کھانا انسانی زندگی کے لئے لازم ہے مگر ۔۔۔
- تحریر فرید سعیدی
- جمعرات 10 / ستمبر / 2020
- 6490
کچھ لوگ کھانے کے لئے جیتے ہیں، کچھ جینے کے لئے کھاتے ہیں۔ کھانا انسانی زندگی کے لئے لازم ہے مگر جس طرح کسی بھی چیز کی زیادتی یا انتہا نقصان دہ ہوتی ہے، اُسی طرح زبان کے چٹخارے کے لئے کھانے کی دیوانگی نہ صرف صحت کو خراب کرتی ہے بلکہ کبھی کبھی موت کا بھی باعث بن جاتی ہے۔
افریقہ کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں کھانے کے لئے کچھ میسر ہی نہیں ہے۔ وہاں کے لوگوں کو دیکھوتو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہڈیوں پرکھال کا خول چڑھا دیا گیا ہو۔ میں نے وہاں کا ایک فوٹو دیکھا میں لرز گیا۔ ایک بیس، بائیس سال کا نوجوان جسے نوجوان بھی نہیں کہا جا سکتا، کھانے کی تلاش میں جا رہا تھا لیکن بھوک کے مارے وہ اس حال کو پہنچ گیا تھا کہ اپنے پاؤں پر کھڑا بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ زمین پر رینگ رہا تھا اور تھوڑی دور پر گِدھ اُس کے مرنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جس فوٹو گرافر نے یہ فوٹو دیا تھا اُس کا ذہن اس حد تک ارتعاش کا شکار ہوا تھا اور اُسے یہ منظر کو دیکھ کر اس حد تک تکلیف پہنچی تھی کہ آخر میں اُس نے خود کُشی کرلی۔
ہم کو اللہ نے کھانے پینے کی بے حساب نعمتوں سے نوازا ہے، اُس کے لئے ہم اُس کا جس قدر بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ ہمارے یہاں دولت کی جو انتہائی نا مناسب تقسیم ہوئی ہے اُس کا یہ بدترین نتیجہ نکلا ہے کہ کچھ لوگ بچا ہوا کھانا کچرے کے ڈبے میں ڈال کر آتے ہیں اور کچھ لوگ کچرے کے ڈبوں میں سے اُٹھا کر پڑا ہوا کھانا کھاتے ہیں۔ ریلوے پلیٹ فارم پر غریب پھینکے جانے والے کھانے پر جھپٹتے ہیں۔
کھانے کا صحیح طریقہ اور کھلانے کا صحیح طریقہ ماں کے دودھ پلانے سے شروع ہوتا ہے۔ اگر صحیح طریقے سے ماں اپنے سینے سے دودھ پلاتی ہے تو اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس بچے کی آئندہ زندگی میں انتہائی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اُس میں غیر ضروری وزن پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ ڈبے کا دودھ پلانے میں جو غیرضروری جراثیم بچے کے جسم اور خون میں شامل ہوجا تے ہیں اور بیماری کا سبب بنتے ہیں اُس سے بھی وہ بچہ محفوط رہتا ہے۔
کھانا آدمی کو اُس لحاظ سے کھانا چاہئے کہ وہ زندگی میں وہ کس طرح کی جسمانی مشقت کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی روز مرہ کی جسمانی مشقت سے زیادہ کھانا کھائے گا تو اُس کا بیمار پڑنا لازم ہے۔ کیوں کہ کھانا انسانی جسم کو تقویت پہنچاتا ہے جو اس کے کاموں میں صرف ہوتی ہے۔ اِس میں ایک توازن ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر ہم کسی ٹنکی میں پانی بھرتے جائیں اور وہ اوور فلو ہو جائے اُس میں سے پانی کی نکاسی نہ ہو تو وہ ٹنکی پھٹ جائے گی۔ یہی انسانی جسم کا معاملہ ہے۔
اِس وقت سائنس اور ٹیکنولاجی نے ترقی کرکے طعام کے سلسلے میں کئی اُصول ایجاد کئے ہیں۔ مثلاً غذائیت کے ذریعے جو تقویت جسے عرفِ عام میں کلیوری کہا جاتا ہے۔ اُس کے حصول کے لئے آپ کے جسم میں دس فیصد سے زیادہ چربی نہ ہو۔ اِسی طرح خاطر خواہ تقویت کے لئے کھانے میں دس فیصد سے زیادہ شکر نہ ہو اور نہ ہی روزانہ کھانے میں پانچ گرام سے زیادہ نمک استعمال کرنا چاہئے۔ اِن چیزوں کی احتیاط سے ذہنی کھچاؤ اور دل کی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔
یہ تو ہوا کہ کھانے میں کیا کھایا جائے۔ اِس کا دوسرا پہلو کھانا کس طرح کھایا جائے۔ اِس سلسلے میں میں اُس شخصیت کی کچھ احادیث پیش کرنا چاہتا ہوں جو عرب کے بے تاج بادشاہ تھے اور جن کے نوک ِقلم پر پوری ریاست کا خزانہ تھا لیکن اُنہوں نے اور اُن کے گھر والوں نے کبھی دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔ محمد ﷺ نے کبھی طشتری رکھ کر یعنی ایک وقت مختلف قسم کا کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی آپ نے میز پر کھانا کھایا اور نہ کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھایا۔ حضرت ابو ہریرہ سے یہ حدیث منقول ہے کہ محمد ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔ عمربن سلمان ؓ نے بیان کیا کہ میں آپ کی پرورش میں تھا، میرا ہاتھ کھانا کھاتے وقت برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا تھا اِس لئے آپ نے مجھ سے فرمایا بیٹے بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کر اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تم سے نزدیک ہو۔ محمد ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا خادم اُس کا کھانا لائے تو اگر وہ اِسے اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتا تو کم ازکم ایک یا دو لقمے اِس کھانے میں سے اُسے کھلا دے، اُس نے اِس کی گرمی یعنی کھانا پکاتے وقت کی گرمی اور تیاری کی مشقت برداشت کی۔
اب دوسری جانب میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ انسان جو کچھ بھی کھائے اور اپنے گھر والوں کو جو کچھ بھی کھلائے وہ جائز حلال کمائی کا ہو، اگر لوگوں کے حقوق غصب کر کے حرام کمائی سے پیٹ بھرا جائے گا چاہے وہ مرغن غذائیں ہی کیوں نہ ہوں تو اُس سے جو خون بنے گا وہ دوسروں کے خو ن کے آنسوؤں کا نتیجہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ اپنے خادم کو بھی اپنے کھانے میں شریک کرلو اِسی لئے علامہ اقبال کے اس شعر پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں:
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشہئ گندم کو جلا دو