اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا رچی کیس میں وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا

  • سوموار 07 / ستمبر / 2020
  • 9010

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت داخلہ کو امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی کو ملک بدر کرنے سے روکتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے سے جواب طلب کیا ہے۔

عدالت نے سنتھیا رچی کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت تک بیان حلفی جمع کروائیں جس میں ان کی تمام شکایات کی تفصیل ہو۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی وزارت داخلہ کے احکامات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر امریکی بلاگر سنتھیا رچی اپنے وکیل عمران فیروز کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

سماعت کے دوران عمران فیروز نے کہا کہ ویزا میں توسیع نہ کیے جانے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ روزانہ بہت سے شہریوں کے ویزے مسترد کیے جاتے ہیں۔ وجوہات بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس پر وکیل نے پھر کہا کہ کس قانون کے تحت سنتھیا رچی کا ویزا مسترد کیا گیا ہے؟ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ویزا مسترد کرنے کے لیے قانون کی ضرورت نہیں ہوتی، ویزا بنیادی حق نہیں، ایک سہولت ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آزادی اظہار رائے کا حق بھی غیر محدود نہیں ہوتا۔ آئین کے مطابق اس کی بھی حد مقرر ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ ویزے کے علاوہ کوئی اور شکایت ہے آپ کی؟ جس پر درخواست گزار سنتھیا رچی کے وکیل نے کہا کہ دو درخواستیں ایف آئی اے میں زیر التوا ہیں۔ جس پر عدالت نے حکم دیا کہ اگلی سماعت سے پہلے سنتھیا رچی ایک بیان حلفی میں اپنی تمام شکایات درج کر کے جمع کرائیں۔

مزید برآں عدالت نے فریقین کو بھی نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ ہفتے کو سنتھیا ڈی رچی نے اسلام آبا ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے ان کے ویزا میں توسیع نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ جس میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور سیکریٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں سنتھیا ڈی رچی نے مؤقف اپنایا تھا کہ تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود ان کے ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد کی گئی اور وزارت داخلہ نے ایسا کرنے کے لیے کوئی وجوہات بیان نہیں کیں۔ سنتھیا ڈی رچی نے کہا تھا کہ ان کا ویزا زائد المیعاد ہوگیا تھا اور انہوں نے تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ ورک ویزا کی درخواست دی تھی۔

خیال رہے کہ 2 ستمبر کو وزارت داخلہ نے امریکی شہری سنتھیا رچی  کے ویزے کی مدت میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں 15 روز کے اندر پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ سنتھیا ڈی رچی کے ویزے میں توسیع سے متعلق درخواست پر ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جنہوں نے اس درخواست کا جائزہ لینے کے بعد سفارش کی کہ ویزے کی معیاد میں توسیع نہ کی جائے۔

امریکی بلاگر سنتھیا رچی کافی عرصے سے پاکستان میں مقیم ہیں لیکن چند ماہ قبل سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے حوالے سے ایک نامناسب ٹوئٹ کے بعد ان کے پیپلز پارٹی سے اختلافات سامنے آئے تھے۔ سنتھیا رچی نے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر ریپ اور پی پی پی کے دو دیگر رہنماؤں پر دست درازی کرنے کے الزام بھی عائد کئے تھے۔