ڈاکٹر فضل الرحمان: رجعت پسند طبقہ اور تاریخ کا جبر
- تحریر سلمان یونس
- منگل 08 / ستمبر / 2020
- 12930
عام طور پر ڈاکٹر فضل الرحمان کے نام سے جانے جانے والے اسلامی علوم کے ماہر فضل استمبر 1919 کو برطانوی ہند کے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خوا) کے علاقہ ہزارہ میں واقع ضلع ہری پور کے قصبے سرائے صالح میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد ، شہاب الدین ، ہندوستان کے مشہور دینی مدرسے دارالعلوم دیوبند فارغ التحصیل عالم تھے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کرنے کے بعد اپنے والد سے روایتی دینی علوم کی تحصیل کی۔ 1934 میں ان کا خاندان ہزارہ سے پنجاب کے شہر لاہور منتقل ہو گیا۔ 1942 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے عربی کے اختیاری مضمون کے ساتھ بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فضل الرحمن نے 1944 میں پنجاب یونیورسٹی ہی سے اعلی اعزاز کے ساتھ عربی زبان میں ایم اے کیا ۔ جس کے بعد سکالرشپ پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں ممتاز اسکالر ایچ آر گیب کی زیر نگرانی قرون وسطی کے مسلمان فلسفی بوعلی سینا پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے انگلینڈ کی ڈرہم یونیورسٹی اور کینیڈا کی میک گیل یونیورسٹی میں پڑھایا۔
ڈاکٹر فضل الرحمان 1961 میں صدر ایوب خان کی درخواست پر پاکستان آ کر ادارہ تحقیات اسلامی کی صدارت سنبھالی جس کا مقصد جدید مسائل کا اسلامی بنیادوں پر حل فراہم کرنا تھا ۔ غیر روایتی آرا کے باعث فضل الرحمان کو روائیتی علما کی طرف سے شدید تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا بالاخر یہ مخالفت اس حد تک بڑھی کہ 1968 میں انہیں انسٹی ٹیوٹ سے استعفیٰ دے دے کر ملک چھوڑنا پڑا۔ دیار غیر میں رہتے ہوئے ڈاکٹر فضل الرحمان نے اسلام پر تحقیقی کام جاری رکھتے ہوئے کئی قابل قدر کتب اور مقالے تحریر کیے۔
26 جولائی 1988 کو بیسویں صدی کے برصغیر کا یہ غیر معمولی، غیر روایتی امریکہ کے شہر شکاگو میں راہی عدم ہوا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں فضل الرحمان کے بڑے ناقد روائتی علما کی اکثیرت نے ڈاکٹر فضل الرحمان کے کام جو انگریزی زبان میں تھا کو براہ راست پڑھے بغیر ہی ان پر تنقید اور فتوؤں کا بازار گرم کیے رکھا۔
فضل الرحمان کے والد روایتی عالم تھے اور مشہور عالم و سیاسی مفکر عبید اللہ سندھی کے ہم عصر اور دوست بھی تھے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے نوجوانی میں عبید اللہ جو خود بھی غیر روایتی سوچ اور غیر معمولی تنوع فکر کے حامل تھے، کی اپنی والد کے ساتھ بحث و مباحثے بھی دیکھ رکھے تھے۔ جن میں ایک طرف اپنے ماحول میں قید، جامد اور لگی بندھی سوچ کا شخص اور دوسری طرف فکری و عملی طور پر سرگرم و جہاندیدہ آدمی تھا۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے پروفیسر سرور جامعی کو بتایا تھا کہ بسا اوقات جب بحث مباحثہ بڑھ جاتا تو عبیداللہ سندھی نوجوان فضل الرحمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، مولانا شہاب الدین سے کہتے تھے کہ یاد رکھو اگر مولوی لوگ سدھرو گے نہیں تو ایک دن تم اپنے ان لڑکوں کے ہاتھوں قتل ہوگے۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مولانا کی مراد جسمانی قتل نہیں بلکہ جس جامد اور رجعت پسند فکر پر دینی طبقہ ڈٹا ہؤا تھا، اس فکر کا نوجوان نسل کے ہاتھوں خاتمہ مراد تھا۔ چنانچہ بقول فضل الرحمان فکری طور پر جس نکتہ نظر کے وہ بعد ازاں قائل و نقیب ہوئے وہ بقول عبید اللہ سندھی کے رجعت پسند فکر کا قتل ہی تھا۔
عبیدااللہ سندھی کی طرح فضل الرحمان کے ناقدین کی ایک بڑی تعداد بھی آج چالیس پچاس سال بعد بہت سے معاملات مثلا بینکاری وغیرہ کے بارے میں ان کی آرا پر بغیر تسلیم کیے عمل پیرا ہے۔ لاؤڈ سپیکر، تصویر اور ٹی وی وغیرہ تو کب کا حلال ہو چکا ۔ یہی تاریخ کا جبر کہلاتا ہے۔
ڈاکٹر فضل الرحمان کے چند اقوال :
مذہبی طبقہ جس کا منصب اخلاقی، روحانی و فکری راہنمائی ہونا چاہیے، کی بدعنوانی کسی معاشرے کے زوال کی ٓاخری سیڑھی ہوتی ہے
تمام انسانی حقوق کا جوہر پوری انسانیت کی مساوات ہے، جسے قرآن نے نہ صرف بیان کیا بلکہ اس کی تصدیق بھی کی۔ قرآن نے نیکی اور تقوی کے علاوہ خدا کے سامنے کسی بھی اور نسلی، رنگ یا خون کے امتیاز کو ختم کردیا۔ قرآن مجید کی طرف سے انسانی مساوات پر زور دینے کی وجہ یہ ہے کہ تمام مخلوقات میں صرف بنی نوع انسان ہی ایک جنس (سپیشی ) ہے جس میں عقل، دانش اور فلفسیانہ موشگافیوں کے نام پر بنی آدم کے درمیان مجرمانہ امتیاز اپنی مکروہ شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے
آخری تجزیے میں کسی دوسرے کے ساتھ کی جانی والی تمام برائی، ناانصافی، نقصان اور انحراف دراصل انسان آپ ہی سے کرتا ہے، صرف استعاراتی طور پر نہیں بلہ حقیقی معنوں میں بھی
کامیاب انسان وہ ہے جو خود کو اپنی ہی خود غرضی سے بچا لیں (معروف مسنون دعا (نعوذ باللہ من شرور انفسنا)