نواز شریف کی عدالت میں حاضری سے معذرت، میڈیکل رپورٹ پیش کردی
- بدھ 09 / ستمبر / 2020
- 4820
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں اُن کے موکل کی اپیل پر اُن کی عدم موجودگی میں سماعت جاری رکھے. نواز شریف بیرون ملک سے اپنا علاج چھوڑ کر پاکستان میں عدالت کے روبرو پیش ہونے سے قاصر ہیں۔
چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز کے ریفرنس میں سزا کے خلاف مجرم میاں نواز شریف کی طرف سے دائر کردہ اپیل کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ پہلے وہ خود کو سرینڈر کریں جس کے بعد اُن کی اپیل پر سماعت ہو گی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دی جانے والی ضمانت ختم ہو چکی ہے لہذا نواز شریف 10ستمبر تک اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کریں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں مجرم نواز شریف کو اشتہاری بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ جمعرات کو اس اپیل کی سماعت کرے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے بھی آئندہ سماعت پر سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست کے ساتھ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے جو کہ چار ستممبر کو جاری کی گئی تھی۔ اس سے پہلے عدالت میں سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں جو رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی وہ 26اگست کی تھی۔
خواجہ حارث کے مطابق اس درخواست کے ساتھ ان کے موکل کے علاج کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس اور امریکہ میں ان کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر فیاض شال کی شفارشات بھی لف ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ سفر کر سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جب ان کا علاج مکمل ہو گا اور ڈاکٹر سفر کرنے کی اجازت دیں گے تو وہ واپس آ جائیں گے۔
اس درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو بیرون ملک اجازت دینے کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے اور اس عدالتی فیصلے میں وفاقی حکومت سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ سمجھے کہ مجرم نواز شریف کی صحت ٹھیک ہے اور وہ جان بوجھ کر وطن واپس نہیں آ رہے تو وفاقی حکومت ان کی ذاتی معالج سے رابطہ کر کے ان کی صحت کے حوالے سے مستند رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو نہ تو وفاق اور نہ ہی نیب کی طرف سے چیلنج کیا گیا ہے۔ اس درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ پہلے اس معاملے کا لاہور ہائی کورٹ سے فیصلہ ہو لینے دے۔
درخواست پر اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے یہ آبزرویشن کہ سابق وزیر اعظم جب بیرون ملک گئے تھے تو وہ عدالت کو بتا کر نہیں گئے، حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ کیونکہ میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی تھی تو عدالت میں ان کی حاضری سے استثنی کی درخواست دی گئی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مجرم علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے ہیں اور عدالت نے ان کی استثنی کی درخواست کو منظور کیا تھا۔
درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد ہائی کورٹ نے جب سابق وزیر اعظم کو آٹھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی اس میں یہ کہیں نہیں لکھا گیا تھا کہ میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے یا وہ اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔
قانونی ماہر شاہ خاور کا کہنا ہے کہ اپیل کی سماعت کے دوران اپیل کنندہ کا عدالت میں پیش ہونا ضروری نہیں ہے اور عدالت اس کی عدم موجودگی میں بھی اس کارروائی کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس کسی بھی شخص کو اشہتاری قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی کو اشتہاری قرار دینے کا اختیار مجسٹریٹ کے پاس ہے۔ چونکہ احتساب عدالت کے جج کے پاس مجسٹریٹ کے اختیارات بھی ہوتے ہیں اس لیے وہ اس معاملے کو احتساب عدالت میں بھیج سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں احتسا ب عدالت کے جج ارشد ملک نے قید کی سزا سنائی تھی تاہم ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس کے بعد مذکورہ جج کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اُنہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ نواز شریف نے جج ارشد ملک کے مبینہ متنازع فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر رکھی ہے۔
اس سے قبل بدھ ہی کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں حاصل کرنے کے مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کر دی ہے جبکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دائمی وارنٹ جاری کرتے ہوئے اُنہیں اشتہاری قرار دے دیا ہے۔