وزیراعظم نے کراچی کیلئے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کردیا

  • ہفتہ 05 / ستمبر / 2020
  • 5280

وزیراعظم عمران خان نے کراچی کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نے بتایا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کریں گی۔

کراچی کے دورے کے موقع پر نیوز بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کے بعد فوری طور کمیٹی بنا کر اقدامات کیے اور اسی طرح ٹڈی دل کے معاملے پر بھی فوری ایکشن لیا گیا اور اب بارشوں کی وجہ سے ملک بھر میں جہاں سیلابی صورتحال ہے اس سے اسی طرح نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔  بارشوں کے باعث کراچی میں پیدا ہونے والے مسائل کے سبب فیصلہ کیا گیا کہ دیگر تمام مسائل کو ایک ساتھ حل کیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب جو بھی فیصلے کیے جائیں گے اس کی نگرانی پرووِنشل کوآرڈینیشن اینڈ امپلمینٹیشن کمیٹی (پی سی آئی سی) کرے گی۔ کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔ اس میں پاک فوج کا بھی بہت بڑا کردار ہے کیوں کہ سیلاب اور صفائی کے معاملات میں ہمیں فوج کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جب بھی اس طرح کی قدرتی آفت سامنے آتی ہے تو اس میں فوج سب سے آگے ہوتی ہے کیوں وہ سب سے منظم ادارہ ہے اور اس کے پاس سب سے زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کے لیے تاریخی پیکج تیار کیا گیا ہے۔ اس میں وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں تعاون کررہی ہیں۔ پیکج  کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کے۔ فور منصوبے کا ایک حصہ صوبائی جبکہ دوسرا حصہ وفاقی حکومت لے گی اور اسے جلد از جلد مکمل کرکے آئندہ 3 برس میں کراچی کا پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل کردیا جائے گا۔

دوسرا مسئلہ نالوں کا ہے جہاں تجاوزات ہیں اور غریب لوگ رہائش پذیر ہیں۔ اس کے لیے این ڈی ایم اے نالے صاف کررہی ہے جبکہ وہاں بسے افراد کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سندھ حکومت نے اٹھائی ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کے کراچی پہنچنے پر گورنر سندھ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر اطلاعات شبلی فراز اور عامر محمود کیانی بھی کراچی پہنچے۔  وزیراعظم کے دفترسے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں کراچی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے جس میں وفاقی وزرا اسد عمر، شبلی فراز، علی زیدی، امین الحق، گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شریک ہیں۔

کراچی پہنچنے کے فوراً بعد وزیراعظم نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے شہر کا فضائی جائزہ لیا۔ وہ آج کاروباری شخصیات سے ملاقات کے علاوہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا دورہ بھی کریں گے۔ کراچی میں گورنر سندھ، وزیر اعلی، اراکین صوبائی اسمبلی اوردیگر شخصیات بھی وزیر اعظم سے ملاقات کریں گی۔ انہیں کراچی کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے بریفنگ بھی دی جائے گی۔

وزیراعظم کے دورے کے حوالے سے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان کراچی کی رونقیں اور بطور صنعتی شہر حقیقی شناخت بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ کراچی کے عوام کوسندھ حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑسکتے جنہوں نے 12 سالہ طویل اقتدار میں شہر کو تباہ کیا۔

کراچی کے مختلف مسائل پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کراچی اس وقت سیاست نہیں سننا چاہتا بلکہ عملی کام دیکھنا چاہتا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر اسد عمر نے کہا کہ اب یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ سنجیدگی سے اس آپشن کو دیکھا جائے کہ کیا حکومت کو کے الیکٹرک کی ذمہ داری خود لینی چاہیئے۔ سپریم کورٹ نے جو احکامات جاری کیے ہیں اس میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر کے الیکٹرک کے لائسنس میں ترمیم کی ضرورت ہے تو کی جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ واٹر سپلائی سکیم، سیوریج ٹریٹمنٹ اینڈ ڈسپوزل، سالڈ ویسٹ منیجمنٹ اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے متعلق اختیارات ایک بااختیار ایڈمنسٹریٹر اور لوکل گورنمنٹ کو تفویض کیے جائیں۔

وزیراعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ بدقسمتی سے کسی نے بھی کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل کا خیال نہیں کیا۔ حالیہ شدید بارشوں نے نہ صرف انتظامی مسائل کو اجاگر کیا بلکہ متعدد مسائل بھی پیدا کیے۔