افریقہ اور پاکستان میں کورونا کے کم پھیلاؤ کا راز کیا ہے؟

اس وقت پوری دنیا کو کورونا وائرس نے مفلوج کر رکھا ہے لیکن پاکستان اور افریقہ میں وسائل کی قلت کے باوجود اس وبا پر قابو پالیا گیا ہے۔ ماہرین اس صورت حال کو حیرت سے دیکھتے ہیں۔

 پاکستان میں گزشتہ جون کے وسط تک روزانہ 6 ہزار سے زائد کیسز سامنے آرہے تھے لیکن ستمبر میں ان کی یومیہ تعداد کم ہو کر 300 سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ سندھ میں پانچ ماہ کے دوران پہلی بار کورونا وائرس سے کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔ پاکستان میں اب تک مجموعی طور پر 297512 کیسز سامنے آئے جس میں 6335 ہلاکتیں شامل ہیں جبکہ خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ گزشتہ اگست تک ہلاکتیں  80ہزار تک پہنچ جائیں گی۔

دوسری طرف امریکا اور برازیل کے بعد اس وبا کا شکار بھارت دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے ۔جبکہ پاکستان میں کورونا کاپھیلاؤ اور ہلاکتیں انتہائی کم جس پر ماہرین حیران ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا تی ہے کہ پاکستان میں اوسط عمر 22 سال ہے یعنی آبادی کی اکثریت نوجوانوں کی ہے جبکہ کورونا وائرس سے  زیادہ تر عمر رسیدہ افراد متاثر ہوتے ہیں ۔

اٹلی میں آبادی کی اوسط عمر 46.5 سال ہے جہاں پاکستان کے مقابلے میں آبادی کم ہو نے کے باوجود ہلاکتیں 35 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں ۔ بھارت میں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 69561 ہے ۔ح الانکہ بھارت میں اوسط عمر 26 سال ہے لیکن گنجان آبادیوں میں اس وبا کے پھیلنے کے خدشات زیادہ ہو تے ہیں ۔

جو ممالک کورونا وائرس سے شدید متاثر ہو ئے وہاں اوسط عمر 35 سے 45 سال کے درمیان ہے۔

دوسری طرف جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ میں کووڈ 19 کے نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ جس پر ماہرین ایک حیران کن مفروضے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ غربت کی وجہ سے ایک کمرے کے مکان میں رہنے پر مجبور خاندانوں کے لئے سماجی فاصلے برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ یہ ساری وہ چیزیں جو ماہرین کی نظر میں کورونا کی وبا کے پھیلاؤ میں مددگار ہوتی ہیں۔

ماہرین مہینوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ افریقہ کی غریب آبادیوں کے حالات کورونا وائرس کے بے دریغ پھیلاؤ کا موجب بن سکتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے وزارتی مشاورتی بورڈ کے سربراہ پروفیسر عبد الکریم کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ میں آبادی کی کثافت ایک اہم عنصر ہے۔ ان کے مطابق جہاں سماجی فاصلے برقرار رکھنا ممکن نہیں وہاں وائرس تیزی سے پھیلے گا۔

لیکن اگر حقیقت اس کے بالکل الٹ ہو تو پھر کیا؟ ماہرین اب یہ سوچ رہے ہیں وہ حالات جنہیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب سمجھا جاتا ہے، کہیں وہی اس مسئلے کا حل بھی تو نہیں ہیں؟ کیا غربت ہی کورونا سے دفاع کا بہترین ذریعہ تو نہیں۔ وبا کے ابتدائی دنوں میں ماہرین اس پر متفق تھے کہ افریقہ میں اس وبا پر قابو پانا بہت مشکل ہو گا۔

جنوبی افریقہ میں وبائی امراض کے ماہر پروفیسر شبیر مہدی کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ ہم تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ تمام اندازوں کے مطابق جنوبی افریقہ کے ہسپتال اور براعظم افریقہ کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ صحت عامہ کے نظام بہت جلد کورونا کی وبا کے دباؤ میں آکر گھٹنوں پر آ جائیں گے۔

لیکن آج جنوبی افریقہ کورونا کی اس وبا سے کامیابی سے نمٹتا ہوا نظر آتا ہے جہاں نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ جنوبی افریقہ میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد برطانیہ میں اسی وبا سے مرنے والوں کے مقابلے میں سات گنا کم ہے۔

اگر یہ مان لیں کہ افریقہ میں کووڈ 19 سے مرنے والوں کی اصل تعداد کا نصف بتائی جاتی ہے تب بھی جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ کی کورونا کے خلاف کامیابی بہت متاثر کن ہیں جہاں ہسپتالوں میں بیڈ مسلسل خالی پڑے ہیں۔ جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ میں کورونا کے پھیلاؤ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں جبکہ یہ باقی دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

پروفیسر مہدی کہتے ہیں: ’یہ ناقابل یقین ہے، یہ ایک معمہ ہے۔‘ اب کچھ ماہرین براعظم افریقہ میں  وبا کے کم پھیلاؤ کی ایک وجہ افریقہ کی نوجوان آبادی کو قرار دے رہے ہیں۔ افریقہ میں اوسط عمر یورپ کی نسبت نصف ہے۔ افریقہ میں بہت کم لوگ 80 برس کی عمر پاتے ہیں لہٰذا ان کے کورونا سے متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔

ٹونی بلیئر انسٹیٹوٹ فار گلوبل چینج کے ریجنل ڈائریکٹر ٹم برومفیلڈ کے مطابق کورونا سے متاثر ہونے میں عمر ایک بڑا عنصر ہے اور افریقہ کی جوان آبادی اس کا دفاع کر رہی ہے۔ لیکن جب وبا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، وہاں اب تجزیے بھی بدلنا شروع ہو گئے اور نوجوان آبادی کے جواز کو کم مانا جانے لگا ہے۔

