اوورز پاکستانی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں: وزیر اعظم

  • جمعرات 10 / ستمبر / 2020
  • 4370

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ منصوبے کی بدولت انہیں پاکستان کے کاروبار میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں اور اس بڑے اثاثے سے ہم ابھی تک فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ہندوستان اور چین نے جب پیش رفت شروع کی تو ان کو سب سے پہلے سرمایہ کاری اوورسیز شہریوں سے ملی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جس طرح اس اثاثے کو پاکستان لا کر جس طرح ان لوگوں کو قوم کی تعمیر میں مدد کرنی تھی، وہ بدقسمتی سے اب تک نہیں ہوئی۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اس جانب پہلا بڑا قدم ہے اور یہ پاکستانیوں کو ملک کے کاروباروں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جیسے ہمارا تعمیرات کا منصوبہ ہے۔ جبکہ بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور ایم ایل ون کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ پہلی مرتبہ پاکستان کی تاریخ میں نئی ریلوے بنانے لگے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم دو بڑے شہر بھی بنا رہے ہیں جن میں سے ایک سندھ اور دوسرا لاہور میں بنایا جا رہا ہے۔ ان سب میں ہمیں اوورسیز پاکستانیوں کی شرکت کروانا ہے۔ ہمارے چینجز یہ ہیں کہ ہم پر اتنے قرضے چڑھے ہوئے ہیں کہ ہم جتنا بھی پیسہ اکٹھا کرتے ہیں تو وہ قرضوں کی قسط میں چلا جاتا ہے۔ ملک کے لیے جو پیسہ بچتا ہے وہ کافی نہیں ہے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں مین اضافہ ہو۔ ہمارے پاس پیسہ اتنا آ جائے کہ ہم قرضے واپس کر سکیں اور اس کے لیے ہمارا تعمیرات کا پیکج ہے جس کا مقصد ہے کہ یہ دو بڑے شہروں میں اتنی معاشی سرگرمیاں ہوں کہ معیشت کا پہیہ چلے اور ریونیو بڑھے گا۔

عمران خان نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو برآمدات اور درآمدات میں 40ارب ڈالر کا خلا موجود تھا، ہم 20ارب ڈالر کی برآمدات کر رہے تھے اور 60ارب ڈالر کی درآمدات کر رہے تھے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی تاریخی تھا۔ ڈالر کی کمی کا براہ راست روپے پر اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ڈالرز کی کمی ہوتی ہے تو روپیہ گرنا شروع ہوجاتا ہے، جب روپیہ گرتا ہے تو چیزیں مہنگی ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے کیونکہ جن لوگوں نے باہر سے پیسہ لگانا ہوتا ہے وہ سوچتے ہیں کہ اگر روپے نے گرنا ہی ہے تو وہ ڈالر میں ہی پیسہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ وسائل پیدا کرنے اور ڈالرز بڑھانے کے لیے ہمیں اوورسیز پاکستانیوں کی بہت ضرورت ہے۔ ان کی ترسیلات زر بڑھ گئی ہیں لیکن اب ہم ایسی چیز چاہتے ہیں کہ جس سے ان کی اس ملک میں سرمایہ کاری آئے۔ ابھی تک ہم انہیں سرمایہ کاری کے لیے کوئی قابل عمل چیز پیش نہیں کر سکے لیکن یہ ہمارے دو بڑے منصوبے ہیں اور کیونکہ وہ پراپرٹیز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ ان کے لیے سرمایہ کاری کا بہترین موقع ہو گا۔