چھ ستمبر: ایماندار جرنیل ، بے ایمان سیاست دان
- تحریر سرور غزالی
- منگل 08 / ستمبر / 2020
- 15380
ہم بچپن میں اپنی نصابی کتابوں میں پڑھتے رہے، کسی فیلڈ مارشل کی کہانی، کسی چونڈے کے ہیرو، کسی میجر کی کہانی، کھیم کرن اور فضائیہ کے طیارے میں دشمن غدار ساتھی کو مات دینے والے پائیلٹ کی بہادری کی داستان اور ٹینک کے نیچے لیٹ جانے والے میجر کی داستان۔
اور اسی ملک کے پاسباں اور جیالے نوجواں کے نغمے سن سن کر بڑے ہوئے اور کبھی یہ سوچا بھی نہیں کہ یہ غازی اور پرسرار بندے کبھی کوئی ملک دشمنی جیسے جرم کے مرتکب بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم تو خدا اور رسول کے بعد کسی پر یقین رکھتے ہیں تو صرف اور صرف فوجی جرنیلوں پر جو ہمیں تحفظ دیتے ہیں ہماری رکھوالی کرتے ہیں۔ مگر یہ جو میڈیا میں اور ٹیلی وژن پر خبریں چل رہی ہیں سوال و جواب کا سلسلہ ہے، اس نے ہمارے ایمان کو چند لمحوں کے لیے ڈگمگا دیا ہے۔
ہم سمجھتے تھے کہ یہ شاہیں بچے فرشتہ صفت اتنے معصوم ہیں کہ ان سے گناہ سرزد ہونا تو ممکن ہی نہیں۔ برا ہو اس وقت کا جب ہمارے کانوں میں ایسی بری بری خبریں پڑیں اور ہماری نگاہوں کے سامنے سے میڈیائی اطلاعات گزریں کہ ان سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔ یقیناً یہ ساری باتیں جھوٹی ہیں۔ یہ سچے پکے، پاسبان وطن جو نہ صرف ہماری سرحدوں کے محافظ ہیں بلکہ ہماری سوچ کی سرحدوں پر پہرہ دیتے، ہماری نظریاتی سرحدوں کے بھی محافظ ہیں۔ ان سے کیسے کوئی غلطی سرزد ہوسکتی ہے۔
اگر ایسا ہوتا کہ ان سرفروشان وطن سے کسی غلطی کی توقع کی جاسکتی تو کیا سن پینسٹھ کی جنگ میں انہیں فتح دلانے سبز عمامہ پوش کبھی ان کی مدد کو آتے۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو چند سیاست دانوں کی نااہلی تھی کہ ہم اکہتر میں ہزیمت اٹھانے پر مجبور ہوگئے تھے۔ یہ ان گناہ گاروں کے خراب اعمال کا نتیجہ تھا کہ بدلے میں سبز عمامہ پوش ہماری مدد کو نہ آئے۔ اب ہم نے اس سولہ دسمبر کی خفت کو مٹانے کے لیے اس دن کے لیے ایک اور ہی داستان عبرت اپنے پرائمری جماعت کے نصاب میں شامل کر لی ہے۔ شجاعت اور بہادری سے معمور کہانی۔ جو ہمارے جذبہ ایمانی کو تازگی عطا کرتی ہے۔ ارے فتح تو ہم نے کارگل پر بھی حاصل کرلی تھی۔ نہ ہوتے یہ ناعاقبت اندیش سیاست داں تو آج ہمارا اس پر بھی قبضہ ہوتا۔ اور اس پر بھی جسے ہم ان کے کالے کرتوت کی بنا پر ہار دیا۔
ہم ایسی تمام جنگوں میں جن میں سیاست داں وردی والے پر اور وردی والے سیاست داں پر کیچڑ اچھالیں دشنام طرازی کریں اور عدلیہ ان کے ہاتھوں میں کھلونا بنی، بھاری پلڑے کو حق پر قرار دے یا میڈیا کے چاپلوس اپنی مٹھی کو گرم کرواکر سچ کو جھوٹ اور ناحق کو حق ثابت کریں، ایسی سب کی سب جنگیں وقت کا زیاں ہے۔ تنزلی کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے۔
قانون کو شفاف اور قابل عمل بنا کر مجرم کو سزا اور بے قصور کو بری الذمہ قرار دے کر ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالیں۔ غربت، بے روزگاری، اور فروعی مسائل سے جنگ ہماری اصل جنگ ہے۔ اس چھ ستمبر کو اس جنگ میں شامل ہونے کا عہد کریں۔