اعلیٰ تعلیم کا معیار اعلیٰ کیوں نہیں؟
- تحریر
- ہفتہ 05 / ستمبر / 2020
- 3490
’میرے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ بیٹے نے آکیٹیکچر میں ماسٹرز کیا ہے اور ایک فرم میں ملازم ہے۔ بیٹی خیر سے نرسری ٹیچر ہے‘۔ ہمارے میزبان نے فخر سے اپنے بچوں کے بارے میں بتایا۔ اپنے ملک کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے پوچھا کہ کیا بیٹی تعلیم میں کمزور تھی یا کوئی اورمناسب جاب نہ ملی جو اس نے نرسری ٹیچنگ اختیار کی۔
ہمارے اس سوال پر چینگ حیران ہوا اور بولا جو آپ سوچ رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں، ہمارے سنگا پور میں اسکول ٹیچر بننے کے لئے بہت سے کڑے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اتنا آسان نہیں۔ ہمارے ہاں اسکول ٹیچر کی بہت عزت ہے۔ یہ کوئی بچا کھچا چوائس نہیں ہوتا بلکہ چند بہترین چوائسز میں سے ایک ہے۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ نرسری ٹیچر کی سلیکشن بہت کٹھن مراحل اور مقابلے کے بعد ہوپاتی ہے۔ چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد ایک سال وہ زیر نگرانی ٹیچر ہوگی۔ اس کے بعد کہیں جا کر اسے براہ راست کلاس پڑھانے کی اجازت ہوگی۔
یہ لگ بھگ پندرہ برس قبل کا واقعہ ہے۔ چینگ ہمارے ایک کاروباری دوست تھے۔ سنگاپور ایک شہر ہے جس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بمشکل ایک گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ سنگاپور اسی شہر پر مبنی ملک ہے۔ ہمارے میزبان نے حال ہی میں نیا گھر خریدا تھا اور شوق سے گھر دکھانے لایا تھا۔ یوں گھر دیکھتے ہوئے بے اختیار ہم نے افرادِخانہ کا ذکر چھیڑ دیا۔ چینگ کی وضاحت نے گویا ہمارے فہم پر جما ایک جالا صاف کردیا۔ جو ملک اپنے تعلیمی نظام میں ایک نرسری ٹیچر کی قابلیت، معیار، ٹریننگ اور تنخواہ کے بارے میں اس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اس کے تعلیمی نظام کی مضبوطی اور کمال کا اعلیٰ معیار قابلِ داد نہ ہو تو اور کیا ہو! ستّر اور اسّی کی دِہائی میں سنگاپور، تائیوان، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا ایشیا میں اپنی تیز ترین اور حیران کن معاشی ترقی کی وجہ سے ایشیائی اقتصادی ٹائیگرز کہلائے۔
چاروں کی معجزاتی ترقی کی اپنی اپنی وجوہات تھیں مگر ایک قدر چاروں میں مشترک تھی: تعلیم۔ ان چاروں ممالک میں ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم کے معیار نے دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ اور یورپ کے تعلیمی کمال اور افتخار کی ہمسری کرنا شروع کردی۔ سائنسی تعلیم اور تحقیق نے انڈسٹری اور تجارت کو چند سال میں زمین سے اٹھا کر فلک بوس کردیا۔ ان چاروں ممالک کی حیران کن معاشی ترقی میں تعلیمی نظام، نصاب کی ہئیت، اساتذہ کا معیار، ابتدائی و ہائی اسکول اور ہائر ایجوکیشن کے اعلیٰ معیار کا کلیدی کردار رہاہے۔ ایشیا کی ٹاپ ٹین یونی ورسٹیوں کی رینکنگ میں سنگاپور کی دو، ہانگ کانگ کی دو اور جنوبی کوریا کی ایک یونی ورسٹی شامل ہے۔
اس کا موازنہ اپنے ہاں سے کریں تو معاملات الٹ ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں سیاسی مداخلت اور بدانتظامی نے معاملات یہاں تک پہنچا دئے کہ کئی سال تو نئی انرولمنٹ بڑھنے کی بجائے کم ہوئی۔ تعلیمی معیار کا حال مزید پتلا ہے، نجی شعبے کے انگریزی اسکولوں میں اشرافیہ کے مہنگے اسکول تو کچھ معیاری تعلیم دیتے ہوں گے مگر باقی اسکولوں کے معیار کے بارے میں سوالیہ نشان ہیں۔ کاروبار اولین ترجیح اور تعلیمی معیار ثانوی سمجھا جاتا ہے۔ یہی کاروبار ی انداز نجی شعبے کے کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں رائج ہے۔
