چین و امریکہ: ایک نئی سرد جنگ کی تیاری؟

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے

چینیوں کے بارے میں علامہ اقبال نے جس زمانے میں یہ الفاظ لکھے تھے اس وقت تو شاید ہمالہ کے چشمے اتنے نہیں ابلے تھے، جتنے ان کی وفات سے ایک دہائی بعد یا پھر آج ابل رہے ہیں۔

ممالک و اقوام میں حکمرانی کے مزے لینے والے صدور ہوں یا وزرائے اعظم، ہرگزرتے لمحے کے ساتھ آتے اور جاتے رہتے ہیں مگر تاریخ میں جس کو ولولہ انگیز قیادت کہا جاتا ہے وہ نرگس کے برسوں یا صدیوں رونے کے باوجود کبھی کبھی آتی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ماﺅزے تنگ کو نہ صرف جدید چین کا بانی کہلوانے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ وہ ایک ایسا عوامی لیڈر تھا جس کے ایک اشارے پر کروڑوں انسانوں کی دوڑیں لگ جاتی تھیں وہ غلط کام کا بھی حکم دیتا تو طوفان برپا ہو جاتا تھا۔

تاریخ میں اس کا تقابل ہٹلر سے کرتے ہوئے اسے پانچ کروڑ انسانوں کا قاتل قرار نہ دیا جائے یا منتقم مزاج ڈکٹیٹر کے نام سے یاد نہ بھی کیا جائے پھر بھی یہ تسلیم کرنے میں پس و پیش نہیں ہو گی کہ تمامتر عوامی مزاج  کے باوجود ماﺅزے تنگ ایک ویژنری لیڈر ہرگز نہیں تھا۔ اپنی تمام انقلابی کاوشوں، انسانی مساوات کے نعروں، غریبوں کی تقدیر بننے کے اعلانات یا ثقافتی کایا پلٹ کی تعلی کے باوجود اس نے دکھوں کے مارے چینی عوام کو سوائے جبر و استبداد اور مزید دکھوں کے اور کچھ نہیں دیا۔

دوسرا چینی لیڈر جس نے تاریخ میں ناقابل فراموش مقام بنایا اور جو کبھی ماﺅزے تنگ کے انتقام اور مظالم کا نشانہ بھی بنا تھا، نیچر نے اس کے اندر قائدانہ صلاحیتوں اور عوامیت کے ساتھ ساتھ کس قدر ویژن رکھا تھا یہ درویش اسے بجا طور پر جدید چائنہ کا حقیقی بانی یا معمار قرار دے سکتا ہے۔ کمیونسٹوں کے اس ماڈریٹ مجدد کا نام ڈنگ ژیاﺅ پنگ ہے۔ یہ وہ لیڈر تھا جس نے جدید چین کو نہ صرف یہ کہ کمیونزم کی خوفناک کرختگی سے نکالا بلکہ تعمیر و ترقی کی نئی شاہراﺅں پر رواں دواں کر دیا۔ سوشلسٹوں کے روایتی جبر کا شکنجہ ڈھیلا کیا پڑا، چین میں جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے متوالوں نے سمجھ لیا کہ شاید اب نظریاتی جبر سے ہماری جان چھوٹنے ہی والی ہے۔ اور جو سلوک ماﺅزے تنگ کی بیوہ سمیت چار کے ٹولے سے ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ وہ نہیں ہو گا۔ ان کا یہ نعرہ کہ ”روشنی کمیونزم کے علاوہ بھی موجود ہے“، بالآخر 1989کی ایک ظالم رات تیامن اسکوائر میں ان کے لئے بصورت برق پیام موت بن کر آیا۔ چینی نوجوانوں کے جواں جذبوں کو ان کے جسموں سمیت ٹینکوں تلے کچل دیا گیا۔

