لداخ میں چین اور بھارت کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ

  • منگل 08 / ستمبر / 2020
  • 5740

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔  بیجنگ اور نئی دہلی ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل  کا الزام لگا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق چین کی وزارتِ دفاع نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ لداخ میں اس کے فوجیوں نے اس وقت جوابی اقدام کیا جب بھارتی فورسز کے اہل کاروں نے فائرنگ شروع کی۔ وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق بھارت نے پیر کو انتہائی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا اور اس کے اہل کاروں نے مغربی سرحد پر لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے ای) کو عبور کیا اور فائرنگ کی۔

دوسری جانب بھارت نے بھی چین کی سرحدی فورسز پر فائرنگ کا الزام عائد کیا ہے۔ نئی دہلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چین نے واضح طور پر معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور بھارتی فورسز کو خوف زدہ کرنے کے لیے کئی راؤنڈز فضا میں فائر کیے۔ بھارتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شدید اشتعال انگیزی کے باوجود ان کے اہل کاروں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

بھارت اور چین میں کئی دہائیوں کے بعد سرحد پر فائرنگ کا یہ پہلا تبادلہ ہے۔ عام طور پر لداخ کی سرحد پر دونوں ملکوں کی افواج کے پاس ہتھیار نہیں ہوتے تاکہ کشیدگی کی صورت میں اس میں اضافہ نہ ہو سکے۔  بیجنگ اور نئی دہلی میں جون میں تعلقات اس وقت شدید کشیدہ ہو گئے تھے جب لداخ میں دونوں ملکوں کے غیر مسلح سپاہیوں کی جھڑپ میں بھارت کے 20 اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد چین کی فوج پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے اپنے بیان میں اس بارے میں کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کی تھیں اور نہ ہی کسی چینی اہل کار کے ہلاکت کا بتایا تھا۔ البتہ بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کرے۔ سمندر سے ساڑھے 13 ہزار فٹ بلند کوہ ہمالیہ کے اس خطے میں جھڑپ کے بعد دونوں ممالک وہاں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ دونوں ہمسایہ ملک 1962 میں ایک ماہ کی جنگ لڑ چکے ہیں۔ البتہ 1975 کے بعد اس سرحد پر کبھی بھی فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ 1975 میں ایک حملے میں بھارت کے چار اہل کار ہلاک ہوئے تھے۔ اس پہاڑی خطے میں کبھی بھی سرحد کی مناسب حد بندی نہیں کی گئی۔ بہت زیادہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے یہاں سرحد بے ضابطہ ہی رہی ہے۔ کئی دہائیوں سے سرحد پر تعینات اہل کاروں کے لیے یہ طے تھا کہ وہ غیر مسلح رہیں گے۔

رپورٹس کے مطابق بھارت کی فوج نے اہل کاروں کے لیے ضابطے میں تبدیلی کرتے ہوئے انہیں ہتھیار رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ چین اور بھارت کے وزرائے دفاع نے تین روز قبل روس کے دارالحکومت ماسکو میں ملاقات کی تھی۔ البتہ دونوں جانب سے جاری ہونے والے بیانات سے واضح ہو رہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع پر کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں بھارت نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی پر متنازع سرحد سے پانچ بھارتی اہل کاروں کو اغوا کرنے کا الزام لگایا تھا۔