سرکاری یونی ورسٹیوں کا ایک المیہ یہ ہے کہ سرکاری مداخلت ان کی خود مختاری کی آئے دن آزمائش کرتی ہے۔ مفاد پرست گروپس کا پنجہ بیشتر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ میں بہت مظبوطی سے گڑا ہوا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ تعلیم اب صوبوں کے دائرہ کار میں ہے۔ ستم یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں میں اعلیٰ تعلیمی بجٹ پر کٹوتی کا کلہاڑا سب سے پہلے اعلیٰ تعلیمی اداروں پر گرتا ہے۔ اساتذہ کے اپنے سو مسائل ہیں، طلبا میں سے بیشتر نقد و نظر اور تحقیق کے ذوق کے طالب ہوتے ہیں نہ انہیں اساتذہ اس راہ کا شیدائی بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ ایک چل چلاؤ سا ہے، ایسے میں حیرت نہیں ہوتی کہ ہمارے ہاں کی کوئی بھی یونی ورسٹی ایشیا اور دنیا کی ٹاپ دو سو میں شامل نہیں، تحقیق سے گریز کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے جن ممالک میں پیٹینٹ کی کم ترین رجسٹریشن ہے، ان میں ہم نمایا ں ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا صنعت و تجارت سے رابطہ ندارد ہے۔
اس موضوع پردھیان دلانے کا سبب گزشتہ ہفتے کا ایک مکالمہ بنا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے نو وارد وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی نے میڈیا کے چنیدہ احباب کے ساتھ گذشتہ ہفتے ایک محفلِ مکالمہ برپا کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ 150 سال پرانی اور شاندار تعلیمی پس منظر کی حامل ہے، علامہ اقبال سمیت ہندوستان اور پاکستان کے بے شمار مشاہیر اس ادارے کے خوشہ چیں رہے۔ مگر تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اجتماعی زوال نے اسے بھی نہ چھوڑا۔ اس محفل میں تیکھے ترچھے سوالوں میں یہ حیرت اور ملال سب سے نمایا ں تھا کہ اس تاریخی ادارے کے ساتھ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا؟ اور کیا اب بھی کچھ ہو سکے گا یا یہ بھی فقط ایک روایتی مکالمہ ثابت ہو گا؟
نووارد وائس چانسلر نے انتظامی معاملات کی درستی کے اقدامات کی وضاحت کے بعد تین سالہ وژن کی بنیاد پر اعتماد ظاہر کیا کہ اس ادارے کی اعلیٰ تعلیمی شان واپس لانے کی مقدور بھر کوشش سے یہ ممکن ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے پانچ نکات کو توجہ کا مرکز بنانے کا عزم کیا ہے: تعلیم کے معیار میں ہمہ جہت بہتری،ریسرچ کو افادیت اور پالیسی ساز حلقوں سے ہم آہنگ کرنا، انٹرنیشنل روابط اور عالمی مسابقت، تاریخی انفراسٹرکچر کی حفاظت اور بحالی اور گورننس میں جوہری تبدیلی۔
اللہ کرے کہ وہ یہ سب کچھ کر پائیں، کیونکہ زوال کے گراف کا رخ واپس پلٹنا بہت مشکل ہے۔ ادارے کے اندر اور باہر سٹیٹس کو کی طاقتیں ایسے ایسے انوکھے وار کرتی اور مشکلات کے کانٹے بچھاتی ہیں کہ تبدیلی کے داعی کو اپنی عزت بچانی مشکل ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں کی اعلیٰ تعلیم کا معیار اعلیٰ کیوں نہیں؟ اس پسِ منظر میں اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے اور بہت پیچیدہ ہے اگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہ آئے تو!