام ، ایک دوسرے کے مفادات کے لیے اختلافات کو پر امن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت دہشت گردی کی تمام اقسام کی مذمت کرتا ہے۔
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے۔ انڈین میڈیا کے کچھ حلقوں میں یہ لکھا جارہا تھا کہ چینی فوج مئی کے پہلے ہفتے سے سرحد کے اُن حصوں میں داخل ہوچکی ہے جسے انڈیا اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ انڈین حکومت کی جانب سے ان خبروں کی تردید آتی رہی ہے تاہم گلوان وادی میں جون کے وسط میں ہونے والے پرتشدد تصادم نے معاملہ بدل دیا۔
اس جھڑپ میں انڈین فوج کے ایک کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہوگئے۔ بھارتی حکام کے مطابق اس میں کچھ چینی فوجی بھی مارے گئے تھے لیکن ان کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس جھڑپ میں چینی فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں چین نے کوئی بیان دیا۔
حال ہی میں خبریں سامنے آئیں جس کے مطابق اگست کے آخر میں دونوں فوجوں کے درمیان ایک بار پھر سرحد پر جھڑپ ہوئی تھی لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