عوامی جمہوریہ چین کی تیسری ولولہ انگیز عظیم قیادت موجودہ صدر شی جن کی صورت پوری دنیا کے سامنے نمودار ہوئی ہے۔ 15 جون 1953کو پیدا ہونے والے شی زندگی کے بھرپور نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد 15 نومبر 2012کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے اور بعد ازاں 14 مارچ 2013کو صدر بنائے گئے۔ آپ پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر انچیف بھی ہیں۔ آپ کے والد اگرچہ کامریڈ کی حیثیت سے چین کے نائب وزیراعظم رہ چکے ہیں اور زیر عتاب بھی رہے۔ شی کو بھی ماقبل ماﺅ کے ثقافتی انقلاب نے اور مابعد ڈنگ کے تیامن سکوائر سانحہ پر تنقید نے جھٹکے لگائے۔ نوجوانی میں حکمرانی کا ماحول دیکھنے کے علاوہ انہیں شامکسی صوبے میں 6 سال زراعت بھی کرنی پڑی اور غار میں کچھ عرصہ گزارنے کا تجربہ بھی ہوا۔

سپاٹ چہرے والے چینی صدر بظاہر خاموش طبع ہیں لیکن اندر ہی اندر جتنا کام کر جاتے ہیں اس کی گواہی وزیراعظم نریندر مودی بھی دیں گے جن سے ان کی اب تک اٹھارہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ احمد نگر (گجرات) میں وہ ان کے ساتھ جھولے بھی جھول چکے ہیں مگر نتیجہ گلوان کی صورت سب کے سامنے ہے۔ کیا کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ نیپال جیسی دنیا کی واحد سابق ہندو ریاست اور بھارتی اتحادی ہندی کی بجائے چینی نعرے لگائے گی۔ آج اگر وہ متنازعہ بھارتی علاقوں کو اپنے نقشوں میں دکھا رہی ہے تو اس میں اصل کرنٹ صدر شی جن پنگ کا ہے جنہوں نے نیپال کو ہمالہ کوریڈور منصوبے کی تجویز پیش کر رکھی ہے۔ جس کے تحت تبت اور سنکیانگ روڈ سے ہوتے ہوئے نیپال کو براستہ قراقرم گوادر سے ملا دیا جائے گا۔ یوں اس کی سمندر تک رسائی میں بھارتی مجبوری ختم ہو جائے گی۔ یہی سہولت افغانستان کو بھی حاصل ہو جائے گی۔

پچھلے دنوں چینی وزیر خارجہ کے ساتھ نیپال، افغانستان اور پاکستان کے ذمہ داران کی ویڈیو کانفرنس بھی منعقد ہو چکی ہے جس میں انہوں نے ٹرانس ہمالہ راہداری کی تعمیر اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے کی تجاویز پر بات کی۔ دوسری طرف زلمے خلیل زاد کے ذریعے امریکا یہ تجویز پیش کر رہا ہے کہ وہ سنٹرل ایشیا کے ممالک کو انڈیا سے ملانے کیلئے ریلوے ٹریک منصوبہ کی مالی معاونت کیلئے تیار ہے جو ازبکستان کو افغانستان اور پاکستان کے راستے انڈیا سے ملا دے گا۔ پاکستان نے اس حوالے سے چین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ امریکی دباﺅ میں نہیں آئے گا، البتہ افغانستان کو مطمئن رکھنے کیلئے اس نے انڈیا کے ساتھ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر پابندی اٹھالی ہے اور افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے کھول دیئے ہیں کیونکہ افغانستان کے بغیر پاکستان بھی سنٹرل ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔

اگر یہ رسائی خواہ انڈیا تک بڑھتی ہے تو پاکستان کے مفاد میں ہے۔ نیپال کے حوالے سے یہ مودی سرکار کی بدقسمتی ہے کہ اس وقت نیپال میں ماﺅ نواز کمیونسٹ قیادت برسر اقتدار ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں تو یہ ایشو بھی نہیں ہے وہاں بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن کی سپتری شیخ حسینہ واجد جیسی اولوالعزم بنگالی لیڈر بنگالی قوم کی قیادت کے سنگھاسن پر تشریف فرما ہیں۔ مودی جی کو سوچنا چاہیے کہ آخر شیخ حسینہ صاحبہ ان سے کیوں نالاں ہیں؟

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں

فقط یہ بات کہ پیرمغاں ہے مرد خلیق

(جاری ہے)