آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے: سعودی عرب

  • سوموار 07 / ستمبر / 2020
  • 6120

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک ٹیلیفون پر اسرائیل، فلسطین تنازع پر بات ہوئی ہے۔ سعودی  شاہ نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات اس وقت تک معمول پر نہیں آئیں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو جائے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی بادشاہ نے اتوار کو امریکی صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ اور مستقل حل چاہتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی فرماروا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ تنازع سعودی مملکت کے پیش کردہ عرب امن منصوبے کے مطابق حل ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان فون پر یہ رابطہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے کہ جب گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح وہ اسرائیل سے سفارتی روابط قائم کرنے والا تیسرا عرب ملک بن گیا تھا۔ اس سے قبل مصر اور اُردن بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کر چکے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ سعودی عرب امن کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔  دوسری طرف صدر ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان پروازوں کے لیے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر سعودی عرب کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے خطے میں مسئلہ فلسطین کے حل اور امن کے حصول کی کاوش قرار دیا ہے۔

سعودی عرب نے 2002 میں عرب امن منصوبے کی تجویز دی تھی۔ اس منصوبے کے تحت اگر اسرائیل فلسطین کو ریاستی حیثیت دیتا ہے اور 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں قبضے میں لی گئی زمین سے مکمل انخلا کرتا ہے تو اس کے بدلے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں۔

سعودی عرب نے تاحال اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ تاہم رواں ماہ اس نے اعلان کیا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے گا، چاہے یہ پروازیں اسرائیلی ایئر لائنز کی ہی کیوں نہ ہوں۔

وائٹ ہاؤس میں مشیر اور صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر کو امید ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ایک اور عرب ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا۔ متحدہ عرب امارات کے بعد ابھی تک کسی ملک نے ایسا نہیں کیا۔ جیریڈ کشنر گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے دورے پر تھے۔ اس کے بعد انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ فلسطین اور اسرائیل کے مابین مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت اور خطے میں مستقل امن سے متعلق بات چیت کی تھی۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر فلسطین میں منفی ردعمل سامنے آیا تھا جبکہ پوری دنیا میں کئی مسلمان اکثریتی ممالک نے اس فیصلے پر اپنے خدشات ظاہر کیے تھے۔  متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ اس معاہدے کا مقصد ایران کو جواب دینا نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ترکی کی جانب سے بھی اس معاہدے پر تنقید کو مسترد کیا تھا۔