بڑے شہروں کے مسائل

پاکستان میں حکمرانی کے نظام کو موثر وشفاف بنانے یا شہریوں کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ایک مربوط و جدید قسم کا سیاسی، انتظامی او رمعاشی نظام درکار ہے۔بالخصوص جب ہم ملک کے بڑے شہروں کے مسائل کو دیکھتے ہیں تو اس غیر معمولی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمیں غیر معمولی حکمت عملی  کی ضرورت ہے۔

 بڑے شہروں کا نظام ایک بڑی سرجری کا تقاضہ کرتا ہے جو شہروں کی حالت کی درستی میں کلیدی کردار ادا کرسکے۔روائتی، فرسودہ او رپرانے خیالات کی بنا پر حکمرانی کے نظام میں موجودخرابیوں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ بالخصوص ہم کو بڑے شہروں اور چھوٹے شہروں یا شہری اور دیہی ترقی کے نظام میں ان کے مقامی حالات کے مطابق بہت کچھ تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ ایک جیسی حکمت عملی یا  فریم ورک کے ساتھ تمام شہروں کے مسائل سے نمٹنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس وقت ملک میں حکمرانی کے نظام کی شفافیت پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ حکومتوں میں کوئی بھی سیاسی جماعت ہو یا ان کی اتحادی جماعتیں مجموعی طور پر حکمرانی کا نظام اور عام لوگوں کے درمیان نظام کی ساکھ اور طریقہ کار پر شدید تحفظات ہیں۔ کیونکہ وہ یہ  سمجھتے ہیں کہ نظام کو چلانے او ران کی ضروریات کے درمیان ٹکراؤ ہے۔مسئلہ محض سیاسی قیادت کا ہی نہیں بلکہ جو انتظامی ڈھانچہ ہے جسے ہم بیوروکریسی کی مدد سے چلانے کی کوشش کررہے ہیں وہ بھی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بنیادی طور پر سیاسی او رانتظامی نوعیت کی قیادت ہی باہمی اشتراک سے بڑے شہروں کے مسائل کو حل کرنے میں کلیدی کردار اداکرسکتی ہے۔

کراچی، لاہور، فیصل آباد، روالپنڈی، پشاور، کوئٹہ سمیت چند اور بڑے شہروں کے نظام نے لوگوں کو ایک مشکل صورتحال میں ڈالا ہوا ہے۔ ہماری حکمرانی یا سیاسی حکومتوں کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ کراچی کو بدین، لاڑکانہ، نواب شاہ یا سکھر اور لاہو رکو ساہیوال، سیالکوٹ، راجن پور، ملتا ن کی شکل میں چلارہے ہیں۔ اگرچہ ہم نے اپنے مقامی نظام حکومت میں ان بڑے شہروں کو میٹرو پولیٹن شہروں کا نام دیا ہوا ہے۔ لیکن کیا واقعی اس ملک یا صوبو ں میں مضبوط مقامی نظام حکومت ہے تو جواب نفی میں ملتا ہے۔ میٹروپولیٹن کا درجہ تو بڑے شہروں کو دے دیا جاتا ہے مگر ان کو نہ تو اختیارات دیے جاتے ہیں او رنہ ہی ان کی افادیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان بڑے شہروں کا عملی نظام بھی صوبائی حکومت کے اپنے کنٹرول میں ہوتا ہے جو مسائل کو کم کرنے کی بجائے اس میں اور زیادہ اضافہ کا سبب بنتاہے۔

