افغان حکومت کے ساتھ بین الافغان مذاکرات ہفتے سے شروع ہوں گے: طالبان
- جمعہ 11 / ستمبر / 2020
- 5850
طویل انتظار کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بین الافغان امن مذاکرات ہفتے سے شروع ہورہے ہیں۔ فریقین نے دوحہ میں ہونے والے ان مذاکرات کی تصدیق بھی کی ہے۔
طالبان اور قطر کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو اپنے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ بین الافغان امن مذاکرات کے لیے طالبان اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان پہلی مرتبہ براہِ راست بات چیت ہو گی۔ طالبان کے دوحہ آفس کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے جمعرات کو ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان افغان امن معاہدے کے تحت اگلے مرحلے کے لیے بین الافغان امن مذاکرات کے سلسلے میں طالبان تیار ہیں۔ ترجمان کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور ہفتے سے شروع ہو گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان مذاکرات کا عمل احسن طریقے سے انجام دینے کے خواہش مند ہیں تاکہ افغانستان میں دیرپا امن اور خالص اسلامی روایات کے مطابق اسلامی نظام لایا جائے۔ طالبان کی 21 رکنی مذاکراتی ٹیم کی قیادت مولوی عبدالحکیم کر رہے ہیں۔ اُنہیں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا قابلِ اعتماد ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔ وہ طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں قائم عدالتی نظام کے سربراہ بھی ہیں۔ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں رہبری شوریٰ کے 13 ارکان بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب افغان حکومت کی جانب سے وفد کی سربراہی محمد معصوم ستنکزئی کریں گے۔ افغان حکومت کی ٹیم میں خواتین بھی شامل ہیں جب کہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں کوئی خاتون شامل نہیں۔ طالبان کی جانب سے بین الافغان مذاکرات کے اعلان کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو مذاکراتی عمل میں شرکت کے لیے قطر کا دورہ کریں گے۔
دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے بھی ایک ٹویٹ میں تصدیق کی ہے کہ افغان وفد مذاکرات کے لیے دوحہ کا دورہ کرے گا اور صدر غنی مذاکراتی ٹیم کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔
ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک بیان میں بین الافغان مذاکرات کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام ایک عرصے سے جنگوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ افغانستان سے طویل جنگ اور خون خرابے کے خاتمے کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس فروری کے آخر میں طالبان اور واشنگٹن کے درمیان دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پہلے مرحلے میں طالبان اور افغان قیدیوں کے تبادلے کے بعد بین الافغان امن مذاکرات ہونا ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد افغانستان سے طویل جنگ کا خاتمہ ہے۔ معاہدے میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا بھی شامل ہے۔ اب تک امریکہ نے افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد 13 ہزار سے گھٹا کر 8600 کر دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل میکنزی نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ نومبر تک افغانستان سے امریکی فوجیوں کی تعداد پانچ ہزار سے بھی کم کر دی جائے گی۔ افغانستان میں جنگ بندی کے خاتمے اور شراکتِ اقتدار کے معاملات پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو مشکل تصور کیا جا رہا ہے۔ دونوں جانب سے جنگ بندی کے خاتمے اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پر بحث ہوگی۔
طالبان پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں کہ خواتین کو اسکول جانے کی اجازت دی جائے گی اور وہ کام کے علاوہ سیاست میں بھی حصہ لے سکیں گی۔ طالبان کا اس بات پر بھی زور ہے کہ ایسی اجازت اسلامی اصولوں کے تحت حاصل ہو گی۔