پروفیسر کریم کہتے ہیں کہ اس وبا سے بچاؤ میں عمر اتنا بڑا عنصر نہیں ہے۔ پروفیسر کریم کے مطابق کورونا پھیلاؤ کے ابتدائی مہینوں میں ہی جنوبی افریقہ اور براعظم افریقہ میں لاک ڈاؤن نے اس کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ چہرے ڈھانپنے اور آکسیجن کی دستیابی نے اہم کردار ادا کیا ہے.  اس کے علاوہ گرم موسم اور سطح سمندر سے بلندی کے حوالے سے تمام نظریے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

کچھ ماہرین اب بھی خبردار کر رہے ہیں کہ براعظم افریقہ میں کورونا وائرس کے حملے میں دیر ہو سکتی ہے لیکن یہ کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتا ہے۔  پروفیسر کریم کہتے ہیں کہ میں یہ کہنے کی جسارت نہیں کروں گا کہ کورونا کی وبا افریقہ سے گزر گئی ہے۔ ’کیا معلوم کسی روز یہ وبا پھر تیزی سے پھیلنے لگے۔‘

یہاں سائنسدانوں نے سویٹو کے ہسپتال میں وبائی امراض کے تجزیاتی یونٹ کے فریزر میں منجمد کیے ہوئے خون کے کچھ نمونوں سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ شاید فریزر میں پڑے پانچ سال پرانے خون کے نمونے اس معمے کو حل کرنے میں ان کی مدد کر دیں۔

اس فریزر میں جس کا درجہ حرارت منفی 180 درجہ حرارت رکھا جاتا ہے، دھات کے کچھ ڈبے رکھے ہیں جن میں پانچ سال پرانے خون کے نمونے ہیں۔ اگر بہت ہی تفصیل میں جائیں تو یہ خون سے نکالے گئے خلیے ہیں جنہیں پی بی ایم سی (PBMC) کہا جاتا ہے۔ انہیں انفلوئنزا کی ویکسین کے ٹرائل کے دوران حاصل کیا گیا تھا۔

کورونا وائرس کی کئی اقسام ہیں جو نزلہ زکام کا سبب بنتی ہیں۔ سائنسدانوں کی کوشش ہے کہ پی بی ایم سی کا مطالعہ ایسی شہادتیں حاصل کی جائیں کہ وہ لوگ جو کورونا وائرس کی دوسری اقسام سے متاثر ہوئے ہیں اور شاید اس وجہ سے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہو۔ یہ ایک مفروضہ ہے۔ جسم کے مدافعاتی نظام کا کورونا وائرسوں سے مقابلے کا سابقہ تجربہ شاید اس وبا کے افریقہ میں کم پھیلاؤ کے کچھ جواب مہیا کر دے۔

پروفیسر مہدی کہتے ہیں کہ امریکہ میں سائنسدانوں کے پاس موجود ڈیٹا اس مفروضے کو دوام بخشتا ہے۔ نزلہ زکام کا وائرس دنیا کے ہر کونے میں پایا جاتا ہے۔ لیکن افریقہ میں سائنسدان یہ سوچ رہے ہیں افریقہ کے گنجان آباد علاقوں میں یہ تیزی سے پھیلتا ہے اور زیادہ لوگوں کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے شاید اسی وجہ سے انہوں نے قوت مدافعت پیدا کر لی ہے۔

لیکن یہ ہی مثال تو انڈیا جیسا گنجان آباد ملک میں لاگو ہو سکتی ہے جس کو ایسے ہی چیلنجز کا سامنا ہے۔ افریقی ممالک میں کورونا سے تحفظ کا مدافعاتی نظام شاید زیادہ مضبوط ہو جس کی وجہ سے افریقہ میں کووڈ 19 کے مثبت مریضوں میں بیماری کے آثار ظاہر نہ ہونے کی وجہ بھی شاید یہ ہی ہو۔

پروفیسر مہدی کہتے ہیں کہ جتنے لوگوں میں کورونا پازیٹو ہونے کے باوجود ان میں بیماری کے آثار ظاہر نہ ہونے کی کوئی اور وجہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ’ایسے لوگوں کی تعداد ناقابل یقین ہے۔‘ شاید ایک بار غربت اس براعظم کی مدد کو آئی ہے۔

کچھ لوگ شاید برازیل کا حوالہ دیں جہاں کے گنجان آباد علاقوں میں حالات افریقہ سے مختلف نہیں لیکن وہاں کووڈ کا پھیلاؤ انتہائی درجے کا ہے۔ جوہانسبرگ کے سوویٹو کے ہسپتال میں جب سائنسدان پی بی ایم سی کو ٹیسٹ کرنے کے لیے نمونے تیار کرنے لگے تو انہیں ایک مسئلہ پیش آ گیا۔ ڈاکٹر گورو کواترا کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے پی بی ایم سی کو محفوظ رکھنے کے لیے جس درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کمی پیشی ہوتی رہی ہے لہٰذا پی بی ایم سی کے نمونے ٹیسٹ کے لئے موزوں نہیں رہے۔

اس کے لیے آپ کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ جنوبی افریقہ میں لوڈ شیڈنگ کو بھی نہیں۔ یہ کچھ ایسی چیز جو ہو جاتی ہے۔ سائنسدانوں کی یہ ٹیم اب نئے نمونے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن اس میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔  افریقہ میں کورونا کی وبا کے کم پھیلاؤ کا راز اپنی جگہ برقرار ہے۔