ساجد گوندل گھر پہنچ گئے لیکن اغوا ہوئے تھے یا تفریح پر گئے تھے
- بدھ 09 / ستمبر / 2020
- 7320
اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ایڈیشنل جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل منگل کو بازیاب ہو گئے لیکن ان کی رہائی کے بارے میں بے یقینی موجود ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے ساجد گوندل کی بازیابی کے لیے تین رکنی کابینہ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کے فوری بعد ان کی رہائی کی خبر سامنے آئی۔ ساجد گوندل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے رہائی کی تصدیق کی اور بعدازاں اُن کی اہلیہ نے بھی تصدیق کی کہ ساجد گوندل کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ ساجد گوندل نے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ وہ واپس آ گئے ہیں۔ انہوں نے اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جو ان کے حوالے سے فکر مند تھے۔
ساجد گوندل اپنی رہائی کے بعد شہزاد ٹاؤن میں واقع اپنے گھر پر نہیں آئے بلکہ ان کی اہلیہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساجد اپنے آبائی گاؤں سرگودھا کے لیے روانہ ہوئے ہیں اور اب وہ سب بھی سرگودھا جا رہے ہیں۔ سجیلہ ساجد نے کہا ہے کہ وہ ان تمام افراد کی شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کے خاوند کی رہائی کے لیے آواز بلند کی اور ان ہی کی کاوشوں کی وجہ سے ساجد کو رہا کیا گیا ہے۔
ساجد کو کس نے اغوا کیا اور کیا واقعات پیش آئے؟ اس بارے میں سجیلہ نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ساجد گوندل کی رہائی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ہی کہا جارہا تھا کہ وہ اپنے گھر نہیں آئیں گے اور مبینہ طور پر میڈیا سے انہیں دور رکھنے کے لیے آبائی علاقے میں جانے کا کہا گیا تھا۔ ساجد کی رہائی کے بعد ساجد گوندل کی سوشل میڈیا پر مختلف تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں وہ بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ سفید شرٹ میں ملبوس نظر آ رہے ہیں۔ پولیس حکام نے تصدیق کی کہ ان کی ساجد سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ خیریت سے ہیں۔
ایس ای سی پی افسر کی رہائی کے بعد وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نے کابینہ اجلاس میں واضح طور پر کہا تھا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ تمام جرائم کے خلاف قوانین کی موجودگی میں لوگوں کو غائب کردیا جائے۔ ساجد گوندل کی گمشدگی کے معاملے پر وزارتِ داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو سخت احکامات دیے گئے تھے۔ ساجد گوندل کا بخیر و عافیت واپس آنا بہت اچھا ہے۔
ایس ای سی پی کے افسر ساجد گوندل تین ستمبر کو اسلام آباد سے لاپتا ہوئے تھے۔ پولیس کو ان کی سرکاری گاڑی چار ستمبر کی صبح شہزاد ٹاؤن میں واقع زرعی تحقیقاتی مرکز کے باہر سے ملی تھی۔ ساجد کی کی اہلیہ کے مطابق تین ستمبر کی شام کو ان کے خاوند گھر سے نکلے اور پھر واپس نہ آئے۔ ساجد گوندل کہ اہلیہ کی درخواست پر اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ اس مقدمے میں نامعلوم افراد کے خلاف ساجد گوندل کو اغوا کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس دوران ٹی وی چینل نیوز 24 نے خبر دی ہے کہ ساجد گوندل نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تفریح کے لیے شمالی علاقہ جات چلے گئے تھے۔ بازیابی کے بعد پولیس کو بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خاندان سے رابطہ نہیں کر سکے تھے کیونکہ ان کا فون بند ہو گیا تھا۔ یہ بتایا جا رہا ہے کہ ساجد گوندل اپنا حتمی بیان ایک مجسٹریٹ کے سامنے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ کروائیں گے۔
ساجد گوندل کا یہ دعویٰ ان کے خاندان اور سول سوسائٹی کے اس تاثر کے قطعاً برعکس ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا تھا اور یہ مسلسل خبروں میں آ رہا تھا اور اس کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے تھے۔ یہ ذرائع کی ان خبروں کے بھی خلاف ہے جو بتا رہی تھیں کہ انہیں منگل کی رات روات کے نزدیک رہا کیا گیا تھا جہاں سے انہوں نے فون کے ذریعے اپنے خاندان سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ ٹھیک ہیں اور جلد ان سے آن ملیں گے۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ساجد گوندل کی گمشدگی کی درخواست پر سماعت کی تھی۔ یہ درخواست ان کے اہل خاندان کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے ایک شہری کے اغوا پر سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ ساجد گوندل ایس ای سی پی میں ملازمت سے قبل نجی نیوز چینل 'ڈان' سے وابستہ تھے اور ایک میگزین بھی نکالتے تھے۔ لیکن ایس ای سی پی میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے یہ میگزین بند کر دیا تھا۔
حالیہ دنوں میں صحافی احمد نورانی کی طرف سے چیئرمین 'سی پیک اتھارٹی' لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے اہلِ خانہ کے بیرونِ ملک اثاثوں سے متعلق ایک خبر شائع ہوئی تھی جس کے بعد ساجد گوندل کے غائب ہونے پر قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ اُنہیں اس خبر میں احمد نورانی کی معاونت کرنے پر اغوا کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی اہلیہ نے اس کی تردید کی ہے۔
بعض حلقے ساجد کے اغوا کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھہرا رہے ہیں تاہم پاکستان کی حکومت اس کی تردید کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے بھی ساجد کے لاپتا ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ساجد گوندل کی رہائی سے چند گھنٹے قبل ایس ای سی پی نے بھی پہلی مرتبہ اپنے افسر کے غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ساجد گوندل کو بازیاب کروانے کا کہا تھا۔