بڑے شہروں کو چھ بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ اول  بڑے شہروں کی معیشت مضبوط ہوتی ہے یا روزگار کے مواقع موجود ہوتے ہیں تو چھوٹے شہروں سے لوگ  بڑی تعداد میں ان بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔دوئم معاشی حب جیسی صورتحال کے باعث ان بڑے شہروں میں آبادی کا پھیلاؤ بہت بڑھ جاتا ہے جو خود بہت سے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔ سوئم ہمارے پاس کیونکہ عملی طور پر ان تمام  بڑے شہروں کی ترقی کا کوئی ماسٹر پلان نہیں ہوتا تو اس کے نتیجے میں وہاں ہونے والی ترقی کا ماڈل بھی بے ہنگم یا بے ترتیب ہوتا ہے جو زیادہ مسائل پیدا کرتا ہے۔ چہارم ناجائز تجاوزات، صاف پانی، نکاسی آب، سیوریج اور صفائی کا نظام سمیت ماحولیاتی آلودگی یا شہروں میں پیدا ہونے والا سٹریٹ کرائم یا بجلی کا ناقص نظام بڑے شہروں میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔پنجم بڑے شہرو ں کا بے ہنگم اور فرسودہ طرز کا ٹریفک کا نظام اور لوگوں کو آسان سفری سہولتوں کا نہ ہونا شامل ہوتا ہے۔ششم بڑے شہروں کا پولیس او رانصاف کا نظام،تحفظ یا سیکورٹی کا شفاف نہ ہونا بھی وہاں مختلف نوعیت کے مافیا یا جرائم کو پیدا کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم بڑے شہروں کے نظام کو تین طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں براہ راست صوبائی حکومتوں کا  کرداریعنی خود کو اختیارات کا منبع بنا کر مرکزیت کا نظام قائم کرنا یا مقامی حکومتوں کے نظام کی مدد سے یا کنٹونمنٹ بورڈز کی مدد سے چھاؤنی کے علاقوں کا نظام چلانا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان تینوں نظام کے درمیان باہمی اشتراک کم اور عدم اعتماد یا ایک دوسرے کی حیثیت کو قبول نہ کرنے کا انداز حالات کو اور زیادہ گھمبیر بنادیتا ہے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ صوبے وفاق کو وفاق صوبوں کو، مقامی نظام صوبائی نظام کو یا کنٹونمنٹ بورڈز کو حالات کا ذمہ دار قرار دے کر خود کو حکمرانی کے پیدا ہونے والے بحران سے بچاکر ”الزام تراشی کے کھیل کو“ بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔

 بڑے شہروں میں لوگ اپنی جمع شد ہ پونجی کی بنیاد پر ذاتی مکانات یا کاروبار تشکیل دیتے ہیں،لیکن بنیادی شہری سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے ان کو اپنے رہن سہن یا کاروبار چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ان بڑے شہروں کے انتظام اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے  اداروں کو نہ تو فعال کیا ہے او رنہ ہی ان کے پاس بنیادی نوعیت کی معلومات، اعدادوشمار اور  صلاحیت و سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کسی بھی بڑے ماسٹر پلان کی  عدم موجودگی  میں شہروں میں ترقی کا ماڈل کیسے شفاف ہوسکتا ہے۔  ہماری سیاسی قیادت کی منطق یا دلیل یہ تھی کہ ملک میں 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جب صوبے زیادہ بااختیار ہوگئے ہیں تو اس کا ایک بڑا مثبت اثر صوبہ کی مجموعی ترقی پر ہوگا۔یعنی صوبہ مقامی حکومتوں کے نظام کی مدد سے صوبائی او رمقامی نظام کو چلائیں گے۔یہ ہی ضمانت ہمارا 1973کا آئین بھی دیتا ہے جس کی شق140اے کے تحت صوبائی حکومتیں مقامی نظام کو خود مختار بنانے اوران کو سیاسی، انتظامی و مالی اختیارات دینے کی پابند ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری سیاسی و جمہوری قیادت نے 18ویں ترمیم کی روح کو پامال کیا او راس مقامی نظام کا بری طرح استحصال کررہی ہے جوحکمرانی کے بحران کو خراب کررہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی یا سیاسی قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر بڑے شہروں کے نظام کو روائتی نظام کے مقابلے میں ایک متبادل نظام کی تشکیل کو یقینی بنائیں۔ہمیں بڑے شہروں کے معاملات کو چلانے کے لیے آؤٹ آف باکس سوچنا ہوگا۔شہری و مقامی نظام حکومت میں کچھ نیا پن کرنا ہوگا اور اس پر وفاق و صوبوں کا مکمل اتفاق ہونا چاہیے۔کیونکہ جب تک ہم بڑے شہروں کے نظام کو چلانے میں صوبوں کے ساتھ ساتھ وفاق کو جوابدہ نہیں بنائیں گے، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔محض صوبوں پر بڑے شہروں کے معاملات کو چھوڑنا بھی کوئی بڑا مثبت نتیجہ نہیں دے سکا۔دنیا میں بہت سے بڑے میگا شہروں کا نظام وفاق کے کنٹرول میں بھی ہوتا ہے مگر ہمیں ایسا نظام درکار ہے جو وفاق اورصوبوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی بجائے ان میں اعتماد سازی اور دو طرفہ تعاون کے امکان کو پیدا کرے، یہ ہی ہماری ضرورت بھی ہے۔